۔،۔تبصرہ کتاب فیضانِ اقبال۔میر افسر امان۔،۔ 0

۔،۔تبصرہ کتاب فیضانِ اقبال۔میر افسر امان۔،۔

0Shares

۔،۔تبصرہ کتاب فیضانِ اقبال۔میر افسر امان۔،۔
تجلیاِت کلیم و مشاہداتِ حکیم!
میرا برسوں سے عجیب حال ہے معزور ہونے کی وجہ سے دوستوں سے درخواست کرتارہتا ہوں، مجھے کتاب لادو۔ ایکسپو سینٹر کراچی میں جب ”بین الاقوامی کتب میلہ“ لگتا ہے تومیرے بچے مجھے ویل چیئر کے ذریعے کتابوں کے اسٹالز پر لے جاتے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں بھی بین الاقوامی کتب میلہ میں حاضری کا شرف حاصل رہا۔ زیر تبصرہ کتاب بھی مجھے میرے دوست محمد شفیق اعوان ملک نے لا کر دی۔یہ کتاب میرے لیے علامہ اقبالؒ کی ایک ریفرنس بک ہے۔اس کے مصنف ”شورش کاشمیری“ ہیں۔ یہ کتاب۸ ۶۹۱ء میں شائع کی گئی۔ناشر کا نام مطبوعات چٹان لاہور ہے۔ مطبع چٹان پریس لاہور ہے۔ اس کتاب میں اقبالؒ کی تجلیاتِ کلیم و مشاہدات حکیم جمع کر دیے گئے ہیں۔صفحہ ۴ پر علامہ اقبال کا یہ مصرعہ لکھا ہے۔ ”گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ نہیں“یہ ۶۵۴ صفحات کی کتاب ہے۔اس میں علامہ اقبالؒ کے خطبات، مقالات،ارشادات اور خطوط کا افشردہ وعصارہ جمع کر دیا گیا ہے۔اس کتاب کو سید سلیمان ندوی کے نام کیا گیا۔ جو علامہ اقبالؒ کی نگاہ میں اُستاد الکل ہی نہیں بلکہ علوم اسلام کے جوئے شیر کے فرہاد بھی ہیں۔اس کتاب کودس حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ خود آگاہی، علم آگاہی، فکر و نظر، خودی،صحبت رفتگان، ادب شاعری آرٹ، قرآن و اسلام، تصوف، تاریخ و سیاست اور قادیانیت۔اس کتاب کے تعارف میں ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں ”فیضان کی اہمیت کی اصل وجہ یا بیاد میرے نزدیک یہ ہے کہ یہ ایک ایسا مجموعہ ہے جس میں بڑی کوشش اور محنت سے اصل حقیقی اقبال کو ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے۔اقبال جہاں خود اپنے الفاظ کے آئینے میں جلوہ گر ہے۔ یہ”تزک اقبال“ ہے یا ذہن اقبال کی تصویر کے موقلم سے! بظاہر یہ کام آسان معلوم ہوتا ہے۔ لیکن آسان نہیں۔ اس کے لیے عشق کی ضرورت ہے۔ عشق اس لیے کہ اس کی بدولت مصنف یا مرتب اپنی ذات کو یک سر نظر انداز کر دیتا ہے۔ آغا شورش کاشمیری نے اس تدوین میں اسی عشق کا اظہارکیا ہے“۔اس کتاب کے مصنف آغا شورش کاشمیری”سرآغاز“ میں لکھتے ہیں یورپ کے مادی استیلاء کے تہذیبی تصادم کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔پہلی جنگ عظیم سے جو نقشہ اُ بھرا، ان سے نہ صرف عام افکار میں زلزلہ پیداہوا بلکہ کئی عظیم عمارتوں کے ستون بھی گر گئے۔ ٹھیک یہی زمانہ تھا جب ایشیاء میں بھی قومی انا کا اضطراب ظاہر ہوا۔ پہلا مرحلہ۷۵۸۱ء کی جنگ آزادی تھا۔ ۴۱۹۱ء جنگ عظیم نے مسلمانوں کی عثمانی خلافت کو ختم کر دیا۔ اس موقعہ پر مسلمانوں کے ملی وجود کو جن دماغوں نے سہارا دیا، اقبال اس قافلہ کے شاہ دماغ ہیں۔ ان کے افکار نے مسلمانوں کو دماغی پسپائی سے روکا اور اسلام کی عمارت کو نئے سرے سے کھڑا کر دیا۔اسلام ایک زندہ طاقت ہے۔توحید اس کا تصور ہے۔رسالت خدا اور بندے کے درمیان حقوق و فرائض کا ایک ذریعہ ہے۔ جس سے امت کی تشکیل پاتی ہے اور پروان چڑھتی ہے۔ آخر میں لکھتے ہیں مجھے یقین ہے”فیضان اقبال“ ایک مفید دستاویز ثابت ہو گی۔ اس سے غور و فکر کے مذید راہیں کھلیں گی اور جو لوگ افکار اقبال سے لگائے رکھتے ہیں، ان میں تحقیق و جستجو کا ذوق پیدا ہو گا۔ایک جگہ اقبال فرماتے ہیں کہ میرا کلام پڑھنے سے پہلے قاری کو اسلام پڑھناہو گا تب میرا کلام سمجھ آئے گا۔حصہ خود آگاہی:۔میرا کلام باقی رہے گا۔ اقبال کے سیکڑوں افکار درج کیے ہیں ان میں سے چند:۔”حیات ابدی“مصنف نے اقبال کے چند جواہر پارے کتاب صفحہ ۴۴ کے حوالے سے لکھا”میرا کلام باقی رہے گا۔عطیہ بیگم کے نام ۹۰۹۱ء میں لکھتے ہیں ”وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میں طوفان بپا کئے ہوئے ہیں، عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی۔”رہنمانہ ہیرو“میں کسی جماعت کارہنما نہیں، نہ کسی رہنما کا ہیرو ہوں، میں نے اپنی زندگی کا پیشتر حصہ اسلام، اسلامی فقہ، سیاست، تہذیب، تمدن، اور ادبیات کے مطالعہ میں صرف کیا ہے۔ میرا خیال ہے اس مسلسل اور متواتر تعلق کی بدولت جو مجھے تعلیمات اسلامی کی روح سے رہا ہے، میں نے اس امر کے متعلق ایک خاص بصیرت پیدا کر لی ہے کہ ایک عالمگیر حقیقت کے اعتبار سے اسلام کی حقیقت کیا ہے۔ حوالہ خطبہ مسلم لیگ سالانہ اجلاس الہ آباد ۹۲ دسمبر ۵۳۹۱ء۔حصہ علم آگہی:۔ علم کی ابتدا محسوس سے ہوتی ہے۔”قرآن کی تعلیم“ جن لوگوں نے کہا کہ ہر مسلمان بچہ کی تعلیم کا آغاز کلام مجید سے ہونا چاہیے وہ ہمارے مقابلہ میں ہماری قوم کے ماہیت و تربیت سے زیادہ باخبر تھے۔حوالہ خطبہ صدارت آل انڈیا مسلم کانفرنس ۱۲ مارچ ۱۳۹۱ء لاہور۔حصہ فکر و نظر:۔ قومیں فکر سے محروم ہو کر تباہ ہو جاتی ہیں۔”ماحول اورانقلاب“زندگی اپنے ماحول میں کسی قسم کا انقلاب پیدا نہیں کر سکتی جب تک کہ پہلے اس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب نہ ہو اورکوئی نئی دنیاخارجی وجوداختیار نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کا وجود پہلے انسانوں کے ضمیر میں متشکل نہ ہو۔ حوالہ دیباچہ پیام مشرق۔حصہ خودی:۔ جورہی خودی تو شاہی نہ رہی تو روسیاہی۔”خودی“ جو فعل خودی کو مستحکم کرے وہ حسین ہے جو خودی کو ضعیف بنائے وہ قبیح ہے۔حصہ صحبتِ رفتگان:۔ دل ما بید لاں بُر دند ورفتند۔”شاہ ولی اللہ“ ہمارا فرض ہے ماضی سے اپنا رشتہ منقطع کئے بغیر اسلام پر بحیثیت ایک نظام فکر از سر نو غور کریں۔ غالباًً یہ شاہ ولی اللہ دھلوی تھے جنہوں نے سب سے پہلے ایک نئی روح کی بیداری محسوس کی۔حوالہ خطبہ چہارم،تشکیل جدید الہیات اسلامیہ صفحہ ۵۴۱۔حصہ:۔ ادب شاعری آرٹ۔جوضرب کلیم نہیں رکھتا وہ ہنرکیا۔”زبان“زبانیں اپنے اندرو نی قوتوں سے نشو ونما پاتی ہیں اور نئے نئے خیالات و جذبات ادا کر سکنے پر ان کی بقا کا انحصارہے۔ حوالہ مولوی عبدالحق کے نام۔اُردو شاعری ہندوستان کے دور انحطاط کی پیداوار ہے۔ اس لیے کمزور، غیر فطری اور حد درجے کی مصنوعی ہے۔حوالہ انوار اقبال صفحہ ۵۳۔”آرٹ“ارٹ مقدس جھوٹ ہے۔ حوالہ افکارپریشان ۷۲ /اپریل ۰۱۹۱ء۔حصہ:۔، قرآن و اسلام۔الکم اللہ الملک اللہ۔”قرآن کے الفاظ و مطالب الہی ہیں“ فارمن کرسچین کالج کے پرنسپل ڈاکٹر لوکس نے پوچھا: آپ کے نذدیک آپ کے نبیؐ پر قرآن کا مفہوم نازل ہوا تھا جسے وہ اپنے الفاظ میں بیان کرتے یا الفاظ ہی نازل ہوئے تھے؟فرمایا؛ میرے نذدیک قرآن کی عبارت عربی زبان میں حضورؐ پر نازل ہوتی تھی۔، قرآن کے مطالب ہی نہیں الفاظ بھی الہی ہیں۔ڈاکٹر لوکس نے کہا:میری سمجھ میں نہیں آتا، آپ جیسا عالی دماغ فلسفی الہام لفظی پر کیوں اعتقاد رکھتا ہے۔ فرمایا: میں اس معاملہ میں کسی دلیل کا محتاج نہیں، مجھے خود اس کا تجربہ ہے۔میں پیغمبر نہیں، شاعر ہوں۔ شعر کہنے کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو بنے بنائے اور ڈھلے ڈھلائے شعر اُترنے لگتے ہیں۔ انہیں بعینہہ نقل کر لیتا ہوں۔ اگر ایک شاعر پر پورا شعر نازل ہو سکتا ہے تو اس میں تعجب کیا، آنحضرت صلہ اللہ علیہ وسلم پر قرآن کی پوری عبارت لفظ بہ لفظ ہوتی تھی حوالہ۔ ذکر اقبال سالک۔حصہ:۔تصوف۔تصوف دین نہیں فلسفہ ہے۔”تصوف“۔اس میں ذرا شک نہیں کہ تصوف کا وجودہی سر زمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے، جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے۔حوالہ سید سیلمان ندوی کے نام۔”تصوف کا مذہبی پہلو“ مذہبی پہلو سے دیکھاجائے تو تصوف عبارت ہے اس بغاوت سے جو فقہائے متقدین کی لفظی حیلہ تراشیوں کے خلاف پیدا ہوئی۔حوالہ پانچواں خطبہ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ صفحہ۱۳۲۔”تقلید“ میں مثنوی مولانا روم کی تفسیر میں مولانا اشرف علی تھانوی کا مقلد ہوں۔حوالہ اسرار خودی مقالات صفحہ ۸۷۱۔حصہ:۔ تاریخ و سیاست۔ صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ۔”اسلام“ ایک سبق جو میں نے تاریخ اسلام سے سیکھا ہے۔ یہ ہے کہ صرف اسلام تھا۔جس نے آڑے وقتوں میں مسلمانوں کی زندگی کو قائم رکھا، نہ کہ مسلمان۔”پان اسلام ازم“ پان ازم ایک باطل اصطلاح، جسے یورپ کے سیاست دانوں نے عالم اسلام کے خلاف ریشہ د وانیوں اور فتنہ انگیزیوں کے لیے وضع کیا ہے۔حوالہ بر روایات سید نذیر احمدمکتوبات اقبال صفحہ۷۹۔حصہ:۔ قادیانیت۔ قادیانی اسلام کے غدار ہیں۔”ختم نبوت“ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد از اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں۔یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں دا خل نہ ہونے والا کافر ہے۔ تو وہ شخص کذاب ہے اور واجب القتل ہے۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔حوالہ انوار اقبال مرتبہ بشیر احمد ڈار صفحہ۵۴۔۶۴۔
علامہ ڈاکٹر سر شیخ محمد اقبال ؒ اتحاد کے امت کے داعی تھے۔ ساری زندگی قومیتوں میں تقسیم،مسلمانوں کو قرآن و حدیث پربلاتے رہے۔ اپنی ساری عمر مسلمانوں کو ایک نکتے پر جمع کرنے کے لیے وقف کر دی تھی۔مسلمان رہتی دنیا تک علامہ اقبالؒ کے افکار سے ہدایت لیتے رہیں گے۔
جو کہتے ہیں:۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
جو کہتے ہیں:۔
طہران ہو گر عالم مشرق کا جینیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے۔
جو کہتے ہیں:۔

یوں تو تم سیّد بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
جو کہتے ہیں:۔
بتان رگ و خون کو چھوڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی
اس کتاب کا مطالعہ اقبال کو چاہنے والوں کے لیے مفیدہے۔اللہ مسلمانوں کو اتحاد واتفاق نصیب فرمائے۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں