۔،۔ پاکستان جرمن پریس کلب کے جنرل سیکریٹری مطیع اللہ احمد کی والدہ کے انتقال پر برلن میں تعزیتی ریفرنس۔اجتماعی دعا۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ پاکستان جرمن پریس کلب کے جنرل سیکریٹری مطیع اللہ احمد کی والدہ کے انتقال پر برلن میں تعزیتی ریفرنس۔اجتماعی دعا۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

 

۔،۔ پاکستان جرمن پریس کلب کے جنرل سیکریٹری مطیع اللہ احمد کی والدہ کے انتقال پر برلن میں تعزیتی ریفرنس۔اجتماعی دعا۔ نذر حسین۔،۔

٭پاکستان جرمن پریس کلب کے جنرل سیکریٹریاور دنیا نیوز کے سینئر نمائندے مطیع اللہ احمد کی والدہ کے انتقال پربرلن کی مسجد بلال میں ایصال ثواب، سوئم اور اجتماعی دعائیہ تقریب کے موقع پر ایک پروقار تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا،تقریب میں جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی معروف سماجی، سیاسی، مذہبی اور صحافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/برلن۔ پاکستان جرمن پریس کلب کے جنرل سیکریٹری مطیع اللہ احمد کی والدہ کے انتقال پر برلن میں تعزیتی ریفرنس کے موقع پر جرمنی بھر سے پاکستانی کمیونٹی کی معروف سماجی، سیاسی، مذہبی اور صحافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی، شرکاء میں پاکستان جرمن پریس کلب کے سینئر نائب صدر نذر حسین،چیئرمین ظہور احمد، جسٹس ہیلپ لائن یورپ کے سفیر میاں مبین اختر،پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے سینئر رہنما ملک اسمائیل قیصر، برلن کے صدر منظور احمد، سینئر نائب صدر عابد حسین بلوچ، ملک ایوب اعوان، اکمل لطیف، مسلم لیگ (ن) جرمنی کے سینئر رہنماء مرزا بٹار حسین، مسلم لیگ (ن) برلن کے صدر اعجاز بٹ، پاکستان تحریک انصاف کے نمائندگان، منہاج القرآن برلن کے رہنما ملک فیض احمد شیخ صلاح الدین، پاک محمدی مسجد کے مرکزی رہنما مبشر لون، اسلامک تحریک برلن کے امیر خالد محمود، محمد عاصم، سوشل ایکٹو سٹس، بلاگرز، ویلاگرز اور پاکستانی کمیونٹی کی دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں، تقریب کے دوران مقررین نے مرحومہ کے انتقال پر گہرے نج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماں کی محبت، شفقت اور دعا انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، اور والدہ کی جدائی ایسا ناقابل تلافی نقصان ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ کہیں پر قیامت کا ذکر ہو رہا تھا تو وہاں بیٹھا ایک بچہ اچانک بول پڑا جب قیامت آئے گی تو میں دوڑ کر ماں کے قدموں کے نیچے پناہ لے لوں گا۔ واضح رہے کہ مطیع اللہ احمد کی والدہ ماجدہ بہت نیک سیرت اور نمازی پرہیر گار خاتون تھیں، دوسروں کے دکھوں کا مداوہ کرنا ان کی عادت تھی کسی کو وہ دکھی نہیں دیکھ سکتی تھیں،کئی بیماریوں کے لئے تعویز بھی لکھ کر دیتی تھیں، مطیع اللہ کی والدہ گذشتہ دنوں ضلع سوات میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئی تھیں، وہ کراچی سے سوات اپنی نواسی کے انتقال پر تعزیت کے لئے گئی ہوئی تھیں، جہاں انہیں اچانک دل کا دورہ پثا اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، مرحومہ اپنے بیٹے مطیع اللہ سمیت دیگر بیٹوں، بیٹیوں اور تمام اہل خانہ کو سوگوار چھوڑ گئیں۔اس موقع پرمقررین نے مطیع اللہ احمد کی صحافتی، سماجی اور کمیونٹی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا، واضح رہے مطیع اللہ گذشتہ تین برس سے شدید بیماری کا حوصلے اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں، جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اس آزمائش کے وقت ان کے ساتھ کھڑی ہے، ان کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو ہے۔ تقریب کے اختتام پر مرحومہ کے ایصال ثواب، درجات کی بلندی اور جنت الفردوس می اعلی مقام کے لئے خصوصی دعا کی گئی، شرکاء نے دُعا کی کہ اللہ تعالی مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، اور تمام لواحقین، خصوصاََ مطیع اللہ کو اس عظیم صدمے کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے(آمین ثم آمین)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں