
۔،۔ منصوبہ دراندازی یا اچانک پُرتشدد صورتحال،ذمہ دار کون،پر امن احتجاج تشدد میں کیسے تبدیل۔ نذر حسین۔،۔
٭جین۔زیڈ۔Gen Z کے زیر اہتمام ہفتہ کے روز تقریباََ اٹھارہ بڑے شہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے پُر امن مظاہرے کئے، مظاہرین کے اہم مطالبات میں بہتر تعلیمی نظام اور سستے مکانات کی فراہمی شامل تھے، کولون، فرینکفرٹ اور اُلم، ہیمبرگ میں دکانوں میں لوٹ مار کی گئی،پولیس کے مطابق بعض گروپوں نے مظاہرے میں مداخلت کر کے حالات خراب کئے، جس پر وزیر داخلہ الیگذینڈر ڈوبرنٹ ٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/کولون/ہیمبرگ/الم۔جرمنی کے شہر کولون اور فرینکفرٹ میں کے احتجاج کے بعد ہونے والے پُرتشدد واقعات، زخمی افراد اور دکانوں میں لوٹ مار نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق بعض گروہوں نے مظاہروں میں مداخلت کرکے حالات خراب کیے۔ وفاقی وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔پُرامن احتجاج تشدد میں کیسے تبدیل ہوا؟ہفتے کے روز جرمنی بھر میں ہزاروں نوجوانوں نے زیادہ تر پُرامن مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں کی اپیل ’نامی تحریک نے کی تھی۔ مظاہرین کے اہم مطالبات میں بہتر تعلیمی نظام اور سستے مکانات کی فراہمی شامل تھے۔تاہم مظاہروں کے اختتام کے بعد کئی شہروں میں تشدد پھوٹ پڑا۔ فرینکفرٹ، کولون اور ہیمبرگ میں شام اور رات کے وقت حالات کشیدہ ہوگئے۔ذمہ دار کون ہے؟ وزیر داخلہ کا مؤقف,وفاقی وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ (CSU) نے کہا کہ پُرامن جمہوری مظاہرین اور تشدد کرنے والوں کے درمیان واضح فرق کیا جانا چاہیے۔ان کے مطابق ہنگامہ آرائی کرنے والے اسکول کے طلبہ نہیں تھے بلکہ ان میں بائیں بازو کے تشدد پسند گروہ اور تارکینِ وطن پس منظر رکھنے والے شرپسند عناصر شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ ان افراد کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کے بقول، ایسے لوگوں کو سخت سزائیں ملنی چاہئیں۔وزیر دفاع نے ڈوبرنٹ کے بیان پر سوال اٹھا دیا,وزیر دفاع بورس پسٹوریئس (SPD) نے ممکنہ ملزمان کے پس منظر سے متعلق ڈوبرنٹ کے بیان پر شکوک کا اظہار کیا۔زیڈ ڈی ایف (ZDF) کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا:’’تارکینِ وطن گروہوں سے کیا مراد ہے؟ کیا ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے جو جرمنی میں تیسری نسل سے آباد ہیں اور جرمن شہریت رکھتے ہیں؟ ہم اس معاملے میں فرق کرنا کہاں بند کرتے ہیں؟‘‘تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسے انتہا پسند عناصر موجود ہیں جو پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں، انہیں زخمی کرتے ہیں اور املاک کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے افراد کو سزا ملنی چاہیے۔سماجی عدم مساوات بھی تشدد کی ایک وجہ؟تعلیم اور احتجاجی تحریکوں کی محقق نینا کولیک کے مطابق مظاہروں کے بعد تشدد کا سامنے آنا مکمل طور پر غیر متوقع نہیں تھا۔انہوں نے Tagesschau24 سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران معاشرتی حالات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھا ہے اور معاشرے میں تناؤ میں اضافہ ہواہے۔ان کے مطابق مکانات کے کرائے مسلسل بڑھ رہے ہیں اور نوجوانوں، خصوصاً طلبہ میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔اگر نوجوان نسل کو یہ محسوس ہو کہ امیر خاندانوں کے بچوں کے مقابلے میں ان کے مستقبل کے مواقع بہت محدود ہیں تو اس سے ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جن میں بعض گروہ نظام کے خلاف سرگرم ہو جاتے ہیں۔فرینکفرٹ میں 1,500 تک تشدد پسند افرادفرینکفرٹ میں پولیس کے مطابق اسے تقریباً 1,500 ایسے افراد کا سامنا کرنا پڑا جو تشدد پر آمادہ تھے۔ ان میں سے کئی افراد دوسرے علاقوں اور دور دراز شہروں سے آئے تھے۔ریاست ہیسن کے وزیر داخلہ رومان پوسیک (CDU) کے مطابق پولیس نے 13 سے 29 سال کی عمر کے 54 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ ان میں سے زیادہ تر جرمن شہریت رکھتے تھے اور ان کا تعلق تارکینِ وطن پس منظر رکھنے والے خاندانوں سے تھا۔پوسیک نے کہا کہ پولیس کی معلومات کے مطابق ملزمان کا تعلق زیادہ تر تارکینِ وطن پس منظر رکھنے والے گروہوں سے تھا۔انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ ایسے گروہوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں پر مسلسل اور بے رحمانہ حملے کیے گئے۔انہوں نے نومبر کے آخر میں ہونے والے ممکنہ مظاہروں کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے اور کہا کہ پرتشدد اجتماعات کو روکنا ضروری ہے۔فرینکفرٹ پولیس کو سیاسی محرکات نظر نہیں آئےفرینکفرٹ پولیس کے مطابق ہنگامہ آرائی میں ملوث زیادہ تر نوجوان مرد تھے جن کا تعلق تارکینِ وطن پس منظر سے تھا اور جو پہلے سے پولیس کے ریکارڈ میں موجود تھے۔پولیس صدر اسٹیفن مولر کے مطابق ان افراد کے اقدامات میں کوئی واضح سیاسی محرک نظر نہیں آیا۔تاہم جرمن نشریاتی ادارے HR کے رپورٹر یاکوب شاؤمان نے احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اگرچہ زیادہ تر ہنگامہ آرائی کرنے والے تارکینِ وطن پس منظر کے دکھائی دیتے تھے، لیکن ابھی تمام مشتبہ افراد کی شناخت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جب 1,000 سے 1,500 افراد تشدد میں ملوث ہوں تو صرف 54 گرفتاریاں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ملزمان پکڑے جا چکے ہیں۔ان کے مطابق تشدد کا مظاہرے کے اصل مقاصد سے بہت کم تعلق تھا۔کیا جرائم کرنے کے لیے خصوصی طور پر کولون پہنچے تھے؟کولون میں بھی شدید تشدد کے واقعات پیش آئے۔پولیس کے مطابق مظاہرہ ابتدا میں زیادہ تر پُرامن تھا، لیکن بعض شرپسندانہ کارروائیوں کے بعد منتظمین نے اسے وقت سے پہلے ختم کر دیا۔بعد ازاں شام کے وقت خصوصاً کولون کے مشہور کیتھیڈرل کے آس پاس حالات خراب ہوگئے۔ کے رپورٹر یوخن ہلگرس کے مطابق Gen Z کے پُرامن اور رنگا رنگ احتجاج کے بعد ممکنہ طور پر بائیں بازو کے خودمختار گروہوں، فلسطین کے حامی گروہوں اور پرانے بائیں بازو کے کارکنوں نے صورتحال پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ان کے الفاظ میں:’’Gen Z کا احتجاج تشدد میں تبدیل نہیں ہوا بلکہ Gen Z کے احتجاج کے بعد تشدد شروع ہوا۔‘‘پولیس کے ترجمان زاشا والمرورتھ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ بعض گروہ خاص طور پر جرائم کرنے کے مقصد سے کولون آئے تھے۔آپریشن کے سربراہ مارٹن لوٹس کے مطابق حملوں کی نوعیت، چہروں کو ڈھانپنے اور ہتھیاروں کے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والی صورتحال نہیں تھی بلکہ ایک منظم کارروائی تھی۔ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیر داخلہ ہربرٹ رائل (CDU) کے مطابق بائیں بازو کے انتہا پسندوں اور تشدد پسند نوجوانوں کے گروہوں نے مظاہروں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔سیاست دانوں نے تشدد کی مذمت کر دی تشدد کے واقعات پر جرمنی کے متعدد وفاقی سیاست دانوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر تعلیم کارین پرین (CDU) نے پرتشدد ہنگامہ آرائی کی مذمت کی، تاہم انہوں نے کہا کہ پُرامن مظاہرین کی آواز بھی سنی جانی چاہیے۔ان کے مطابق نوجوانوں کے مطالبات جائز اور انتہائی اہم ہیں۔ جرمنی میں آج بھی تعلیمی کامیابی کا انحصار کسی حد تک خاندانی اور سماجی پس منظر پر ہے۔بائیں بازو کی جماعت Die Linke کی سربراہ انیس شویرڈٹنر نے بھی خبردار کیا کہ تشدد کے واقعات کی وجہ سے Gen Z کے حقیقی مطالبات پس منظر میں نہیں جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات، سماجی سہولیات میں کمی اور پُرامن احتجاج کی خواہش چند مایوس افراد کی ہنگامہ آرائی سے ختم نہیں ہو جاتی۔دوسری جانب AfD کی سربراہ ایلس وائیڈل نے ان واقعات کو CDU کی پالیسیوں پر تنقید کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مطابق یہ واقعات بائیں بازو کی انتہا پسندی کی مبینہ سرپرستی اور بے قابو ہجرت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔مظاہرے کے منتظمین نے تشدد سے لاتعلقی ظاہر کر دیGen Z کے مظاہروں کے منتظمین نے واضح طور پر تشدد کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔تحریک
’’Gen Z regelt‘‘ کے ایک ترجمان نے کہا:’’جلسوں اور مظاہروں کے اختتام کے بعد جو کچھ ہوا، اس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ت




