
۔،۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں یومِ سیاہ کشمیر کی پر وقار تقریب کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی۔ نذر حسین۔،۔
–
٭ قونصلیٹ جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ میں پروقار تقریب کا انعقاد۔مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال اجاگر کرنے کے لئے تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔علی انصر زیدی۔قونصل جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری ہر پاکستانی کے دل سے انتہائی قریب ہے،جب تک بھارتی تسلط سے آزادی نہیں مل جاتی،اسی طرح ہم کوششیں جاری رکھیں، کشمیریوں کا حوصلہ بڑھائیں گے، ٭انشا اللہ وہ دن بہت جلد آئے گا جب کشمیری آزادی کا سانس لیں گے
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔دنیا بھر کی طرح جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں بھی 27 اکتوبر1947 کے واقعات کی یاد میں یوم سیاہ کشمیر منایا گیا، اسی سلسلے میں قونصلیٹ جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ میں قونصل جنرل علی انصر زیدی کی سربراہی میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی وکشمیری کمیونٹی کے نمائندوں سمیت سماجی، کاروباری اور مذہبی شخصیات اور میڈیا نمائندگان نے بھر پور شرکت کی اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ تقریب کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا، کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لئے حمایت کا اعادہ کرنا اور اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال پر عالمی توجو مبذول کرانا تھا، اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے حالات اور کشمیری عوام کی مشکلات کو اجاگر کرنے کے لئے ایک خصوصی تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں شرکاء نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔تقریب کی میزبانی مس خلیقہ نے پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دی، جبکہ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کی سعادت قونصلیٹ کے اہلکار محمد صدیق نے حاصل کی۔اس موقع پر صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے پیغامات بھی شرکاء کے سامنے پیش کئے گئے، ہیڈ آف چانسلری فود الرحمان نے صدر پاکستان کا پیغام پڑھ کر سنایا، ٹریڈ اینڈ انویستمنٹ کونسلو آمنہ نعیم نے وزیر اعظم کا پیغام پیش کیا جبکہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن آفیسر محمد علی رندھاوا نے نائب وزیر اعظم ہ وزیر خارجہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔قونصل جنرل علی انصر زیدی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوم سیاہ کشمیر منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ان کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور کشمیری عوام دنیا بھر میں اس دن کو مناتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ کشمیریوں کی آزادی تک ان کی حمایت جاری رکھا جائے گی۔ علی انصر زیدی کے مطابق قونصلیٹ جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ میں تقریب کے انعقاد کا مقصد بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو یہ احساس دلانا بھی ہے کہ پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور حمایت کا سلسلہ جاری رہے گا۔تقریب میں شریک افراد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ فرینکفرٹ میں منعقدہ یہ تقریب کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی،ان کے حق خود ارادیت کی حمایت اور سئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے عزم کی عکاسی تھی۔ واضح رہے 27 اکتوبر1947ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض زمین اور سرحدوں کا تنازع نہیں،بلکہ انسانی حقوق، سیاسی مستقبل اور پائیدار امن سے جڑا معالہ بھی ہے، کشمیر کا درد سنا جائے، کشمیریوں کی آواز کو اہمیت دی جائے اور اس دیرینہ تنازع کا ایسا پرامن حل تلاش کیا جائے جو انصاف، انسانی وقار اور دیرپا امن کی بنیا بن سکے۔ کشمیر وہ جنت نظیر وادی جس کی فضاوں میں کبھی امن کے نغمے زونجتے تھے، جس کے پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھے قدرت کی عظمت کا اعلان کرتے تھے۔ جس کے دریاوں کا شفاف پانی زندی اور خوش حالی کی علامت تھا، مگر اسی حسین سر زمین کی تاریخ میں ایک ایسا باب رقم ہوا جس کا درد آج بھی لاکھوں کشمیریوں کے دلوں میں زندہ ہے۔27 اکتوبر 1947 بروز پیر محض ایک تاریخی مہینہ،سال یا دن نہیں بلکہ کشمیری عوام کے لئے ایک ایسا موڑ ہے جس نے ان کی سیاسی، سماجی اور انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرکتب کئے۔ اکتوبر کی وہ گھناونی سیاہ رات کو بھارتی فوجیں سری نگر اتاری گئیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان اس الحاق کی قانونی حیثیت اور اس کے سیاسی تناظر پر اختلافات پیدا ہوئے،جبکہ کشمیر کا تنازع آج تک حل طلب ہے۔ تقریب کے اختتام پر قونصل جنرل علی انصر زیدی نے کمیونٹی کے افراد کے ساتھ مصافحہ کیا جبکہ قونصلیٹ کی وزٹ کرنے والے افراد سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل بھی سنے۔


























