
۔،۔ایک بار پھر تنہا ہوتا اسرائیل۔میر افسر امان۔،۔
کہتے ہیں نا کہ”سانپ کی موت آتی ہے تو وہ سڑک پر نکل آتا ہے“۔اس دور کا یہود امریکا کی آشیر باد پر ظلم پر ظلم کرتے کرتے سڑک تو دور، شاہراہ پر آ نکلا ہے۔ اب مرنا اس کامقدر ہو گیا ہے۔ یہود کو اگر ہم سانپ تصور کریں، تو دو ہزار سالوں سے زیادہ مدت سے یہ دنیا میں بکھرے پڑے تھے۔ کہیں ان کے پاس خطہ زمین نہیں تھا۔ کہیں بھی یہود کی حکومت نہیں تھی۔ کہیں بھی ان کو بحیثیت قوم بننا نصیب نہیں ہوا تھا۔ جب بنی اسرائیل کی خرابیاں انتہا کو پہنچیں تو اصلاح کے لیے،اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ ؑکو مبعوث فرمایا۔ انہوں نے اصلاح کی کوشش کی۔ مگر انبیاء کو اعلانیہ قتل کرنے والے یہود نہیں مانے۔ بلکہ یہود نے انبیاء پر الزامات لگائے۔ اعلانیہ کہتے ہیں کہ عیسیٰؑ کو انہوں نے سولی پرچڑھایا ہے۔ جب کہ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسی ؑکو آسمان پر زندہ اُٹھا لیا ہے۔ وہ پھر ظہور فرمائیں گے۔ یہودیوں کی سازشیوں کی وجہ سے عیسائی ان کو اپنے ملکوں سے نکالتے رہے۔ہم نے ایک علیحدہ مضمون بعنوان”یہودی یورپ کے ملکوں سے کب کب نکالے گئے“میں ساری تفصیل درج کی ہے۔ زمانہ قریب میں جرمنی کے عیسائی ہٹلر کی یہودیوں کو سزا سے تو دنیا واقف ہے۔ یہودیوں نے اسے ”ہولو کاسٹ“ کا نام دیا ہوا ہے۔کچھ مدت ہوئی یہودیوں نے اتنی طاقت پکڑ لی،کہ عیسائی جو ان کے دشمن تھے، مکاری سے اپنا ہم نوا بنا لیا۔ بلفور معاہدے کے تحت یہودی فلسطین پر قابض ہو گئے۔ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر یہودی بستیاں بسا دیں۔ اقوام متحدہ کے منع کرنے پر بھی نہیں روکے،اب بھی یہودی بستیاں بسارہا ہے۔ اس پر فلسفی شاعر، سر ڈاکٹر شیخ علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے ایک شہر میں فلسطینی عربوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا:۔
تیری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے
ترک عثمانی اسلامی خلافت میں یہودی امن سکون اور آزادی سے رہ رہے تھے۔ ان کے دانشور اپنی تحریروں میں خود لکھتے ہیں کہ دنیا میں یہود کو کہیں امن نصیب ہوا تو مسلمانوں کے اسپین اورترک سلطنت میں ہوا۔ مگر پھر بھی یہ آستین کے سانپ ترک حکومت اسلامی خلافت کے خلاف حسب عادت سازشیں کرتے رہے۔ ترکی کے زوال کے دنوں میں قوم پرست اور سیکولر تنظیمیں بنائی۔ آزاد خیال ترک نوجوانوں کی”ڈونمہ“ نام سے تنظیم بنائی۔ ان میں دھوکے بازی سے بظاہر مسلمان بن کر یہودی شامل ہوئے۔ ترکی کی اسلامی خلافت کو یورپ کی جمہوریت تبدیل کرنے کی سازش کی جوکامیاب ہوئی۔ اُس وقت فلسطین ترکوں کی پونے چاربراعظموں قائم حکومت میں شامل تھا۔ ہرتزل تھیوڈر جو صہیونی تحریک کا بانی ہے۔عثمانی ترک خلیفہ کو پیسوں کی لالچ دی اور کہا فلسطین میں یہود کو آباد ہونے دو۔مگر ترک عثمانی خلیفہ نے اس کے پیسوں کو ٹھکرا دیا تھا۔ جب ترکی سلطنت کو انگریزوں نے ختم کیا تو خلیفہ کو معزول کرنے کے لیے انگریزوں نے تھیوڈر ہرتزل کے اُسی نمائندے کو خلیفہ کی معزولی کا پروانہ دے کربھیجا تھا جو پہلے کبھی پیسے کی لالچ دے کر فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت مانگتا تھا۔ یہ احسان فراموش یہود کی تاریخ میں لکھی ہے۔ جب ترکی کے پونے چار براعظموں پر قائم سلطنت کے انگریزوں نے حصے بخرے کیے،تو فلسطین برطانیہ کے حصے میں آیا۔ یہود نے برطانیہ کے حکمرانوں کو پیسے دے کربلفور معاہدے کے تحت فلسطین میں قدم جمائے، جو ابھی تک جاری ہے۔ یہود یوں نے اپنی خاندانی سرشت کے مطابق فلسطین میں تیسرا فساد برپا کر رکھا ہے۔ جب حماس نے اس فساد کے خلاف ۷/اکتوبر ۳۲۰۲ء اسرائیل کے اندر گھس کر اس کے ناقابل شکست ہونے کاغرور پاش پاش کیا۔دو ہزار یہودی ہلاک دو سو پچاس کو اپنے قیدی چھڑانے کے لیے یرغمال بنا لیا۔ یہودی اس شکست کا بدلہ حماس سے تو نہ لے سکا۔ غزہ کی بستی کو زمین بوس کر دیا۔نوے فی صد عمارتیں بلڈوز کر دیں۔غزہ کے لاکھوں لوگوں کو شہید کر دیا۔ ان میں محصوم بچے،خواتین و مرد شامل ہیں۔ اب بھی غزہ کی نسل کشی میں جاری ہے۔ سیکڑوں ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔قرآن میں بنی اسرائیل سورۃ آیت نمبر ۴۔۸ کے مطابق اس سے قبل یہودی دو دفعہ، اللہ کی نافرمانی،انبیاؑ ؑکا قتل، ظلم زیادتی اور فساد برپا کر چکے اور دو دفعہ اللہ نے بیرونی طاقتوں سے یہود کو سزا دی۔ تفاسیر کے مطابق پہلے بخت نصر سے اور دوسری بار رومی عیسائیوں کے ہاتھوں۔اب تیسرے فساد کی سزا مسلمانوں سے آخری جنگ میں پائیں گے۔ حدیث رسولؐاللہ کے مطابق فلسطین میں مسلمانوں سے آخری جنگ ہو گی۔ یہود اس جنگ میں مسلمانوں سے شکست کھائیں گے۔ ہر درخت اور پتھرکہے گا، اے مسلمان یہودی ہمارے نیچے چھپا ہوا ہے۔ اسے فلسطینیوں پر مظالم کے بدلے قتل کرو۔ صرف ایک درخت نہیں بتائے گا جس کا نام”غرقد“ہے۔ آپ نیٹ پر گوگل کر کے دیکھیں۔ یہ درخت اسرائیل کی شاہراہوں پر بے انتہا لگا ہوا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے ان کو اللہ سے خوف ہے۔ رسولؐ اللہ کی اس حدیث کو بھی سچا مانتے ہیں۔ مگر اپنی سرشت کے مطابق شیطان کے چیلے بنے ہوئے ہیں۔ اللہ نے یہود کوآخری سزا دینے سے پہلے تنہا کرنا شروع کر دیا ہے ”گریٹا تھن بھرگ“ انسانی حقوق کی عالمی علمبردار لڑکی نے کہا کہ مجھے اسرائیل سے نہیں، دنیا کے ملکوں سے شکایت ہے کہ ا نہوں انسانیت کو بچانے کے احساس کو ضائع کر دیا ہے۔ غزہ کی نسل کشی پر”عالمی عدالت انصاف“ نے نیتن اور اس کے وزیر دفاع کو جنگی مجرم قرار دیا ہوا ہے۔ مملکتوں کو ان کو گرفتار کرنا حکم جاری کیا ہے۔ کئی یورپی ملکوں نے نیتن کو اپنی فضا استعمال کرنے سے منع کر رکھا ہے۔فلسطین کے حق میں اقوام متحدہ نے قراردادیں منظور کیں۔ یہود ہمیشہ ان قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتا رہا۔زور زبردستی سے فلسطینیوں کو ان گھروں سے نکال کر قبضے کرتا رہا۔ مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں بساتا رہا ہے۔فلسطینیوں ں کی نسل کشی کرتا رہا۔ ہزاروں فلسطینیوں کو قید کر رکھا ہے۔ اب قیدیوں کو سزائے موت دینے کا قانون پارلیمنٹ سے پاس کرایا۔ پھانسی دینا شروع بھی کر دیا۔اخبارات میں رپورٹ جاری ہوئی کہ اسرائیل کی فوجی چھاؤنی کے اندر ایک جیل میں فلسطینی قید تھے۔ اسرائیلی فوجیوں نے ظلم و سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے پچاس فلسطینی قیدیوں کے بڑے پاخانے کے راستے میں ڈھنڈے ڈال ڈال کر اذیتیں دیں۔ جس سے وہ شہید ہوگئے۔ انتظامیہ نے مجرم فوجیوں کو گرفتارکیا۔ مگریہودی شہریوں کے ہجوم نے حملہ کر کے ان مجرم فوجیوں کو آزاد کرا لیا۔اسطرح یہودیوں نے غزہ جنگ کے دوران اسی(۰۸) سرکٹیں فلسطینیوں کی لاشوں کو ٹرک سے غزہ کی سڑکوں پر پھینک دیا۔ ظلم کی انتہا کہ ان کے رشتہ داروں کو ان لاشوں کے نام پتے بھی نہیں بتائے۔ امریکا ویٹو پاور کے تحت اسرائیل کی مددکرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے۔ دنیا نے اسرائیل کے مظالم کی وجہ سے اسے انسانی برادری سے خارج کر دیا ہے۔ دنیا کے انصاف پسند عوام یہودیوں کے خلاف ہو گئے ہیں۔اقوام متحدہ میں نیتن کی تقریر پر اسی فیصد مملکتوں کے نمائندوں نے واک آؤٹ کیا اور نیتن کی تقریر نہیں سنی۔ نیتن نے صدی کا جھوٹ بول کر کہاکہ دنیا میں فلسطین نام کا کوئی ملک نہیں۔ میرا مذہبی فریضہ ہے کہ میں گریٹر اسرائیل بناؤں۔جبکہ دنیا کے سا ٹھ فی صدی ملکوں نے فلسطین کو مملکت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ کئی ملکوں نے اپنے ہاں فلسطین کے سفارت خانے بھی کھول دیے ہیں۔ امریکی عوام اور دنیا نے اسرائیل کے حامی ٹرمپ کو بھی دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔”ہیلری کلنٹن“سابق امریکی وزیر خارجہ نے تو الیکشن کمپین کے دوران کہا تھا، ہم اپنے بچوں کی زندگیاں ایک پاگل ٹرمپ کے ہاتھ نہیں دے سکتے۔ اس کے ہاتھ میں امریکا کے ایٹمی کوڈ نہیں ہونا چاہیے۔نیٹو نے ٹرمپ کی ایران کے خلاف مدد سے انکار کر دیا۔امریکا میں اسی لاکھ شہریوں نے ٹرمپ کی ایران جنگ کے خلاف مظاہرے کئے۔ امریکا کی پچاس ریاستوں میں اس جنگ کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے۔امریکی کانگریس میں ٹرمپ کو صدارتی رتبے سے ڈی سیٹ کرنے کے لیے چالیس ساٹھ کی ووٹنگ سے ٹرمپ کی جان بچی۔ امریکی فوج کے کمانڈر ان چیف نے استعفٰی دے دیا۔ سی آئی اے کو رپورٹ دی کہ ٹرمپ فوج سے غداری کر رہا ہے۔درجنوں فوجی جرنلز ٹرمپ کے مخالف ہو گئے۔ ٹرمپ نے درجنوں جرنیلوں کو فوج سے نکال دیا۔ امریکا میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ کیا اس درجنوں مرکزی لیڈر، بمعہ سپریم کمانڈر شہید کر دیے۔ ایران کو تباہ کر دیا۔ مگر ایران نے پلٹ وار میں مشرق وسطی میں قائم تیرہ(۳۱) امریکی اڈے تباہ و برباد کر دیے ہیں۔امریکی بحری بیڑے ایران کے قریب آئے تو ایران کے میزائیلوں نے بحری بیڑوں کو نقصان پہنچایا، جو ہزاروں میل دور بھاگ گئے۔اب مرمت کے لیے لنگر انداز ہو گئے ہیں۔ ایران امریکا اور اپنے دشمنوں کے لیے آبنائے ہرمز بند کر دی۔ امریکا اسرائیل اگر زیادہ زرو دکھائیں گے تو باب المندوب بھی بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ ایران نے اسرائیل کی ڈیفنس عمارتوں سمیت پانچ ہزار عمارتیں ملیا میٹ کر دیں۔ ایٹمی شہر ڈیمونہ کے ساتھ کئی شہریوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔شمونہ شہر تباہ ہو گیا۔ اس شہر کا میئر میڈیا میں روتا ہوا دیکھاگیا۔اب اسرائیل غزہ جیسا تباہ لگ رہا ہے۔ حزب اللہ نے اپنی سرحد کے قریب اسرائیلی شہروں میں تباہی مچا د دی۔ اسرائیل شہری سمندر کے راستے ملک چھوڑ گئے۔اسرائیل کے اندر تک حزب اللہ کے مجاہدیں گھس گئے۔ نیتن اور ٹرمپ جنگ ہار چکے ہیں۔ فیس سیونگ کے لیے پاکستان کے زریعے ایران کے دس مطالبات مان کر دو ہفتے جنگ بندی کی۔ پاکستان میں مزاکرات کے لیے ٹرمپ کا یہودی دامادجیرڈ کشنر، امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیووٹکوف اورایران کی طرف سے پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقرقالیبات، وزیر خاجہ عباس عراقچی،اسماعیل عموی، محمود نبان۔ مہدی باقر ذولقد تھے۔ اکیس گھنٹے کی بات چیت میں ایران نے اپنے تین مطالبات سر فہرست رکھے، آبنائے ہرمز پر کنٹرول، یورینیم پابندیوں کا خاتمہ اور منجمند ثاثوں کی بحالی۔ اکیس گھنٹے سے جاری مزاکرات میں کامیابی نہیں ہوئی۔امریکی ایرانی وفود اپنے ملکوں میں چلے گئے اور اگلے دور کی خواہش کی دونوں نے نوید سنائی۔ لگتا ہے اگلے دور میں ٹرمپ ایران کے سامنے ڈھیر ہو جائے گا۔اسرائیل کے تنہا ہونے کے کچھ واقعات نوٹ فرمائیں۔جنوبی کوریا کے صدر ”لی“نے ایک ویڈیو دیکھی جس میں مغربی کنارے کی بلڈنگ کی چھت سے اسرائیلی فوجی فلسطینی شہید کی لاش پھینک رہا ہے۔اس پر”لی“نے اسرائیل سے نفرت کا اظہار کیا۔اٹلی کی ”ایم پی انگلو بولی“ نے نیتن اور ٹرمپ دونوں کو اپنے ایک بیان میں جنگی مجرم کہا۔ اٹلی کی وزیر اعظم ”ملونی“ نے کہا کہ اسرائیل نے ریڈ لائن عبور کر لی۔ میں فلسطینی شہریوں کے قتل عام کی مذمت کرتی ہوں۔ اٹلی اسرائیل کے خلاف یورپی پابندیوں کی حمایت کرتی ہوں۔ امریکا کے”برنائین سیڈر“ نے امریکی کانگریس میں سب ممبران سے کہا اسرائیل کو اسلحہ نہ جانے دو۔امریکا کے ایک صحافی نے کہا دنیا کو اس بدمعاش اسرائیلی ریاست کو خود سے الگ کرنا ہو گا تب ہی دنیا میں بہتری آسکتی ہے۔بارسلونا سے ایک بار پھر سو(۰۰۱) ملکوں کابحری جہاز گلوبل صمود فوٹیلا ۶۲۰۲ء غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر امدادی سامان پہنچانے کے لیے نکل پڑا ہے۔سعودی عرب نے کہا ہم امریکا کامزید ساتھ نہیں دے سکتے۔ٹرمپ پہلے آپنے آپ کو بچائے پھر ہمیں۔امریکی سیاستدان ”جارج“ نے ٹرمپ کی لائیو شو میں کتوں والی کر دی۔ کہا تم عراق کے ملین لوگوں کے قاتل ہو۔ ہسپانوی وزیر”سیرار اریگو“ نے نیتن کو کہا آپ جرائم اور تباہی کا مکمل نظام چلا رہے ہیں۔ اٹلی کی وزیر اعظم”سلونی“ نے دفاعی معاہدہ سسپنڈ کر دیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے منسوب بیان میں بتایا گیا کہ اگر مزاکرات میں امریکا نے جنگ کاتاوان نہ ادا کیا تو خلیج فارس میں دشمن کے جہاز ضبط کریں گے،اور فروخت کر کے تاوان وصول کریں گے۔”پوپ لیو“ نے کہا میں ٹرمپ سے نہیں ڈرتا”جنگ کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا“اسرائیل سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے چائنا کے وزیر خارجہ نے کانفرنس کے دوران نیتن کی طرف سے آئی ہوئی پرچی فوراً واپس بھیج دی۔سابق امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کر کے غلطی کی گئی۔ اس سے ایران مزید مضبوط ہو گیا۔فوجی اتحادنیٹو نے ایک بار امریکی مدد سے انکار کر دیا۔ کینیڈا کے وزیر اعظم”مارک کارنی“ نے امریکا کو بقایا ملٹری فنڈ بند کر دیا۔اسپین کے وزیر اعظم”پیڈوروسانچیز“ نے کہا ہم اس شخص کی حمایت نہیں کر سکتے جو پہلے آگ لگائے پھر دھوئیں کی شکایت کرے۔ایک خطاب کے دوران اسرائیل کے وزیردفاع کے منہ پر کالک پھینک دی گئی۔سویڈش کے ایک امیر شخص نے فلسطینی بچوں کے لیے چہتر ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔ٹرمپ صدرتی عہدے کے لیے مناسب نہیں۔امریکا عوام کے احتجاج میں عوام نے پلے بارڈ اُٹھائے ہوئے ہیں۔آئر لینڈ نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لیا۔امریکا کی سیاسی تبصرہ نگار ”کنڈانس اونس“ نے کہا جب تک اسرائیل دنیا میں موجود ہے دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔امریکی اداکار”دی راک“ نے کہا ہے میری آئندہ آنے والی فلم بتائی گی کہ ایران نے کس طرح اسرائیل اور امریکا کو شکست دی۔چین کے صدر نے بیان دیا ہے اگر تیسری عالمی جنگ روکنا ہے تو اسرائیل کوغیر مسلح کرنا ہو گا۔ سوئیڈن کے وزیر اعظم”اُلف کرسٹرشون“ کا کہنا ہے اسرائیل کو بین الاقوامی اداروں سے الگ تھلگ کرنا چاہیے۔ مغربی کنارے غزہ میں تشدد کے باعث انتہا پسند اسرائیل وزراء اور آباد کاروں پر یورپی یونین نے پابندیاں عائد کرنے پر بھی زور دیا۔اقوام متحدہ کے نمائندے ”لازاراینی“ نے اسرائیل سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا اقوام متحدہ تین سو نوے امدادی کارکنوں کی ہلاکت کی تحقیق کے لیے اقوام متحدہ کو ماہرین پر مشتمل ایک اعلی سطحی پینل قائم کرناچاہیے۔ ظالم یہود نے اسرائیلی جیلوں میں قید دس ہزار فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا قانون پاس کر لیا۔ دوقیدیوں کو بجلی کی کرسی پر بیٹھا کر ظالموں نے پھانسی بھی دے دی۔ ایک ویڈیوں میں چھ فلسطینی قیدیوں کو پھانسی کی طرف جاتے ہوئے ہستے مسکراتے دیکھا گیا۔ سالانہ ہولو کاسٹ ڈے منانے والے دن،نیتن کہتا ہے، دو دفعہ کی ایران جنگ میں ایران کو ہم نے مٹی میں اُڑا دیا۔ تا کہ ہماری دوبارہ ہولو کاسٹ نہ کر ہو سکے۔ میں ایران کو ایٹمی طاقت نہیں بننے دوں گا۔ اصل بات یہ ہے کہ ایران نے اسرائیل کو تباہ کرکے غزہ جیسا تباہ حال کھنڈر ملک بنا دیا۔ان کی اپنی اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اسرائیل کی پانچ ہزار بلڈنگز کو کھنڈرات بنا دیا۔ درجنوں شہر کھنڈر بنا دیے گئے۔ جن میں ایٹمی شہر ڈیمونہ بھی شامل ہے۔ خوف سے لاکھوں اسرائیلی ملک چھوڑ گئے۔ اسی تباہی کی وجہ سے اسرائیل جنگ بندی پر رضا مند ہوا۔کمنٹیٹر ”کیڈین اون“ نے ایک بیان میں کہا، جب تک اسرائیلی حکومت ہے دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ نیٹو کے ممبر ملک اسپین کی رکن پارلیمنٹ ”لون بیریرا“ نے اپنے خطاب میں کہا، ہمیں اپنے ملکوں سے امریکی فوج کو نکال دیناچاہیے۔ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اس وقت بھی غزہ میں موجود اسرئیلی فوجی خاتون صحافی کو رپورٹنگ کرنے سے روک رہے ہیں اسے ہراساں کر رہے ہیں۔عالمی عدالت انصاف، جس نے نیتن اور اس کے وزیر دفاع کو جنگی مجرم قرار دے کر، گرفتاری کاحکم جاری کیا تھا، اب اسرائیل کو ایک غیر قانونی ریاست قرار دے دیا ہے۔”اینا کاسپرین“ امریکن ٹی وی ہوسٹ نے نیتن سے کہا آپ سے نفرت، آپ کے یہودی ہونے کی وجہ سے نہیں کی جاتی، بلکہ آپ سے نفرت معصوم لوگوں کو قتل کرنے کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ آیئر لینڈ، ناوروے،اسپین نے فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ دنیا کو کوئی بھی ملک ایسا نہیں، جس کی عوام نے فلسطین کے حق میں، اور اسرائیل کے خلاف لاکھوں کے مظاہرے نہ کیے ہوں۔خود اسرائیل کے اندر نیتن اور جنگ کے خلاف لاکھوں کے مظاہرے ہوئے۔ صہیونی یہودیوں کے علاوہ دیگر یہودی فرقوں نے اسرائیل اور دنیا کے دیگر ملکوں میں جنگ اور نیتن کے خلاف مظاہرے کیے۔ لگتا ہے پاکستان،ایران، ترکی سعودی اور قطر اتحاد قائم کر کے اسرائیل سے فلسطین آزاد کرائیں گے۔اب اسرائیل کی حالت یہ ہے کہ اسرائیل آرمی چیف نے سیکور ٹی کابینہ اجلاس میں حکومت کو آگاہ کیا فوج میں بہت کمی کا سامنا ہے۔ ریزرو فوج اب مزید جنگ نہیں لڑ سکے گی۔ اللہ اسرائیلی سفاک حکومت کے ناسور کو دنیا سے ختم کرے۔دنیا سکھ کا سانس لے۔ آمین۔