-.-اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے!-عارف محمود کسانہ-,- 0

-.-اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے!-عارف محمود کسانہ-,-

0Shares

-.-اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے!-عارف محمود کسانہ-,-

 

تاریخِ عالم کا مطالعہ کریں تو ایک حقیقت بالکل واضح نظر آتی ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا دارومدار ان کے افکار اور عمل پر ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم محنت، تحقیق اور خود اعتمادی کا راستہ چھوڑ کر جبر، تقدیر پرستی اور بے عملی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتی ہے، تو تاریخ کے صفحات سے اس کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ امتِ مسلمہ اور بالخصوص دورِ حاضر کا انسان جس فکری جمود اور عملی اپاہج پن کا شکار ہے، اس کا علاج حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے دہائیوں پہلے اپنے اس لازوال شعر میں تجویز کر دیا تھا:
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے، ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی!
یہ شعر محض ایک تخلیقی شاہکار نہیں بلکہ انسانی عظمت، خودی اور تسخیرِ کائنات کا ایک مکمل منشور ہے۔ علامہ اقبالؒ کے اس پیغام کو سمجھنا آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔فکرِ اقبال کا بنیادی سرچشمہ اور منبع قرآنِ کریم ہے۔ قرآنِ پاک کا صاف اور واضح اعلان ہے کہ “انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے سعی کی”۔ لیکن افسوس کہ اس کے برعکس سوچ نے مسلمانوں کو یہ باور کروا دیا کہ انسان محض “مجبورِ محض” ہے اور جو کچھ اس کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے، وہ بغیر کچھ کیے اسے مل جائے گا۔ اردو کے معروف شاعر خواجہ میر دردؔ کا یہ شعر اسی جبر کے تصور کی عکاسی کرتا ہے:
نہ ہم مجبوروں پہ تہمت ہے مختاری کی
علامہ اقبالؒ نے قرآن کی روشنی میں اس غلط اور باطل تصور کے خلاف فکری جہاد کیا۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ انسان کائنات کا بے بس تماشائی نہیں بلکہ اس کارگاہِ حیات کا سب سے فعال اور صاحبِ اختیار کردار ہے۔ اقبال نے انسان کو ستاروں اور سیاروں کی گردش کا مرہونِ منت سمجھنے سے صاف انکار کر دیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسان کی تقدیر کا فیصلہ فلکیاتی حساب کتاب یا نجومیوں کی پیش گوئیاں نہیں کر سکتیں:
ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں
سائنس اور کائنات کا نظام گواہ ہے کہ تارے اور سیارے اپنے مقررہ مدار میں گردش کرنے پر مجبور ہیں، وہ خدا کے بنائے ہوئے قوانین کے سامنے “مستِ شرابِ تقدیر” ہیں۔ لیکن انسان وہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ارادے اور عمل کی آزادی عطا کی ہے۔ یہی آزادیِ عمل انسان کو دیگر تمام مخلوقات پر ترجیح دیتی ہے اور یہی اس کے لیے جزا و سزا کا باعث بھی ہے۔اقبال کے نزدیک تقدیر کا مطلب بے بسی نہیں، بلکہ تقدیر خدا کے وہ قوانین اور پیمانے ہیں جن کے تحت کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ اگر آپ بیج بوئیں گے تو فصل کاٹیں گے، اگر آپ محنت کریں گے تو کامیابی اپاہج نہیں رہے گی۔ اسی لیے اقبال ہر انسان کو متوجہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دوسروں کی لکھی ہوئی تقدیر پر روئے بغیر اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرو:
تو اپني سرنوشت اب اپنے قلم سے لکھ
خالي رکھي ہے خامہ حق نے تري جبيں
ایک سچا مومن احکامِ الٰہی کا پابند ضرور ہے، لیکن یہ پابندی اسے کاہل نہیں بناتی بلکہ اسے کائنات کو تسخیر کرنے اور عملِ پیہم کا جذبہ دیتی ہے۔ اپنی دنیا خود پیدا کرنے کا واحد ذریعہ محنت اور جدوجہد ہے۔ اقبال کے ہاں زندگی نام ہی مشقت اور جدوجہد کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی
اگر انسان کو سستی، کاہلی اور آسائشوں کا ماحول مل بھی جائے تو اقبال اسے سکون و آرام کی گود میں سونے کی اجازت نہیں دیتے، بلکہ اسے مسلسل آگے بڑھنے کا درس دیتے ہیں:
تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دريائے تند و تيز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
عمل اور جبر کے اسی نازک فرق کو علامہ اقبال نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم “ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” میں کمالِ مہارت سے ننگا کیا ہے۔ ابلیس کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ انسان کو عمل کے راستے سے ہٹا کر جبر، توکل کے غلط مفہوم اور بے عملی کی دلدل میں دھکیل دے۔ ابلیس چاہتا ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا تاکہ وہ خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دے۔آج اگر ہم بحیثیتِ قوم اور بحیثیتِ فرد دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں دوسروں پر انحصار ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نئی دنیا، نئے علوم، نئی ایجادات اور باوقار زندگی مانگنے سے نہیں بلکہ “اپنی دنیا آپ پیدا کرنے” سے ملتی ہے۔زندہ قومیں وہی ہیں جو اپنے حالات کی ذمہ داری خود لیتی ہیں اور اپنے عزم و عمل سے نئی تاریخ رقم کرتی ہیں۔ آئیں! اقبال کے اس پیغام کو مشعلِ راہ بنائیں، اپنی صلاحیات کو پہچانیں اور اپنی دنیا خود تعمیر کریں، کیونکہ یہی زندگی کا حقیقی راز اور انسانیت کا شرف ہئے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں