
۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں عالمی مشاعرہ،یورپ بھر کے شعراء کرام کی شرکت،محرم الحرام پر امام حسینؓ کو منظوم خراج عقیدت۔ نذر حسین۔،۔
٭اربابِ ادب انٹرنیشنل اور ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام، سید اقبال حیدر کی زیر صدارت ایک شاندار عالمی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، اس ادبی تقریب میں جرمنی سمیت یورپ کے مختلف ممالک سے نامور شعرائے کرام، ادیبوں اور ادب دوست افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ سفارتخانہ پاکستان سے پریس اتاشی ڈاکٹر سہیل آفتاب اور فرسٹ سیکریٹری علی شاہد نے خصوصی شرکت کی۔قائم مقام قونصل جنرل۔ہیڈ آف چانسلری فرینکفرٹ فہد الرحمان نے فیملی کے ساتھ خصوصی طور پر شرکت کی٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ ایک طرف دنیا کی (نُو بلین) کی آبادی بارود کے ڈھیر پر سگریٹ سلگائے بیٹھی ہے اور ددوسری طرف سید اقبال حیدر جیسے لوگ اس بارود پر چنگاری نہ پڑنے کی قسم کھائے بیٹھے ہیں، ایک شاعر اور عام انسان میں یہی فرق ہوتا ہے، شاعر کو خطرے کا اندازہ ہوتا ہے، حالات کس رُخ پر آگے بڑھ رہے ہیں، کہاں کہاں کیا ہونے والا ہے، اس کا احساس اور اندازہ شاعر کو ہو جاتا ہے۔ وہاں موجود عالمی شہرت یافتہ شاعروں کی پیشانیوں سے علم و ادب کی کرنیں پھوٹتی نظر آ رہی تھیں۔ ذہانتوں کو جملوں میں تبدیل کر دینے کا سلیقہ جاننے والی شخصیات روشن چراغ کی طرح محفل میں موجود تھیں جن کی عظمتوں کو نہ تسلیم کرنا اردو کے ساتھ نا انصافی ہو گی۔ ہمیشہ کی طرح عالمی مشاعرے کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کا شرف مالین راجپوت کو ملا،حمد باری تعالی صفا زاجپوت نے پیش کی، نعت رسول ﷺ ردا حیدر نے پیش کر کے داد حاصل کی، بعد ازاں ٭ ظفر اللہ محمود،٭عطا الرحمن اشرف ٭ارشاد ہاشمی ٭اعجاز راجپوت ٭مدبر احسن ٭سائمہ کنول ٭شفیق مراد ٭شازیہ نورین ٭طاہر ادیم ٭ عدنان محسن٭فہیم اختر٭ یشب تمنا٭ اور سید اقبال حیدر نے منقبت پیش کر کے خوب داد حاصل کی،محفل کو تاریخی بنانے کے لئے تمام شعراء حضرات کو شیلڈ پیش کی گئیں جبکہ ان کے گلے میں شال بھی ڈالی گئیں۔ شعراء حضرات نے اپنے اپنے پیغام میں دنیا میں ہونے والے ظلم و ستم اور مظلوموں پر شعر فرمائے۔
(عالمی پس منظر بھی نظر میں ہے ٭ملکی اور قومی منظر پر بھی نگاہ ہے ٭کون سی بات کہاں اور کیسے کی جاتی ہے٭یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے)
ڈاکٹر سہیل آفتاب نے اپنے پیغام میں منتظمین کو دلی مبارک باد پیش کی کہ وہ پاکستان سے دور جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں اردو زبان کی آبیاری کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، مجھے یہ دیکھ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ نہ صرف جرمنی بلکہ یورپ کے کونے کونے سے شعرا تشریف لائے ہیں، میں پریس اتاشی ہونے کے اعتبار سے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرواتا ہوں جب بھی ایسی محفلیں سجائی جائیں گیں ہم پیش پیش ہوں گے اور پورا پورا تعاون بھی کریں گے۔ جیکہ برطانیہ سے تشریف لانے والے عالمی شہرت یافتہ شاعر، ادیب اور کتابوں کے مصنف فہیم اختر نے اپنے پیغام میں کہا کہ سب سے پہلے سید اقبال حیدر اور محمد حسن کا شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے اتنا خوبصورت پروگرام ترتیب دیا جس کو میں تاریخی پروگرام کہوں گا کہ تمام شعراء جو نہ صرف فرینکفرٹ جبکہ پورے یورپ سے شعراء حضرات تشریف لائے ہیں جبکہ ہم برطانیہ سے شرکت کے لئے آئے ہیں۔ ہمیں عالمی مشاعرہ بہت اچھا لگا جبکہ خصوصی طور پر اس بات کی خوشی ہے کہ ینگ جنریشن بھی اس مشاعرے میں حصّہ لے رہی ہے، ہم نے جب بچوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ شاعری کی یہ نشست بہت اچھی لگی ہے ہماری حوصلہ افزائی ہے کہ ینگ جنریشن کو ہماری شاعری پسند آئی ہے۔ مسز راجپوت نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ۔آج کے پروگرام میں لوگ دور دراز سے آئے اور ہمارے بچے بھی دلچسپی لیتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ سید اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ نہ صرف جرمنی بلکہ یورپ بھر سے شعراء حضرات نے بھرپور شرکت کی اور بچوں نے دلچسپی دکھا کر محفل کو اور بھی رونق بخشی، آئندہ ہماری کوشش ہو گی کہ ایسی نشستوں میں بچے بھی ضرور تشریف لائیں، نشست کے بعد مہمانوں کی سموسوں اور اور دوسری کھانے پینے کی چیزوں سے ریفریشمنٹ دی گئی ۔ اور پاکستانی لذیز کھانے بھی پیش کئے گئے۔ آخر میں کہنا چاہوں گا کہ پچھلی سات صدیوں سے شاعری پر نظر ڈالئے تو اس کے چہرے (مکھڑے) پر صرف ایک لفظ نظر آئے گا ٭سچائی، دوسر حسن اور تیسرا لفظ محبت اگر تینوں باتوں کو تلاش کیا جائے تو آپ کو خانقاہوں میں جانا پڑے گا، پیروں اور بزرگوں کی صحبت اختیار کرنا پڑے گی، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اردو زبان جو ہے اس کا تعلق۔درباروں سے بھی ہے۔ خانقاہوں سے بھی ہے۔ بازاروں سے بھی ہے۔یہ غالب کی چوکھٹ کی بھی زبان ہے۔خانقاہوں سے ہمیں روحانیت حاصل کرنی چاہیئے۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ سفید میں کوئی بھی رنگ ملاوُ تو نیا رنگ بن سکتا ہے۔لیکن دنیا کے تمام رنگ ملا کر بھی سفید رنگ نہیں بن سکتا۔اسی لئے زندگی میں جو چاہو حاصل کر لو،بس اتنا خیال رکھنا کہ آپ کی منزل کا راستہ کبھی لوگوں کے دلوں کو توڑتا ہوا نہ گزرے۔

























































































