
-,-پیرس سے مارسیلیا تک ہنگامے، لوٹ مار اور افراتفری کی صورتِ حال-نذر حسین-,-
*فرانس کے بڑے شہروں میں توڑ پھوڑ، دکانوں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان؛ سینکڑوں گرفتار، سکیورٹی اہلکار بھی زخمی*
شان پاکستان جرمنی — فرینکفرٹ، پیرس، مارسیلیا، لیل، بورڈو، لیموج -غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت مختلف بڑے شہروں میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، آتش زنی اور لوٹ مار کے واقعات نے شہری زندگی کو متاثر کیا۔ سڑکوں پر ملبے کے ڈھیر، جلی ہوئی موٹر سائیکلیں اور گاڑیوں کے تباہ شدہ ڈھانچے نظر آئے، جبکہ متعدد دکانوں اور سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی حکام نے بعض علاقوں میں منظم انداز میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی نشاندہی کی۔ اطلاعات کے مطابق نقاب پوش اور سیاہ دستانے پہنے نوجوانوں کے چھوٹے گروہ دکانوں کے قریب پہنچتے، نگرانی کے کیمروں کو ناکارہ بنانے کی کوشش کرتے اور شیشے توڑ کر اندر داخل ہوتے دکھائی دیے۔ ان واقعات کے باعث دکانداروں اور کاروباری مالکان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔جنوبی شہر مارسیلیا، شمالی شہر لیل اور جنوب مغربی شہر بورڈو میں مظاہرین کی جانب سے بلدیاتی اور انتظامی عمارتوں میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وسطی فرانس کے شہر لیموج میں آتش زدگی کے نتیجے میں بلدیہ کی عمارت کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا۔ مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کے باعث معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ شہریوں میں تحفظ کے حوالے سے تشویش پائی گئی۔فرانسیسی حکومت نے سماجی کشیدگی میں اضافے اور پارلیمان میں اکثریت نہ ہونے کے باعث درپیش سیاسی مشکلات کے باوجود ہنگامہ آرائی، آتش زنی اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔ حکام کے مطابق امن و امان کی بحالی اور عوامی و نجی املاک کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اقدامات کیے گئے۔وزارتِ داخلہ کے حوالے سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مظاہروں میں شرکا کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد بتائی گئی، جبکہ احتجاج کے منتظمین نے آٹھ لاکھ افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا۔ حکام کے مطابق ہفتے کے روز تقریباً 1,200 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے تقریباً 150 اہلکار زخمی ہوئے۔فرانس میں پیش آنے والے یہ واقعات ایک بار پھر اس سوال کو اہمیت دیتے ہیں کہ عوامی احتجاج اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جان و مال، کاروباری مراکز اور سرکاری اداروں کی حفاظت کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔ پُرامن احتجاج جمہوری معاشرے کا ایک تسلیم شدہ حق ہے، تاہم تشدد، آتش زنی اور لوٹ مار کے واقعات نہ صرف عوامی تحفظ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مقامی معیشت اور معاشرتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔





