
۔،۔ ڈنمارک میں سیاسی تعطل مزید گہرا، نئی حکومت بنانے کی کوشش ناکاک۔واجد قریشی ڈنمارک۔،۔
٭ڈنمارک میں نئی حکومت کی تشکیل کے لئے جاری کوششیں ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہو گئیں،جس کے بعد ملک میں سیاسی غیر یقینی کی صورتحال مزید شدت اختیار کر گئی٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ڈنمارک۔ ڈنمارک میں نئی حکومت کی تشکیل کے لئے جاری کوششیں ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہو گئیں،جس کے بعد ملک میں سیاسی غیر یقینی کی صورتحال مزید شدت اختیار کر گئی۔وینسترے (Venstre) پارٹی کے رہنما ٹروئلس لنڈ پولسن حکومت سازی کے لیے مطلوبہ پارلیمانی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب موڈیریٹرنے (Moderaterne) کے سربراہ لارس لوکے راسموسن نے مجوزہ اتحادی حکومت کی حمایت سے انکار کردیا، جس کے بعد مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔سیاسی پیش رفت کے بعد بادشاہ فریڈرک دہم نے آئندہ حکومت سازی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے نئی سیاسی مشاورت (Kongerunde) طلب کرلی ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ڈنمارک کی پارلیمنٹ اس وقت شدید تقسیم کا شکار ہے اور کسی بھی جماعت کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں نئی اتحادی حکومت کی تشکیل کے لیے مزید سیاسی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔سیاسی مبصرین اس صورتحال کو ملک میں بڑھتے ہوئے پارلیمانی تعطل اور غیر یقینی سیاسی مستقبل سے تعبیر کررہے ہیں۔





