
۔،۔ آگ بجھانے والے دو ہیلی کاپٹر فضا میں ٹکرا گئے،دو اہلکار ہلاک۔برطانوی پائلٹ محفوظ۔ نذر حسین۔،۔
٭یونان میں جنگلات کی آگ بجھانے کے دوران دو فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر فضا میں آپس میں ٹکرا گئے،جس کے نتیجے میں ایک (ڈینش پائلٹ) اور یونانی فائر سروس کے رابطہ افسر ہلاک ہو گئے، جبکہ برطانوی پائلٹ اور ایک یونانی رابطہ آفیسر معمولی زخمی ہونے کے باوجود محفوظ رہے٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ایتھنز۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یونان میں جنگلات کی آگ بجھانے کے دوران دو فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر فضا میں آپس میں ٹکرا گئے،جس کے نتیجے میں ایک (ڈینش پائلٹ) اور یونانی فائر سروس کے رابطہ افسر ہلاک ہو گئے، جبکہ برطانوی پائلٹ اور ایک یونانی رابطہ آفیسر معمولی زخمی ہونے کے باوجود محفوظ رہے، یہ حادثہ دارالحکومت ایتھنز سے تقریباََ پینسٹھ کلو میٹر مغرب میں پیش آیا، جائے حادثہ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں (بیل۔ Bell) ہیلی کاپٹروں کے روٹر بلیڈ آپس میں ٹکرا گئے جس کے بعد اچانک آگ بھڑک اُٹھی اور دونوں ہیلی کاپٹر نیچے گر گئے۔ دونوں ہیلی کاپٹر (اٹیکا Attica اور بوئیویٹا Boeotia) کی سرحد پر جنگلات میں لگی آگ بجھانے کی کاروائی میں مصروف تھے کہ یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ حادثے کے بعد ایک ہیلی کاپٹر میں سوار عملہ کو زندہ نکال لیا گیا جبکہ دوسرے ہیلی کاپٹر کے عملہ کو بے ہوشی کی حالت میں نکالا گیا، تاہم بعد ازاں دونوں افراد دم توڑ گئے۔ یونان کے وزیر اعظم نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈینش پائلٹ اور یونانی رابطہ افسر کی موت پوری قوم کے لئے ایک بڑا نقصان ہے، انہوں نے مرحومین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت بھی کی۔ برطانوی پائلٹ اور یونانی رابطہ افسر کو معمولی زخم آئے ہیں،دونوں ہوش میں ہیں احطیاطاََ انہیں چوبیس گھنٹوں کے لئے اسپتال میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب۔ایریکسن ایئر کرین، چنوک ہیلی کاپٹر اور کینیڈا کے واٹر بمبار طیارے مختلف متاثرہ علاقوں میں آگ بجھانے کی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے رواں ہفتے یونان کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے باعث ٭پورٹو جرمینو ٭پستھا ٭فوکفڈا ٭میگارا اور کیفا لونیا میں جنگلاتی آگ بھڑک اُٹھی تھی، مقامی میڈیا کے مطابق پانچ سو سے زائد فائر فائٹرز گذشتہ بہتر گھنٹوں سے آگ پر قابو پانے کے لئے مسلسل مصروف ہیں۔ تاہم اسی دوران فرانس اور اسپین میں بھی بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ نے تباہی و بربادی بکھیر رکھی ہے،ایک رپورٹ کے مطابق پیشتر علاقوں میں آگ پر قابو آیا جا چکا ہے، تقریبا,, تین لاکھ سے زائد بے گھر ہونے والے افراد اپنے اپنے گھروں کو واپٹ لوٹنا شروع ہو گئے ہئں۔ ماہرین کے مطابق جنگلاتی آگ کے زیادہ تر واقعات انسانی غفلت یا جان بوجھ کر لگائی گئی آگ کا نتیجہ ہوتے ہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی کی لہروں خشک موسم نے ایسے واقعات کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔




