
-،-فرینکفرٹ میں چھٹی سالانہ اربعین واک، امام حسینؑ کے پیغامِ حق و انسانیت کو خراجِ عقیدت- نذر حسین-،-
*جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں امام حسینؑ کی عظیم قربانی، شہدائے کربلا کی یاد اور پیغامِ انسانیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے چھٹی سالانہ اربعین واک کا انعقاد کیا گیا۔ پُرامن واک میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، جن میں مختلف عمر کے افراد کے علاوہ ننھے بچے بھی شامل تھے۔ شرکاء نے امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے حق، صداقت، عدل، آزادی، صبر، قربانی اور انسانیت سے محبت کے عالمگیر پیغام کو اجاگر کیا*
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ-اربعین واک میں شرکاء نے سیاہ لباس زیبِ تن کر رکھے تھے جبکہ ہاتھوں میں امام حسینؑ سے عقیدت اور کربلا کے پیغام پر مبنی بینرز اور پرچم موجود تھے۔ واک کا مقصد محض مذہبی وابستگی کا اظہار نہیں تھا بلکہ ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد، حق و صداقت کے قیام، انسانی وقار اور امن و محبت کے پیغام کو عام کرنا بھی تھا۔فرینکفرٹ میں اربعین کے موقع پر اس نوعیت کی یادگاری سرگرمیوں کا سلسلہ گزشتہ چھ برس سے جاری ہے۔ اس واک میں پاکستانیوں کے علاوہ عرب، ترک اور ایرانی افراد بھی بھرپور شرکت کرتے ہیں، جس سے یہ اجتماع مختلف ثقافتوں اور قومیتوں کے درمیان مذہبی عقیدت، بھائی چارے اور یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔اربعین واک کا آغاز بورسے پلاٹس سے تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے عاشورہ اور اربعین کی اہمیت، واقعۂ کربلا کے تاریخی پس منظر اور امام حسینؑ کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ امام حسینؑ کی قربانی کسی ایک قوم، ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ حق، انصاف، آزادی اور انسانی عزت و وقار کے لیے ایک عالمگیر مثال ہے۔شرکاء کا جلوس فرینکفرٹ کی مختلف شاہراہوں سے گزرتا ہوا تقریباً دو گھنٹے بعد باسلر پلاٹس پہنچا، جہاں مقررین نے شرکاء سے خطاب کیا۔ واک کے دوران شرکاء نے انتہائی پُرامن انداز میں اپنی مذہبی وابستگی اور عقیدت کا اظہار کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل اعلانات بھی کیے جاتے رہے کہ راستہ کھلا رکھا جائے تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔واک کے دوران اس بات کا بھی خصوصی خیال رکھا گیا کہ ہنگامی امدادی گاڑیوں کو راستہ دیا جائے۔ ایک موقع پر ایمبولینس کے گزرنے کے لیے شرکاء نے فوری طور پر راستہ خالی کیا، جس سے منتظمین کی جانب سے نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔
اربعین کیا ہے؟
اربعین اسلامی تاریخ میں امام حسینؑ کی شہادت کے چالیسویں دن کی یاد میں منایا جانے والا ایک اہم موقع ہے۔ واقعۂ کربلا کے بعد اربعین کی مناسبت سے امام حسینؑ کی قربانی، استقامت اور حق کے لیے جدوجہد کو یاد کیا جاتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اس موقع پر مجالس، اجتماعات، جلوس اور واکس کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ عراق کے شہر کربلا میں اربعین کے موقع پر دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں سے ایک منعقد ہوتا ہے۔روایات کے مطابق صحابیِ رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ اربعین کے موقع پر کربلا پہنچے اور امام حسینؑ کی قبرِ اطہر کی زیارت کی۔ شیعہ روایات میں اسے امام حسینؑ کی شہادت کے بعد پہلی زیارتِ اربعین کے طور پر خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
نجف سے کربلا تک عظیم روحانی سفر
عراق میں اربعین کے موقع پر لاکھوں بلکہ کروڑوں زائرین نجف سے کربلا تک پیدل سفر کرتے ہیں۔ تقریباً 80 کلومیٹر پر محیط اس راستے کو طریق الحسین کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ راستے میں مختلف مقامات پر زائرین کے لیے کھانے، پانی، آرام، طبی امداد اور دیگر سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔اس عظیم سفر کی ایک نمایاں خصوصیت عراقی عوام اور دیگر رضاکاروں کی جانب سے زائرین کی خدمت ہے۔ راستے میں مختلف موکب قائم کیے جاتے ہیں جہاں زائرین کو کھانا، پانی، چائے، شربت اور دیگر اشیائے خورونوش پیش کی جاتی ہیں۔ متعدد مقامات پر رہائش، طبی امداد، صفائی، مساج اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ خدمت کرنے والے افراد زائرین کو اپنے موکب میں کھانا کھانے اور آرام کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔یہ جذبۂ خدمت اربعین کے روحانی سفر کا ایک اہم پہلو سمجھا جاتا ہے۔ مختلف ممالک سے آنے والے زائرین ایک ہی راستے پر سفر کرتے ہیں اور مختلف زبانوں، قومیتوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ محبت، تعاون اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔فرینکفرٹ کی اربعین واک بھی اسی جذبۂ عقیدت، امن، خدمت اور انسانیت کے پیغام کی عکاسی کرتی نظر آئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امام حسینؑ کی تعلیمات میں موجود حق و صداقت، ظلم کے خلاف استقامت، انسانی وقار اور مظلوموں کی حمایت کے پیغام کو معاشرے میں اجاگر کیا جاتا رہے گا۔فرینکفرٹ میں منعقد ہونے والی یہ پُرامن اربعین واک نہ صرف امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی یاد تازہ کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے مختلف قومیتوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے امن، بھائی چارے اور انسانیت کے عالمگیر پیغام کو بھی نمایاں کیا۔






























