۔،۔ پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے 75  سال۔دوستی، تعاون اور مستقبل کا ایک اہم سفر۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے 75 سال۔دوستی، تعاون اور مستقبل کا ایک اہم سفر۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے 75 سال۔دوستی، تعاون اور مستقبل کا ایک اہم سفر۔ نذر حسین۔،۔

 

٭ پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونا محض ایک تاریخی سنگ میل نہیں،بلکہ دو مختلف ثقمفتوں، معاشروں اور تاریخی تجربات کے حامل ممالک کے درمیان دوستی، باہمی احترام اور تعاون کی ایک اہم داستان ہے٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/برلن/اسلام آباد۔ پاکستان اور وفاقی جمہوریہ جرمنی نے 15 اکتوبر 1951 کو باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کئے تھے، اس اعتبار سے 2026 دونوں ممالک کے تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کا سال ہے، گذشتہ ساڑھے سات عشروں کے دوران تجارت، تعلیم ترقیاتی تعاون، سائنس، ثقافت اور عوامی روابط نے اس تعلق کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔پاکستان نے جنگ عظیم دوم کے بعد دوبارہ تعمیر ہونے والے مغربی جرمنی کے ساتھ ابتدائی دور ہی میں سفارتی تعلقات قائم کئے، وقت کے ساتھ یہ تعلق محض سفارتی نمائندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تعلیمی اور ترقیاتی شراکت داری بھی فروغ پاتی رہی، جرمنی کے لئے پاکستان جنوب ایشیا میں ایک اہم ملک ہے، جبکہ پاکستان کے لئے جرمنی یورپین یونین کی ایک بڑی معیشت، صنعتی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کا اہم مرکز ہے۔ جرمنی اور پاکستان کے درمیان ترقیاتی تعاون کا آغاز 1961 میں ہوا، جرمن وزارت خارجہ کے مطابق اس تعاون کے تحت اب تک تقریباََ 3.8 ارب یورو کے منصوبوں کے لئے وعدے کئے جا چکے ہیں، ان میں۔ توانائی۔ موسمیاتی تبدیلی۔ پائیدار معاشی ترقی۔ فنی تربیت روزگار اور صحت جیسے شعبے شامل ہیں۔ جرمنی یورپین یونین میں پاکستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔2024 میں دونوں ممالک کے درمیان اشیاء کی دو طرفہ تجارت کا حجم تقریباََ 3.3 ارب یورو رہا، پاکستان جرمنی کو بنیادی طور پر ٹیکسٹائل ، چمڑے کی مصنوعات اور دیگر تیار شدہ اشیاء بر آمد کرتا ہے، جبکہ جرمنی سے مشینری، کیمیائی مصنوعات،برقی آلات اور گاڑیاں در آمد کرتا ہے۔ پاکستان کی برآمات میں۔ ٹیکسٹائل۔ کھیلوں کا سامان۔ جراحی کے آلات اور اعلی معیار کی تیار شدہ اشیاء، پاکستانی صنعت کے لئے جرمن منڈی میں مزید مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ جرمنی کی صنعتی مہارت۔ جدید مشینری۔ صنعتی خودکاری۔ قابل تجدید توانائی۔ فنی تعلیم اور جدید پیداواری طریقے پاکستان کی صنعت کو زیادہ مسابقتی بنا سکتے۔مستقبل کے مشترکہ منصوبے میں۔ شمسی توانائی۔ماحول دوست صنعت۔ آئی ٹی۔ زرعی ٹیکنالوجی اور پانی کے بہتر انتظام میں مشترکہ سرمایہ کاری دونوں مالک کے لئے فائندہ مند ہو سکتی ہیدیکھا جائے تو اصل چیلنج یہ ہے کہ دو طرف تعلقات صرف مصنوعات کی خرید و فروخت تک محدود نہ رہیں، بلکہ جرمن سرمایہ کاری کے ذریعہ پاکستان میں۔ روزگار۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی صنعت کی ترقی بھی ممکن ہو، اس لئے پالیسیوں کا تسلسل۔ شفاف کاروباری نظام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم۔ نوجوانوں اور ہنر مند افرادی قوت، جبکہ پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کا ایک نہایت اہم پہلو تعلیم ہے۔ جرمن وزارت خارجہ کے مارچ 2026 میں تازہ کردہ اعداد و شمار کے مطابق 9,000 سے زیادہ پاکستانی نوجوان جرمنی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جو صرف اپنے مستقبل کی تعمیر نہیں کر رہے بلکہ دونوں معاشروں کے درمیان علمی اور ثقافتی پُل بھی بن رہے ہیں۔ پاکستانی طلبہ جرمنی کی جامعات اور تحقیقی اداروں سے جدید علم اور عمی تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔ جرمن ادارے پاکستان کے ساتھ فنی تعلیم۔ انجینئرنگ، تحقیق اور صنعتیتربیت کے مشترکہ پروگرام شروع کر سکتے ہیں۔ ہنر مند پاکستانی کارکنوں کے لئے شفاف، قانونی اور منظم روزگار کے مواقعدونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ جرمن زبان کی تعلیم اور پاکستانی معاشرے کے بارے میں آگاہی باہمی فہم کو مزید بہتر بنا سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک کچھ ایسے مسائل ہیں جن پر کا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ویزا کے انتظار۔ اسناد کی منظوری۔ رہائش کے اخراجات۔جرمن زبان کی مشکلات جیسے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔کامیاب شراکت داری کے لئے ضروری ہے کہ طلبہ اور ہنر مند افراد کو واضح معلومات۔مناسب رہنمائی اور منصفانہ مواقع میسر ہونے چا ہیئں۔ دیکھ جائے تو اصل تعلق عوام سے عوام تک ہے۔ واضح رہے کسی بھی دو طرفہ تعلق کی اصل طاقت صرف حکومتوں، سفاتخانوں یا معاہدوں میں نہیں ہوتی، اس کی حقیقی بنیاد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان اعتماد اور احترام ہوتا ہے۔ جرمنی میں مقیم پاکستانی برادری اس تعلق کا ایک اہم حصّہ ہے، یہ لوگ کاروبار۔ تعلیم۔ طب۔ انجینرنگ۔ تحقیق۔ خدمات اور مختلف پیشوں کے ذریعہ جرمن معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اسی طرح جرمن ماہرین، اساتذہ۔ کاروباری افراد اور ترقیاتی ادارے پاکستان میں تعاون کے مختلف شعبوں سے وابستہ رہے ہیں۔ جرمن اور پاکستانی عوام ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ پاکستانی عوام جرمن معاشرے سے۔ وقت کی پابندی۔ پیشہ ورانہ مہارت۔ قانون کی پاسداری۔ تحقیق اور ادارہ جاتی نظم و ضبط۔ جرمن پاکستانی معاشرے سے۔ خاندانی وابستگی۔ مہمان نوازی۔ سماجی یکجہتی۔ کاروباری جذبہ اور مشکل حالات میں باہمی مدد۔ چند خصوصیات ہر فرد میں یکساں نہیں ہوتیں لیکن باہمی تبادلے اور تجربات کے ذریعے دونوں معاشروں میں مثبت روابط پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ پاکستانیوں کو صرف تارکین وطن یا مزدوروں کے طور پر نہ دیکھا جائے۔علامہ اقبال اور ڈاکٹر روتھ فاوُ مشترکہ تاریخ کی روشن مثالیں ہیں۔ علامہ اقبال کی علمی زندگی کا ایک اہم حصّہ جرمنی سے وابستہ رہا، انہوں نے میونخ کی لُڈوِگ میکسی میلین یونیورسٹی سے فلسفے میں ڈاکٹریٹ حاصل کی، ان کی فکری میراث اس بات کی مثال ہے کہ علم اور فلسفہقومی سرحدوں سے آگے بڑھ کر تہذیبوں کو جوڑ سکتے ہیں۔ جرمنی مں ی پیدا ہونے والی ڈاکٹر روتھ فاوُ نے اپنی زندگی کا بڑا حصّہ پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لئے وقف کئے رکھا،ان کی انسانی خدمات اس بات کی علامت ہیں کہ محبت،خدمت اور ہمدردی قومی شناخت سے بلند اقدار ہیں۔ ان دونوں شخصیات کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ پاک جرمن تعلقات کی بنیاد صرف سفارت کاری اور معیشت نہیں بلکہ، علم، انسان دوستی اور مشترکہ انسانی اقدار بھی ہیں۔پاکستانی قیادت نے بھی 2026 میں 75سالہ تعلقات کے حوالے سے ان تاریخی روابط کو نمایاں کیا ہے۔ پچہتر سالہ دوستی کا اصل پیغام یہی ہے، سفارت کاری راستے کھولتی ہے، معیشت مواقع پیدا کرتی ہے، تعلیم ذہنوں کو قریب لاتی ہے اور عوامی دوستی ان تمام رشتوں کو پائیدار بناتی ہے۔٭پاکستان اور جرمنی کی دوستی قائم و دائم رہے اور آنے والی نسلوں کے لئیامن،خوشحالی،علم اور باہمی احترام کا ذریعہ بنے٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں