کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے کے دوران حملہ، پولیس کارروائی میں مشتبہ حملہ آور ہلاک 0

کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے کے دوران حملہ، پولیس کارروائی میں مشتبہ حملہ آور ہلاک

0Shares

۔،۔ کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے کے دوران حملہ، پولیس آپریشن کے دوران مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ نذر حسین۔،۔

“پولیس کے مطابق برلن میں پیدا ہونے والے 21 سالہ لبنانی نژاد عبدال بی نے مبینہ طور پر نامعلوم وجوہات کی بنا پر پہلے اپنی گاڑی لوگوں کے ہجوم پر چڑھا دی، جس کے بعد وہ چاقو لے کر لوگوں پر حملہ آور ہو گیا”

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/برلن-کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے کے دوران حملہ، پولیس کارروائی میں مشتبہ حملہ آور ہلاک پولیس کے مطابق برلن میں پیدا ہونے والے 21 سالہ لبنانی نژاد عبدال بی نے مبینہ طور پر نامعلوم وجوہات کی بنا پر پہلے اپنی گاڑی لوگوں کے ہجوم پر چڑھا دی، جس کے بعد وہ چاقو لے کر لوگوں پر حملہ آور ہو گیا۔پولیس کے مطابق اس واقعے میں ایک خاتون ہلاک جبکہ 29 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ ابتدائی کارروائی کے دوران پولیس نے مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق بعد ازاں پولیس نے اسے ایک باغ میں ڈھونڈ نکالا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کی کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد مشتبہ شخص عبدال بی پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔پولیس کے مطابق عبدال بی کا نام اسکول کے زمانے سے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم میں تھا۔ مزید بتایا گیا کہ اس کے دو کزن مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیم داعش (اسلامک اسٹیٹ) سے وابستہ رہے ہیں۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان افراد کا تعلق عبدال بی کے والد کی بہن کے خاندان سے ہے۔رپورٹس کے مطابق عبدال بی نے بچپن میں جارحانہ رویے کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث اسے متعدد مرتبہ اسکول سے معطل کیا گیا۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے والدین نے اس سلسلے میں حکام کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کیا۔ چھ سال قبل والدین کی علیحدگی کے بعد وہ اپنی والدہ اور تین بہنوں کے ساتھ برلن کے علاقے شونے برگ (Schöneberg) میں رہائش پذیر تھا۔بعض میڈیا رپورٹس اور پڑوسیوں کے بیانات کے مطابق خاندان مذہبی رجحان رکھتا تھا، جبکہ عبدال بی باقاعدگی سے نماز ادا کرتا اور جمعہ کی نماز میں شریک ہوتا تھا۔ مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعد میں وہ ایک مصری مبلغ کے حلقۂ اثر میں آنے کے بعد شدت پسند نظریات کی طرف مائل ہو گیا۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ پولیس واقعے کے محرکات اور پس منظر کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں