
۔،۔تبصرہ کتاب چھوٹی عورت۔ ناول۔میر افسر امان۔،۔
کوئی بھی تحریر جو اصلاح کی غرض سے لکھی جائے وہ اچھی چیز ہے۔میں ہر وقت کسی نہ کسی کتاب کا متلاشی رہتا ہوں۔ حضرو میں ملاقات کے دوران محمد خالد خان سے ”چھوٹی عورت“ کے عنوان سے لکھی گئی ناول کی کتاب حاصل کی۔ اس کا مطالعہ کیا،مجھے اس ناول میں معاشرے میں موجودکمزوریاں پڑھنے کا موقعہ ملا۔اس ناول کچھ کردار، جس میں بشیر احمد وفا کا پتلا، میاں نور حسین ضرورت مند مگر احسان یادرکھنے والا، نعمان ایک پست قامت لڑکی سے حقیقی عشق کرنے والا،نواب زادہ وجاہت نازونعم سے پلا،ایک پست قامت صائمہ، ایک یتیم لڑکی ارجمند،ایک نواب زادی رخشندہ، ارجمند کی والدہ، ایک غیر ملکی پرنسپل ہیں۔میرے نذدیک اگر اسے کسی وقت معاشرے کی اصلاح کے لیے فلمایا جائے تو معاشرے میں اس کی بڑی قدر و قیمت ہو سکتی ہے۔اس ناول میں مصنف محمد خالد خان نے کرداروں کے ہاتھوں ایسے نازک موضوعات کو پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے جس سے معاشرے کی اصلا ح کے پہلو واضع ہیں۔ اس کو تو ہم آگے بیان کریں گے۔ قارئین حضرات کے علم میں یہ بھی لاناچاہتے ہیں کہ مصنف اس سے قبل ایسا ہی ایک تہذیبی اصلاحی ناول”امر سادھنا“ کے عنوان سے بھی لکھ چکے ہیں۔ جس پر ہم نے بھی اصلاح ہی کی خاطر تبصرہ بھی لکھا تھا۔ یہ تبصرہ ملکی غیر ملکی اخبارات، ویب سائٹز، رسائل میں شائع ہوا تھا۔ راقم نے اخبارات میں شائع شدہ تقریباً چالیس پرنٹ نکال کر مصنف کوریکارڈ کے لیے پیش کیے تھے۔نیٹ پر نہ آنے والے کئی اخبارات میں بھی یہ تبصرہ شائع ہوا تھا۔آپ اس سے اس اصلاحی ناول کا اندازہ کر سکتے ہیں۔محمدخالد خان کے ان دونوں ناولوں پر عامر اللہ نے ایم فل،موضوع”محمد خالد خان کے ناولوں کا تنقیدی مطالعہ“ڈاکٹر مظفر حسین کی نگرانی میں الحمد یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا ہے۔ناول نگاری ایک فنی اور تخلیقی عمل ہے جسے مصنف نے اس ناول میں احسن طریقے سے استعمال کیا ہے۔کہانی کی بنیاد بھی مضبوط ہے۔کہانی کا عروج اور انجام منتقی ترتیب سے ہے۔کہانی کے حقیقی کردار اپنے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔مکالموں میں کرداروں کو آگے بڑھا یا گیا ہے۔ فنی لحاظ سے یہ ایک کامیاب اصلاحی ناول ہے۔نعمان بشیر احمد خان ولد بشیر احمد قوم پٹھان کہتا ہے، گھر کا قیدی ہوں، شاید آپ یقین نہ کریں؟ یہ الفاظ نعمان ولد بشیر احمد نے اپنی بیوی صائمہ کے بارے کہے ہیں۔اس جوڑے کی جوانی سے بڑھاپے تک آ نے کے وقت کی یہ بات ہے۔کیوں نا ایسی بات ہووفادار بیوی جو ہر وقت ہر حالت میں اپنے میاں کی خدمت گزار، وفا شعور، تبع دار، جو کام میں خود اپنے ہاتھوں کر سکتا ہوں وہ بھی نہیں کرنے دیتی۔ تو بتائیں قیدی ہوں کہ نہیں!کیمبل پور کے رہنے والے نعمان خان کاوالد بشیر احمد کراچی جاکر سیلر بھرتی ہو گیا۔ کچھ مدت بعد۰ ۵۸ پانڈ کماکر واپس آیا تو ایک راولپنڈی کے رہنے والے نور حسین سے ملاقات ہوئی۔ نور حسین کو پیسوں کی ضرورت جو بشیر احمد نے پور ی کر دی۔۰۴۹۱ء میں بشیر احمد نور حسین سے ملا تھا اب۰۶۹۱ء ہو گیا۔ اس دوران نورحسین کاروبار چمک اُٹھا اور وہ میاں نور حسین بن گیا۔ نعمان کو پڑھائی کے لیے بشیر احمد نے، میاں نور حسین کے پاس بھیجا تو نعمان میاں نور حسین کے گھربیٹوں کی طرح رہنے لگا۔ایک دن میاں نورحسین نعمان کو ساتھ کر اپنے دوست بشیر احمد کے گاؤں اجوالہ پہنچ گیا۔نعمان کو میاں نور حسین کی تین بیٹیوں میں سے بڑی بیٹی صائمہ جوچھوٹے قد کی تھی، جس نے خوب خدمت کی تھی نعمان کادل اس سے لگنے لگا۔ بشیر احمد میاں نور حسین کے گھر آتے ہیں اس کی بڑی بیٹی صائمہ جو چھوٹے قد کی ہے جس کارشتہ نہیں آرہا تھا، نعمان کے لیے مانگتے ہیں شادی ہو جاتی ہے۔ایک دوسرے پر احسان کے بدلے چکاتے ہیں۔ نواب وجاہت سے ارجمنددیدی کابیٹا بھی چھوٹے قد کا پیدا ہوتا ہے۔ پروفیسرکی بیٹی زریاب کی پیدائش پر صائمہ بیوی کی جان بچانے کے لیے قربانی کی اورنس بند کرا لی۔آخر میں نواب وجاہت کی سیکنڈ بیوی ارجمند دیدی سے چھوٹے قد کے بیٹے سہیل کی شادی کی صائمہ کی بیٹی زریاب سے ہوتی ہے۔ نواب وجاہت اور اس کی بیوی رخشندہ اورسیکنڈ وائف ارجمد بانو کے گرد کھومتی ہے۔ نواب وجاہت کے دوبچے سینٹ پال ایک ہائی کلاس اسکول میں پڑھتے ہیں۔ اسی اسکول میں ایک غریب گھر کی ارجمندبانو لڑکی ٹیچر کی حیثیت سے ملازم ہے۔ جو ان بچوں کوٹیویشن پڑھانے لگتی ہے۔بچے ارجمند کی کلاس میں آجاتے ہیں۔ بہت ہی ڈسپلنڈ بچے تھے۔ گھر کے بارے کچھ معلوم کرتی تو جب ماں باپ بات آتی تو خاموش ہو جاتے۔میں نواب وجاہت بارے معلوم کرنا چاہتی تھی۔ایک دفعہ بچوں کوفرسٹ پوزیشن ملی تونواب وجاہت اسٹڈی روم آئے، مجھے مبارک باد دی۔بچوں کے ساتھ مری جانے کی دعوت دی۔مری پہنچ گئے۔ ارجمند بانوکے دلوں میں خواب اُٹھنے لگے۔واپسی پے بچوں نے پچھلی سیٹ پر اپنی اپنی کھڑکی کے سامنے بیٹھنے کی ضد کی۔ نواب وجاہت نے مجھے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا کہا۔گیرا سانس لیا دو بچوں کا باپ بیوی موجود، مگر مجھے زندگی پیاری تھی۔وجاہت کے ارجمند بانو سے بیٹے سہیل کا قد چھوٹا تھا۔ زریاب پروفیسر کی بیٹی، تعلیم کی وجہ سے سہیل سے مانوس ہو گئی۔ زریاب نے اپنی محبت بارے باپ کو محبت کو اعتماد میں لیا۔ نواب وجاہت مری سیر کے دوران اپنی کہانی ارجمندبانو کو سناتا ہے۔میری بیوی میری کزن ہے۔ایک ڈاکٹرجو ہمارے گھر آیا تھاکہا،کزن کی شادی میں بہت مسائل ہیں۔ میری بیوی یہ بات دل میں بیٹھا لی۔شادی کی پہلی رات رخشندہ نے اس کی مجھ سے وضاحت مانگی۔ میں ٹالتا رہا اور شادی انجوائے کرتا رہا۔دو بچے ہوگئے مگر رخشندہ سائیکو ہو گی۔ مہنگے علاج کرائے مگر صحت یاب نہ ہوئی۔ نواب وجاہت نے ارجمند بانو سے کہامجھے دوسری شادی کرنی ہے۔مگر خاندان کی مطابق جب میری رخشندہ صحت ہو جائے تو اس کو طلاق دینی پڑے گی۔ارجمند نے کہاماں سے اجازت لینی پڑھے گی آپ نے میری ماں سے رشتہ مانگنا ہو گا۔ وجاہت کامذہبی گھرانہ ہونے کی وجہ سے ماں نے اجازت دیاور شادی ہو گئی۔ارجمند نواب وجاہت سے کہتی ہے۔ رخشندہ بی بی انشا ء اللہ صحت مند ہو جائیں گی۔نواب زادی رخشندہ اور، ارجمند کا مکالمہ ہوتا ہے۔ رخشندہ آپ سائیکو ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر کے مشورے مجھ سے نواب وجاہت کی شادی اس شرط پر ہوئی کہ جب آپ صحت مند ہو جائیں گے تو مجھے طلاق دے دی جائے گی۔دونوں آپس میں دکھ سکھ بیان کرتیں ہیں۔ رخشندہ کو اللہ صحت عطا فرما دیتا ہے۔ رخشندہ،ارجمند کو”دیدی“ کے نام سے پکارنا شروع کرتی ہے اور پیر مان لیتی ہے۔ نواب وجاہت والد کو علاج کے لیے لندن لے جاتا ہے تو ارجمند نے نواب وجاہت کا سارا کاروبار سنبھال لیا۔ ساتھ رخشندہ بھی صحت مند ہو کر دوبارہ شامل ہو گئی۔ارجمنددیدی کی شریفانہ برتاؤ سے رخشندہ کی نئی زندگی لوٹ آئی تھی۔ ارجمند دیدی کو اللہ پست قد بیٹا دیا سہیل عطا کیاہے۔ایک عورت نے اپنی اولاد کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیا اور میں نے اپنی محبت کے لیے اولاد کو۔پن ڈارپ سائلنس۔اس ناول میں قربانی، ایثار، ایک دوسرے کی مدد،معاشرے میں تہذیبی کمزروی کی نشان دہی اورخود اعتمادی کا سبق ملتاہے۔ ناول نگار کی اصلاعی محنت رنگ لائے گی۔ کتنی الجی ہوئی گدتھیاں کھلیں گی۔ اس ناول کامطالعہ سب کے لیے فاہدہ مند ہے۔