۔،۔ جرمنی گرمی کی لپیٹ میں،جون کی شدید گرمی کی لہر سے  (پانچ ہزار۔5000) سے زائد افراد ہلاک۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ جرمنی گرمی کی لپیٹ میں،جون کی شدید گرمی کی لہر سے (پانچ ہزار۔5000) سے زائد افراد ہلاک۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ جرمنی گرمی کی لپیٹ میں،جون کی شدید گرمی کی لہر سے (پانچ ہزار۔5000) سے زائد افراد ہلاک۔ نذر حسین۔،۔

٭جرمنی کے روبرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جون کی گرمی کی لہر کے باعث تقریباََ (پانچ ہزار ایک سو 5100) افراد جان کی بازی ہار گئے٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ جرمن خبر رساں ایجنسی اور ٹی وی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے روبرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں گرمی سے متعلق اموات کی یہ اعداد و شمار جاری کئے گئے جس میں ان کا کہنا ہے کہ صرف جون کے مہینہ میں پانچ ہزار ایک سو اموات ہوئی ہیں۔ جبکہ یورپی یونین کے موسمیاتی تبدیلی کی نگرانی کرنے والے ادارے (کوپر نیکس) نے بتایا کہ گذشتہ جون میں مغربی یورپ میں تاریخ کی بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کی گئی، جبکہ عالمی سطح پر یہ مہینہ گرمی کے لحاظ سے دوسرا گرم ترین جون ثابت ہوا۔ جرمنی کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت چالیس سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا۔ عالمی سطح پر جون کا اوسط درجہ حرارت (سولہ عشاریہ چون ڈگری سینٹی گریڈ) ریکارڈ کیا گیا۔ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق صنعتی انقلاب سے پہلے 1850 سے 1900 کے درمیان جون کے تخمینی اوسط درجہ حرارت کے مقابلہ میں ایک اعشاریہ انتالیس ڈگری زیادہ گرم رہا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہریں نہ صرف زیادہ بار اور زیادہ شدت سے آ رہی ہیں بلکہ ان کے نتیجے میں انسانی جانوں، صحت عامہ اور ماحول پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق شدید درجۂ حرارت نے خاص طور پر بزرگ افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا شہریوں اور دیگر حساس طبقات کو بری طرح متاثر کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں