۔،۔ جنوبی فلوریڈا میں نجی طیارہ تباہ، تمام نُو مسافر ہلاک۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ جنوبی فلوریڈا میں نجی طیارہ تباہ، تمام نُو مسافر ہلاک۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ جنوبی فلوریڈا میں نجی طیارہ تباہ، تمام نُو مسافر ہلاک۔ نذر حسین۔،۔

٭ اتوار کے روز جنوبی فلوریڈا کے ایک رہائشی علاقے میں نجی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام نُو افراد ہلاک ہو گئے، حادثے کا مقام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تفریحی رہائش گاہ (مار۔اے۔لاگو)سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/جنوبی فلوریڈا۔پام بیچ، فلوریڈا: امریکی حکام کے مطابق اتوار کے روز جنوبی فلوریڈا کے ایک رہائشی علاقے میں نجی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام نو افراد ہلاک ہوگئے۔ حادثے کا مقام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تفریحی رہائش گاہ مار-اے-لاگو سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے+سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد غیر مصدقہ ویڈیوز میں طیارے کو تقریباً عمودی زاویے سے تیزی کے ساتھ زمین کی طرف گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ طیارہ زمین سے ٹکرانے کے بعد آگ کے ایک بڑے شعلے میں تبدیل ہوگیا اور مصروف سڑک کے کنارے اس میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے اپنے بیان میں کہا کہ پام بیچ کاؤنٹی میں پیش آنے والا یہ فضائی حادثہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے اور طیارے میں سوار تمام نو افراد جان کی بازی ہار گئے۔شان ڈفی کے مطابق لیئر جیٹ 60 (Learjet 60) نامی طیارے نے ٹیکساس کے شہر آسٹن سے پرواز کی تھی اور اس کی منزل بہاماس تھی۔یہ حادثہ پام بیچ کاؤنٹی میں پیش آیا، جو صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو سے تقریباً سات میل (11 کلومیٹر) سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔گورنر فلوریڈا کا اظہارِ افسوس فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے جائے حادثہ کے قریب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’بلاشبہ یہ طیارے کا ایک تباہ کن حادثہ ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی میزائل زمین پر گرا ہو۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زمین پر موجود کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔حادثے سے قبل ٹرمپ مار-اے-لاگو سے روانہ ہو چکے تھےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتوار کے روز مار-اے-لاگو میں موجود تھے، تاہم طیارے کے حادثے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل وہ ایئر فورس ون کے ذریعے وہاں سے روانہ ہو چکے تھے۔پام بیچ کاؤنٹی کے کمشنر جوئل فلورس کے مطابق طیارہ ایک موبائل ہوم پارک کے داخلی راستے کے قریب گرا، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت تقریباً 600 رہائشیوں کو علاقے سے نکال کر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا۔امریکی حکام نے تحقیقات شروع کر دیں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) کے ساتھ مل کر حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کرے گی۔حادثے کے وقت علاقے میں طوفانی موسم ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت علاقے میں طوفانی موسم کی صورتحال تھی۔ صدر ٹرمپ بھی ایئر فورس ون میں سوار ہوتے وقت چھتری استعمال کرتے دکھائی دیے تھے۔ہوائی ٹریفک کی ویب سائٹ LiveATC.net پر جاری کی گئی آڈیو ریکارڈنگ میں کاک پٹ سے ایک شخص کو موسم میں معتدل طوفان کی اطلاع دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔اس کے بعد پائلٹ کی جانب سے ہنگامی پیغام جاری کیا گیا:’’مے ڈے، مے ڈے! ہم 10 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے آ رہے ہیں۔‘‘چند لمحوں بعد پائلٹ نے دوبارہ ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ طیارہ 20 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے بلندی کھو رہا ہے۔کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہونے سے کچھ دیر پہلے پائلٹ کے آخری الفاظ تھے:’’ہم زمین سے ٹکرانے والے ہیں۔‘‘حادثے کی حتمی وجوہات جاننے کے لیے امریکی فضائی حکام کی تحقیقات جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں