
-,-فرینکفرٹ میں جشنِ آزادی کی رنگا رنگ تقریب، پاکستانی ثقافت اور قومی یکجہتی کا شاندار مظاہرہ- نذر حسین-,-
*پاک جرمن انٹیگریشن اینڈ کلچر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام گرینڈ فیملی شو، خواتین اور بچوں سمیت پاکستانی کمیونٹی کی بھرپور شرکت- فرینکفرٹ میں وطنِ عزیز پاکستان کے جشنِ آزادی کے سلسلے میں پاک جرمن انٹیگریشن اینڈ کلچر سوسائٹی رجسٹرڈ کے زیرِ اہتمام ایک پروقار، رنگا رنگ اور یادگار کلچر اینڈ میوزیکل شو و گرینڈ فیملی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پاکستانی کمیونٹی نے بالخصوص خواتین اور بچوں کی بھرپور شرکت کے ذریعے اپنے وطن سے محبت، قومی وابستگی اور ثقافتی رشتے کا شاندار اظہار کیا*
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ -جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں وطنِ عزیز پاکستان کےجشنِ آزادی کے سلسلے میں پاک جرمن انٹیگریشن اینڈ کلچر سوسائٹی رجسٹرڈ کے زیرِ اہتمام ایک پروقار، رنگا رنگ اور یادگار کلچر اینڈ میوزیکل شو و گرینڈ فیملی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا,تقریب کے مہمانِ خصوصی قائم مقام قونصل جنرل و ہیڈ آف چانسلری فہد الرحمان تھے، جبکہ کمرشل ونگ کی کونسلر آمنہ نعیم نے بھی خصوصی شرکت کی۔ بلجیئم سے معروف کاروباری شخصیت راجہ سجاد جبکہ پاکستان سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور صدر پیپلز لائرز فورم سندھ قاضی بشیر بھی تقریب میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔تقریب کی میزبانی کے فرائض راجہ اظہر کیانی، چوہدری زاہد اور ماہم امتیاز نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت مالین راجپوت نے حاصل کی، جبکہ صفا ظہرا راجپوت نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول پیش کی۔تقریب کے اگلے مرحلے میں بچوں نے اپنی معصوم اور پُراثر آوازوں میں وہ دعا پیش کی جس نے حاضرین کو اپنے بچپن اور اسکول اسمبلیوں کی یادوں میں پہنچا دیا:
“لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری،
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری۔”
بچوں کی اس دل نشیں پیشکش نے تقریب کے ماحول میں جذباتی کیفیت پیدا کر دی اور حاضرین نے اسے بے حد سراہا۔جشنِ آزادی کی اس پروقار تقریب میں اسپین سے تشریف لانے والے معروف سرائیکی گلوکار سعید خان کے ساتھ شرکائے تقریب نے قومی ترانہ پیش کیا۔ قومی ترانے کی آوازوں سے فضا گونج اٹھی اور پاکستانی کمیونٹی نے وطنِ عزیز سے اپنی گہری محبت، عقیدت اور قومی یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔تقریب میں جرمن قومی ترانہ بھی پیش کیا گیا، جس سے پاکستان اور جرمنی کے درمیان باہمی احترام اور دوطرفہ تعلقات کے خوبصورت جذبے کی عکاسی ہوئی۔تقریب کے دوران قائم مقام قونصل جنرل و ہیڈ آف چانسلری فہد الرحمان اور کمرشل ونگ کی کونسلر آمنہ نعیم نے بچوں کے جھرمٹ میں ان کے ساتھ مل کر جشنِ آزادی کا کیک کاٹا۔ اس موقع پر بچوں کے چہروں پر خوشی اور جوش نمایاں تھا، جبکہ شرکاء نے پاکستان زندہ باد کے نعروں اور ملی جذبات کے ساتھ جشنِ آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کیا۔تقریب میں خوبصورت ملی نغمے بھی پیش کیے گئے، جنہوں نے حاضرین کے قومی جذبے کو مزید جلا بخشی۔ منتظمین کی جانب سے تقریب کو محض ایک رسمی جشن تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مکمل خاندانی اور ثقافتی میلے کی شکل دی گئی، جس میں بچوں اور بڑوں کے لیے مختلف تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔تقریب میں میوزیکل چیئر سمیت مختلف دلچسپ مقابلے اور سرگرمیاں بھی منعقد ہوئیں۔ شرکاء کے لیے متعدد انعامات رکھے گئے، جن میں ایک خوش نصیب شخص نے سائیکل جبکہ دوسرے نے ٹی وی کا انعام حاصل کیا۔ بچوں میں بھی بڑی تعداد میں مختلف انعامات تقسیم کیے گئے، جس سے تقریب میں موجود ننھے شرکاء کی خوشی دیدنی تھی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام قونصل جنرل و ہیڈ آف چانسلری فہد الرحمان نے پاکستانی کمیونٹی کو جشنِ آزادی کی مبارکباد پیش کی۔انہوں نے تقریب کے شاندار انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں آکر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم پاکستان میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر راجہ اظہر کیانی اور ان کی ٹیم کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کو قابلِ تحسین قرار دیا۔اس موقع پر قاضی حبیب الرحمان، رفیق بٹ اور چوہدری محمد وقار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک اس نوعیت کی تقریبات کا انعقاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نئی نسل کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک طویل جدوجہد، بے شمار مشکلات اور عظیم قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو صرف پاکستان کی تاریخ اور قیام کے مراحل سے آگاہ کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اسے یہ شعور بھی دینا ضروری ہے کہ وطنِ عزیز کو ترقی، خوشحالی اور سربلندی کی نئی منزلوں تک کیسے پہنچایا جا سکتا ہے۔تقریب کا سب سے پرجوش مرحلہ اس وقت آیا جب اسپین سے تشریف لانے والے معروف سرائیکی گلوکار سعید خان نے صوفی کلام اور بھنگڑا میوزک پیش کیا۔ ان کی آواز اور دلکش اندازِ پیشکش نے محفل میں سماں باندھ دیا۔سعید خان کی پرفارمنس پر نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عمر رسیدہ افراد بھی جھومنے پر مجبور ہوگئے۔ موسیقی کی دھنوں پر حاضرین نے بھرپور انداز میں داد دی، جبکہ چند دوستوں نے فنکار کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈالروں کی ویلیں بھی دیں۔ یوں محفل میں ثقافتی رنگ، موسیقی اور خوشی کے جذبات مزید نمایاں ہوگئے۔جشنِ آزادی کی اس رنگا رنگ تقریب میں پاکستانی کھانوں کے خصوصی اسٹال “ٹیسٹ آف پاکستان” کا بھی اہتمام کیا گیا تھا، جہاں پاکستانی ذائقوں کی بھرپور نمائندگی کی گئی۔شرکاء نے بریانی، مرغ پلاؤ، چنے، سلاد، چاٹ اور دیگر روایتی پاکستانی پکوانوں سے لطف اٹھایا۔ کھانے کے اسٹال پر موجود مختلف پاکستانی کھانوں کو شرکاء نے نہ صرف ذوق و شوق سے تناول کیا بلکہ ان کے ذائقے اور معیار کو بھی سراہا۔فرینکفرٹ میں منعقد ہونے والی یہ تقریب محض جشنِ آزادی کی ایک تقریب نہیں تھی بلکہ دیارِ غیر میں پاکستانی ثقافت، روایات، قومی تشخص اور نئی نسل کے ساتھ وطن کے رشتے کو مضبوط کرنے کی ایک خوبصورت کاوش بھی تھی۔تلاوتِ قرآنِ پاک سے شروع ہونے والی تقریب نے نعت، ملی نغموں، قومی ترانے، بچوں کی سرگرمیوں، موسیقی، ثقافتی پروگراموں اور پاکستانی کھانوں کے ذریعے پاکستان کے مختلف رنگ ایک ہی چھت تلے سمیٹ دیے۔تقریب میں شریک پاکستانی کمیونٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی پاکستان کی ثقافتی اقدار، قومی روایات اور وطن سے محبت کے جذبے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔یوں فرینکفرٹ میں منعقد ہونے والا جشنِ آزادی کا یہ خوبصورت پروگرام خوشی، قومی جذبے، ثقافتی رنگا رنگی اور باہمی محبت کی یادیں چھوڑتے ہوئے خوشگوار ماحول میں اپنے اختتام کو پہنچا۔سائیکل علی ٹریولرز کی طرف سے دیا گیا تھا جبکہ ایک بڑا ٹی وی (ایم اینڈ ایس) وجاعت ملک کی طرف سے دیا گیا تھا











































































































