
۔،۔ فرینکفرٹ چیمبر آف کامرس میں پاکستان ور جرمنی کے درمیان تجارت۔ تعلیم اور کھیلوں کے فروغ پر اہم ملاقات۔ نذر حسین۔،۔
٭چیئرمین۔پرائم منسٹر یوتھ پروگرام برائے یورپین یونین کے کو آڈینیٹر حافظ عبد الرحمان نے فرینکفرٹ چیمبر آف کامرس کے دفتر میں چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹری کے ڈائریکٹر مسٹر یوہانس رسٹر سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان۔ تجارت، تعلیم، نوجوانوں کی ترقی اور کھیلوں کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/اسلام آباد۔ چیئرمین۔پرائم منسٹر یوتھ پروگرام برائے یورپین یونین کے کو آڈینیٹر حافظ عبد الرحمان (Hafiz Abdur Rehman) اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹر مسٹر یوہانس رشٹر (Johannes Richrer) کے درمیان ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہنے والی ملاقات میں پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک مزید موئثر رسائی فراہم کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا، دو طرفہ تعاون کے فروغ پر بات کرتے ہوئے، پاکستانی چاول، آم، اور دیگر پھلوں کے علاوہ خصوصی طور پر ٹیکسٹائل اور لیدر(چمڑے) کی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور یورپی مارکیٹ میں ان کی موجودگی مضبوط بنانے سے متعلق مختلف تجاویز زیر بحث آئیں۔ جبکہ حافظ عبد الرحمان نے میڈیکل، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور انجینئرنگ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی طلبہ کے لئے جرمن جامعات میں اعلی تعلیم اور تحقیق کے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا، ان ا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ملاقات کے دوران کھیلوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کی مختلف کھیلوں کی ٹیموں کے جرمنی کے دوستانہ دورے اور مقابلے دونوں ممالک کے درمیان خیر سگالی، ثقافتی روابط اور عوامل سطح پر تعلقات کو فروغ دبنے کا موئثر ذریعہ ثابت ہوں گے۔ دونوں رہنماوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور جرمنی تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، نوجوانوں ی فلاح اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں مبں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے حافظ عبد الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے لئے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی مصنوعات کو یورپین منڈیوں تک بہتر رسائی، نوجوانوں کے لئے معیاری تعلیمی مواقع اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور عوامی روابط مزید مستحکم ہوں گے۔

