0

۔،۔کاروباری شیخ۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔

0Shares

۔،۔کاروباری شیخ۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔
رمضان المبارک کی آمد آمد میں چھٹی کے دن خیراتی کاموں میں مصروف تھا کہ اچانک کسی نے داخلی دروازے پر زور سے دستک دی میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے پریشان اجنبی شخص میرا منتظر تھا میں نے سوالیہ نظروں سے اجنبی کی طرف دیکھا تو اُس نے سڑک پر کھڑی گاڑی کی طرف اشارہ کیا اور بولا سراس کار میں شیخ نذیر صاحب آپ کو سلام کر نے آئے ہیں اُس کے بولنے پر میری یادداشت کا سسٹم آن ہوا اور میں شیخ نذیر صاحب کے بارے میں معلومات تلاش کرنے لگا لیکن میری یہ کوشش ناکام ہوئی میں نے نفی میں سر ہلایا کہ میں کسی شیخ نذیر صاحب کو بلکل بھی نہیں جانتا تو وہ شخص بولا سر میں شیخ صاحب کو آپ کے پاس لے کر آتا ہوں کہ اُن کے چہرہ دیکھ کر آپ آسانی سے ان کو پہچان سکیں اُس کے ساتھ ہی وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا اِسی دوران ڈرائیونگ سیٹ پر ڈرا ئیور بھی اُتر کر آگیا اب دونوں نے مل کر دروازہ کھولا اور فرنٹ سیٹ پر براجمان بھاری بھر کم شخص نذیر صاحب کو اتارنے کی کوشش کرنے لگے بھاری بھر کم شخص شدید بیمار اور فالج زدہ لگ رہا تھا کیونکہ فالج کے حملے کی وجہ سے اُس کے جسم کی لچک ختم ہو چکی تھی آدھا دھڑ تختہ بن کر سخت بن چکا تھا شیخ صاحب کے بے لچک بھاری جسم کی وجہ دونوں نے بڑی مشکل سے شیخ صاحب کو گاڑی سے باہر نکالا شیخ صاحب کی حالت زار دیکھ کر میں بآواز بولا آپ اِن کو وہیں پر رکھیں میں ادھر آجاتا ہوں تو ساتھ آیا شخص بولا نہیں جناب شیخ صاحب کی خواہش ہے وہ آپ کے پاس زیادہ عرصہ بیٹھ کر آپ کی صحبت سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں اِسی دوران میری نظر شیخ صاحب کے پتھرائے بے جان زرد چہرے پر بڑی تو یاداشت نے کام کر نا شروع کر دیا اور شیخ صاحب کی معلومات دماغی سکرین پر اجاگر ہوتی شروع ہو گئی مجھے بیس سال پرانا کاروباری شیخ یاد آگیا جس کو لوگ کاروباری دنیاکا بادشاہ کمپیوٹر کہتے تھے جو بازار کے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا کنگ تھاشیخ صاحب کے بھائی بھر کم لاشے کو گھسیٹے ہوئے دونوں بندے میری طرف لارہے تھے شیخ صاحب کا جسم بازو جھول رہے تھے ان میں اتنی طاقت بھی نہیں تھی کہ اپنے قدموں کا توازن قائم رکھ کر چل سکیں وہ دوسروں کے سہارے پر جھولتے ہوئے میری طرف آرہے تھے میں نے دروازہ کھولا اور بڑھ کو دونوں کی مدد کرنے کی کوشش کی تاکہ شیخ صاحب کو آسانی سے اندر لایا جاسکے پھر ہم تینوں نے شیخ صاحب کے ہاتھی سائز جیسے جسم کو لا کر صوفے پر ڈھیر کر دیا شیخ صاحب کو لانے کی اِس دھینگا مستی نما کو شش میں شیخ صاحب کا سانس چڑھ گیا تھا وہ لمبے لمبے سانس لے کر اپنی سانسوں کی ترتیب تو ازن کو نارمل کر نے کی کوشش میں لگے تھے اُن کی حرکات سکنات اور بیٹھے سے پتہ چل رہا تھا کہ اُن کو ادھا جسم پتھر کا بن چکا ہے لہذا اب ایک ہاتھ اور ٹانگ دھڑ کام کر تا ہے۔ میں شیخ صاحب کی حالت زار دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا ہمدردی سے اٹھا پانی گلاس میں بھر کر قریب جا کر اُن کے ہونٹوں سے لگا دیا شیخ صاحب نے بڑی مشکلوں سے پانی لیا ساتھ میں وہ میر ی طرف مسلسل شکر گزار نظروں سے بھی دیکھتے جارہے تھے شیخ صاحب نے پانی پی لیا تو میں اُن کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا شیخ صاحب کے جو ساتھ کام کر تا تھا اُس کو اٹھا کر ماتھے پر رکھ کر سلام کیا اور بے ربط ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں سلام اور شکریہ کیا پھر چھت کی طرف دیکھ کر اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے دونوں ہاتھ معافی کے انداز میں جوڑ کر معافی معافی کہا ان کا انداز بتا رہا تھا وہ پروردگار سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے ساتھ ہی دعائیہ الفاظ کہ اللہ تعالی ان کو اب صحت دے دے میں بھی حق تعالی سے معافی اور پناہ مانگ رہا تھا کہ اللہ تعالی کسی کو بھی ایسی حالت سے دوچار نہ کرے ساتھ ہی مجھے بیس سال پہلے کے پھرتیلے چاک و چوبند شیخ صاحب یاد آگئے جو طاقت ورجسم اور شاطر دماغ کے ساتھ کاروباری حلقے پر راج کررہے تھے بیٹی کی شادی کی تو اُس کو سسرال میں مسائل پیش آئے داماد تنگ کر تا تھا لہذا روحانی مدد کے لیے میرے پاس آتے تھے چند ملاقاتوں میں ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ شیخ صاحب بہت چالاک ذہین شاطر انسان ہیں اور کنجوسی کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے اپنی ذات اور خاندان کے علاوہ کسی دوسرے یا غریب پر ایک پیسہ لگانا بھی گناہ عظیم سمجھتے تھے لالچی اور کاروباری اِس قدر کے حرام حلال کی ساری اخلاقیات کو دفن کر چکے تھے شیخ صاحب کو پیسہ اکھٹا کر نے کا جنون تھااور وہ دن رات اپنی ذہانت دولت اور جسمانی طاقت دولت کے ذخائر کو بڑھانے میں لگے ہوئے تھے شیخ صاحب میرے پاس آنے سے پہلے چند بابوں کے پاس گئے جب بنگالی جادوگروں نے بڑی رقم کا مطالبہ کیا تو شیخ صاحب بھاگ نکلے پھر جب میرے پاس آئے اور پتہ چلا کہ میں پیسے نہیں بلکہ خدمت خلق کے تحت مفت روحانی علاج کر تا ہوں تو میرے بہت زیادہ گرویدہ ہو گئے کیونکہ یہاں پر پیسے نہیں مانگے جاتے تھے اِسطرح میری شیخ صاحب سے دوستی بھی ہو گئی انہی دنوں شیخ صاحب کے چند کاروباری دوستوں سے لمبی ملاقات ہوئی تو ان دوستوں سے پتہ چلا کہ شیخ صاحب کاروباری حلقوں میں کاروباری بادشاہ کے نام سے جانے جاتے ہیں کاروبار کو کیسے پروان چڑھانا ہے اور دولت کس طرح کمانی ہے یہ شیخ صاحب سے اچھا کوئی نہیں جانتا شیخ صاحب کاروبای دنیا کے جادوگر ہیں جو پیسہ کمانے کے ساے بھید جانتے ہیں میری جب شیخ صاحب کے دوستوں سے ملاقاتیں ہوئی اور شیخ صاحب کی عادت سے بھی باخبر ہوا تو مجھے اچھا نہ لگا اور پھر آخری حرکت شیخ صاحب نے ایسی کہ میں شیخ صاحب سے دور ہوتا چلا گیا مجھے یاد ہے وہ دن جب مجھے شیخ صاحب اپنے بہت بڑے گودام میں لے گئے جہاں پر ہزاروں من غلہ اناج مختلف چیزیں بکھری پڑی تھیں ایک کونے میں مختلف خراب چیزیں پڑی تھیں تو میں نے شیخ صاحب سے کہا شیخ صاحب یہ مال تو سڑ رہا ہے خراب ہے اِس کو یہاں کیوں رکھا ہوا ہے تو شیخ صاحب شاطرانہ مسکراہٹ سے بولے مجھے لوگ ایویں نہیں کاروباری کنگ کہتے یہ سارا خراب مال جب رمضان کا مہینہ آتا ہے اور لوگ دھڑا دھڑ راشن بڑی مقدار میں خریدتے ہیں تو میں اِس خراب مال کو باقی مال میں مکس کر کے بیچ دیتا ہوں اِس طرح میرا خراب مال بھی بک جاتا مجھے شیخ صاحب کی یہ چالاکی بہت بری لگی اِس میں نے اِن سے دور ہو تا چلا گیا آج کئی سالوں بعد یہ لاش کی طرح میرے سامنے تھے مجھے دعا کا کہہ رہے تھے میں اٹھا شیخ صاحب کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور بولا شیخ صاحب آپ ساری زندگی ملاوٹ شدہ خراب مال لوگوں کو بیچتے رہے خدا نے تمہارے جسم میں ملاوٹ ڈال دی اگر آپ صحت مند ہو نا چاہتے ہیں تو کریں اور خالص مال اپنا حصہ ڈال کر رمضان میں اور سارا سال لوگوں کو بیچیں تاکہ کفارہ ہو سکے خدا کو آپ پر رحم آئے شیخ صاحب نے زارو قطار رونا شروع کر دیا اور وعدہ کر کے ہاتھ جوڑ کر چلے گئے میں رب کو ایسے ہی مناؤں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں