
-,-امریکی عوام کو ایران جنگ کا بل خود ادا کرنا پڑ رہا ہے، تہران کا جشن بھی خطرے کی گھنٹی-نذر حسین-,-
*تینوں راستے رکاوٹوں سے خالی نہیں، جنگ کی طرف واپسی، مذاکرات یا نہ جنگ نہ امن کی کیفیت۔ ٹرمپ کے سامنے مشکل انتخاب*
شان پاکستان | جرمنی، فرینکفرٹ /تہران/غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں تین مشکل راستوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف ایرانی محاذ پر فوجی کارروائیوں کا دباؤ ہے تو دوسری جانب مذاکرات کی بحالی اور موجودہ کشیدہ صورت حال کو برقرار رکھنے کے امکانات زیرِ غور ہیں۔رپورٹ کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد، خصوصاً کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کنٹرول کے تناظر میں، ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے سامنے پہلا راستہ ایرانی اہداف پر دوبارہ حملے کرنا، دوسرا مذاکرات کی میز پر واپس آنا اور تیسرا نہ جنگ نہ امن کی موجودہ کیفیت کو برقرار رکھنا ہے۔تاہم تینوں راستے مشکلات سے بھرپور ہیں۔ فوجی کارروائیوں کی طرف واپسی ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صدر خود اس تنازع کے ووٹروں کے رجحانات پر اثرات کا جزوی اعتراف کر چکے ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے بعض حلقوں میں بھی جنگ ختم کرنے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے قطر کے ثالثی کردار اور کوششیں بدستور جاری ہیں، لیکن یہ راستہ بھی آسان نہیں، کیونکہ ایرانی قیادت اپنی شرائط پر قائم ہے اور کسی ممکنہ معاہدے کے لیے دونوں جانب سے لچک درکار ہوگی۔تیسرا راستہ موجودہ صورت حال کو برقرار رکھنا ہے، جس کا مطلب نہ مکمل جنگ بندی اور نہ ہی کوئی حتمی معاہدہ ہوگا۔ اس صورت میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ اور عالمی معیشت میں غیر یقینی کیفیت برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ نہ جنگ، نہ معاہدہ کی پالیسی کو جاری رکھنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور دیگر مشیر اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایران پر بحری ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ کی مہم کو مزید وقت دیا جائے تاکہ تہران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔تہران کا جشن واشنگٹن کے لیے نیا سیاسی پیغام-دوسری جانب بعض ایرانی حکام کی جانب سے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مشکلات پر خوشی کا اظہار بھی واشنگٹن کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت کے ایسے بیانات امریکی صدر کو دوبارہ فوجی آپشن پر غور کرنے کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایرانی قوم نے میدانِ جنگ اور آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کو اسٹریٹجک شکست دی ہے اور واشنگٹن میں انہیں سیاسی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں امریکی عوام کی معاشی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بالآخر اس جنگ کا مالی بوجھ خود امریکی شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق ثالثوں نے امریکی انتخابات سے قبل وائٹ ہاؤس کے حکام سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ اگر ٹرمپ انتخابی نتائج میں سیاسی نقصان اٹھاتے ہیں تو ان کی ایران پالیسی کیا ہوگی؟ تاہم مبینہ طور پر امریکی مشیر اس سوال کا کوئی واضح جواب دینے میں ناکام رہے۔موجودہ صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا مستقبل صرف فوجی یا سفارتی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات دونوں ملکوں کی داخلی سیاست، عالمی توانائی کی منڈی اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔


