۔،۔ دریائے نیکر کے کنارے  ہائیڈل برگ (اقبال اُوفر)پر 14ویں عالمی فرشی شعری نشست٭پیادِ گوئٹے و اقبال٭کا شاندار انعقاد۔نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ دریائے نیکر کے کنارے ہائیڈل برگ (اقبال اُوفر)پر 14ویں عالمی فرشی شعری نشست٭پیادِ گوئٹے و اقبال٭کا شاندار انعقاد۔نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ دریائے نیکر کے کنارے ہائیڈل برگ (اقبال اُوفر)پر 14ویں عالمی فرشی شعری نشست٭پیادِ گوئٹے و اقبال٭کا شاندار انعقاد۔نذر حسین۔،۔

٭جرمنی کے تاریخی شہر ہائیڈل برگ میں دریائے نیکر کے کنارے 14ویں عالمی فرشی شعری نشست٭پیادِ گوئٹے و اقبال٭کا شاندار انعقادہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن جرمنی کے زیر اہتمام کیا گیا۔تقریب کی صدارت جرمنی میں پاکستان کی سفیر عزت ماؑب ثقلین سیدہ نے کی، جبکہ برلن سے پریس اتاشی ڈاکٹر سہیل آفتاب، فرسٹ سیکریٹری علی شاہد اور پاکستان جرمن پریس کلب برلن کے چیئرمین ظہور احمد نے بھی خصوصی شرکت کی٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ہائیڈل برگ۔ جرمنی کے تاریخی شہر ہائیڈل برگ میں دریائے نیکر کے کنارے 14ویں عالمی فرشی شعری نشست٭پیادِ گوئٹے و اقبال٭کا شاندار انعقادہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن جرمنی کے زیر اہتمام کیا گیا۔تقریب کی صدارت جرمنی میں پاکستان کی سفیر عزت ماؑب ثقلین سیدہ نے کی، جبکہ برلن سے پریس اتاشی ڈاکٹر سہیل آفتاب، فرسٹ سیکریٹری علی شاہد اور پاکستان جرمن پریس کلب برلن کے چیئرمین ظہور احمد نے بھی خصوصی شرکت کی، فرشی تقریب میں ہائیڈل برگ سٹی کونسل کے رکن وسیم بٹ، ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ہنس ہرڈر، پاکستان جرمن پریس کلب کے نمائندگان، جرمنی، برطانیہ اور یورپ کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے ممتاز شعراء، ادیبوں، دانشوروں اور پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ ہائیڈل برگ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات نے بھی بھرپور شرکت کی۔تقریب کی نظامت محمد احسن بن اسمائیل نے نہایت شاندار انداز میں انجام دی، انہوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن جرمنی کے چیئرمین سید اقبال حیدر گذشتہ چودہ برس سے علامہ محمد اقبالؒکی یاد میں اس منفرد فرشی شعری نشست کا انعقاد کرتے آ رہے ہیں، جس کا مقصد اردو ادب، اقبالیات اور مشرق و مغرب کے ادبی و ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں سفیر پاکستان ثقلین سیدہ نے کہا کہ عالمی مشاعرے اردو ادب کی ایک عظیم روایت ہیں، جہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شعراء ایک ہی اسٹیج پر جمع ہو کر اپنے فکر انگیز کلام کے ذریعے محبت،امن،رواداری اور انسان دوستی کا پیغام عام کرتے ہیں، انہوں نے کہا ایسے ادبی اجتماعات نہ صرف اردو زبان و ادب کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام، مکالمے اور ثقافتی ہم آہنگی کو بھی مضبوط بناتے ہیں، انہوں نے خوشخبری دیتے ہوئے بتایا کہ ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں علامہ اقبال چیئر کی بحالی کے لئے عملی اقدامات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جو پاکستان اور جرمنی کے درمیان علمی، تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ میں اہم سنگ ثابت ہوں گے۔ سفیر پاکستان نے فرشی نشست کی روایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لئے ایک منفرد اور خوش آئندہ تجربہ ہے کہ علامہ اقبال سے منسوب مقام پر بیٹھ کر ادبی گفتگو اور شاعری کی محفل منعقد کی جا رہی ہے، انہوں نے یورپ اور برطانیہ سے تشریف لانے والے تمام شعراء اور مہمانوں کو خراج تحسین پیش کیا اور تقریب کے کامیاب انعقاد پر سید اقبال حیدر اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔ ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے پروفیسر ہنس ہرڈر نے اردو زبان میں شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ تاریخی اعتبار سے وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ علامہ اقبال اسی مقام پر بیٹھا کرتے تھے، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہائیڈل برگ میں موجود اس مقام پر (اقبال اوفر۔ Iqbal Ufer) اس عظیم مفکر اور شاعر کے شہر سے تاریخی تعلق کی ایک اہم علامت ہے، انہوں نے کہا کہ ہائیڈل برگ کا ادب اور فلسفے سے تعلق صدیوں پر محیط ہے،گوئٹے اور اقبال دونوں نے مشرق و مغرب کے درمیان فکری پُل تعمیر کئے۔ تقریب کے میزبان سید اقبال حیدر نے کہا کہ اقبال اُوفر کے قریب دریائے نیکر کی دوسری طرف وہ رہائش گاہ بھی موجود ہے جہاں علامہ محمد اقبال 1907 ء میں قیام پذیر تھے، اس گھر پر نصب یادگاری تختی جرمن حکام وزارت ثقافت اور سابق سفیر پاکستان عبد الرحمن خان کی کوششوں سے نصب کی گئی تھی تا کہ آنے والی نسلیں علامہ اقبال کے اس تاریخی تعلق سے آگاہ رہیں۔ پاکستان جرمن پریس کلب کے چیئرمین ظہور احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 14ویں عالمی فرشی شعری نشست میں شرکت ان کے لئے باعث سعادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم صرف ایک مشاعرے میں شریک نہیں بلکہ گوئٹے اور اقبال کی دو عظیم فکری روایات کے سنگم پر کھڑے ہیں، انہوں نے اس عظم کا اظہار کیا کہ محبت، برداشت، احترام اور مکالمے کو فروغ دینا ہی ایسے ادبی اجتماعات کا اصل مقصد ہے۔ تقریب کے دوران سفیر پاکستان ثقلین سیدہ، وسیم بٹ اور پروفیسر ڈاکٹر ہنس ہرڈر کو شیلڈز اور روائیتی شالیں پیش کی گئی۔ برطانیہ سے تشریف لانے والے معروف شاعر فہیم اختر نے کہا کہ گوئٹے نے مشرق کو صرف کتابوں کے ذریعے نہیں جانا بلکہ اسے دل سے محسوس کیا، فارسی سیکھی اور مشرقی تہذیب کو اپنی فکر کا حصّہ بنایا،جس کا اثر ان کی تخلیقات میں نمایاں نظر آتا ہے۔ مشاعرے میں ارشاد ہاشمی، اعجاز راجپوت، مدبر احسن، شفیق مراد، شازیہ نورین، طاہر ادیم، فہیم اختر، یاشب تمنا اور سید اقبال حیدر سمیت یورپ کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے شعراء نے اپنا اپنا منتخب کلام پیش کر کے خوب داد حاصل کی، سامعین نے ہر شاعر کو بھرپور داد دی اور محفل دیر تک شعر و ادب کی خوشبو سے مہکتی رہی۔ تقریب کے اختتام پر پاکستانی کمیونٹی نے سفیر پاکستان اور مہمانان خصوصی کے ساتھ یادگاری تصاویر بنوائیں، جبکہ شرکاء کی تواضع ریفریشمنٹ سے کی گئی، شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ٭پیادِ گوئٹے و اقبال٭صرف ایک ادبی نشست نہیں بلکہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان علمی، ثقافتی اور ادبی روابط کو مضبوط بنانے کی ایک موثر روایت بن چکی ہے، جو ہر سال مزید وسعت اختیار کر رہی ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں