
۔،۔ جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائین مائر اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری کی اہم ملاقات۔ نذر حسین۔،۔
٭23 اکتوبر 2026 کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائین مائرنے پاکستان کے صدرر آصف علی زرداریکا سرکاری اور پرتپاک استقبال کیا، یہ دورہ پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ دونوں ممالک 2026 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، اس کے علاوہ (تئیس سال) بعد کسی پاکستانی سربراہ مملکت کا جرمنی کا یہ پہلا دورہ تھا٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/اسلام آباد/جرمنی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق 23 اکتوبر 2026 کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائین مائرنے پاکستان کے صدرر آصف علی زرداریکا سرکاری اور پرتپاک استقبال کیا، یہ دورہ پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ دونوں ممالک 2026 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، اس کے علاوہ (تئیس سال) بعد کسی پاکستانی سربراہ مملکت کا جرمنی کا یہ پہلا دورہ تھا، صدر آصف علی زرداری کی آمد پر جرمنی کے دارالخلافہ برلن میں جرمنی کی وزارت دفاع میں ایک باوقار سرکاری تقریب منعقد کی گئی جس میں جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائین مائرنے خود ن کا استقبال کیا۔ تقریب کے دوران پاکستان اور جرمنی کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ جرمن مسلح افواج کے ایک دستے نے صدر آصف علی زرداری کو ۶ارڈ آف آنر (Guard of Honour) پیش کیا، صدر پاکستان نے فوجی دستے کا معائنہ بھی کیا۔ اس کے بعد دونوں صدور نے اپنے اپنے وفود کے ارکان کا تعارف کروایا، یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام، دوستی اور سفارتی تعلقات کی اہمیت کی علامت تھی۔ استقبالیہ تقریب کے بعد صدر پاکستان آصف علی زرداری اور جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کے درمیان (ون آن ون) ملاقات ہوئی، رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری نے جرمنی کو پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے پاس سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں جبکہ کے جرمن صدر نے بھی امید ظاہر کی کے دونوں ممالک تجارت، کاروبار، تعلیم اور جدید تیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے۔پاکستان صدر نے اس بات پر زر دیا کہ دونوں ممالک کو محض روائیتی سفارتی تعلقات تک محدود نہیں رہنا چاہیئے بلکہ عملی معاشی تعاون کو بھی فروغ دینا چاہیئے۔زراعت اور صنعت۔ زرعی پیداوار، صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں میں تعاون بڑھانا، جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق، ڈیجیٹل ترقی اور نئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں مشترکہ کام کرنا، دونوں حکومتوں، کاروباری اداروں اور ماہرین کے درمیان براہ راست رابطوں کو فروغ دینا، دونوں صدور نے تعلیم، صحت، پیشہ ورانہ تربیت اور انسانی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر بھی بات کی، جرمن صدر نے جرمنی واپس جانے والے تقریباََ پانچ سو افغان شہریوں کی شناخت اور تصدیق کے عمل میں پاکستان کی معاونت کو بھی سراہا۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی دشمنی نہیں، لیکن پاکستان اپنی سرزمین، شہریوں اور خود مختاری کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال کر کے پاکستانی شہریوں پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس تمام گفتگو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک افغانستان میں امن و استحکام اور خطے میں دہشت گردی کے مسائل کو اہمیت دیتے ہیں۔ واضح رہے اس ملاقات کے دوران جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائین مائرنے (مکہ) دفاعی معاہدے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا جس کا تعلق (پاکستان۔ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون سے ہے۔ جس پر پاکسنی صدر آصف علی زرداری نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کا مقصد علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا اور تنازعات کے مقابلے میں سلامتی کے لئے تعاون کا ایک متبادل فراہم کرنا ہے انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ صدر پاکستان نے امریکی ایران تنازعے میں پاکستان کے مصالحتی کردار کے اعتراف میں جرمن صدر کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے اس موقف کا اظہار کیا کہ تنازعات کا حل مسلسل مذاکرات، بات چیت اور تعمیری سفارتی کوششوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیئے جس پر جرمن صدر نے بھی علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو سراہا ہے۔ ملاقات کے دوران صدر پاکستان نے جرمنی کے صدر کو پاکستان آنے کی دعوت دی جس پر جرمن صدر نے دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مناسب وقت پر پاکستان کے دورے پر غور کریں گے۔ واضح رہے اس دورے کی ایک بڑی اہمیت یہ بھی تھی کہ پاکستان اور جرمنی 1951 میں قائم ہونے والے اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ آصف علی زرداری صدر پاکستان نے جرمنی کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا جبکہ جرمنی کے صدر نے ان کے دورے کا خیو مقدم کیا۔ مجموعی طور پر اس ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان اور جرمنی کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا، معاشی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا اور علاقائی و عالمی مسائل کے حل کے لئے باہمی رابطوں کو فروغ دینا تھا۔ تاہم واضح رہے ملاقات کے بعد دستیاب سرکاری معلومات میں کسی نئے بڑے معاہدے پر دستخط کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لئے اسے فی الحال ایک اہم سفارتی اور مذاکراتی پیش رفت قرار دینا زیادہ درست ہو گا۔



