۔،۔ویلفیئر اینڈ کمیونٹی سینٹر فرینکفرٹ میں سینئر صحافی مطیع اللہ خان مرحوم کی یاد میں دعائیہ تقریب اور یاد گار شام کا انعقاد۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ویلفیئر اینڈ کمیونٹی سینٹر فرینکفرٹ میں سینئر صحافی مطیع اللہ خان مرحوم کی یاد میں دعائیہ تقریب اور یاد گار شام کا انعقاد۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ویلفیئر اینڈ کمیونٹی سینٹر فرینکفرٹ میں سینئر صحافی مطیع اللہ خان مرحوم کی یاد میں دعائیہ تقریب اور یاد گار شام کا انعقاد۔ نذر حسین۔،۔

٭کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں، زندگی گزارتے ہیں اور رخصت ہو جاتے ہیں،لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی محبت خلوص،خوش اخلاقی اور خوبصورت یادوں سے ہمشہ کے لئے دلوں میں گَر کر جاتے ہیں،مطیع اللہ خان بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ایک بے باق صحافی،مخلص دوست،ایک خوش مزاج انسان اور ایسا مسکراتا چہرہ جس کی کمی آج بھی ان کے چاہنے والوں کو شدت سے محسوس ہو رہی ہے(اِنَا لِلّہِ وَ اِنَا اِلَیہِ رَاجِعُون۔)

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/برلن/کراچی/سوات۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں راجہ اظہر کیانی، پاکستان جرمن پریس کلب اور گیلانی برادرز کے زیر اہتمام ویلفیئر اینڈ کمیونٹی سینٹر میں سینئر صحافی و سماجی شخصیت مطیع اللہ خان مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے دعائیہ تقریب اور یادگار شام کا انعقاد کیا گیا جس میں جرمنی بھر سے صحافیوں نے بھر پور شرکت کی۔مطیع اللہ خان مرحوم کی جدائی یقیناََ ہم سب کے لئے ایک گہرا صدمہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔تقریب کی نظامت کے فرائض راجہ اظہر کیانی نے پیشہ ورانہ طریقہ سے سرانجام دیئے۔انہوں نے اپنے استقبالیہ الفاظ کا چناوُ کچھ ان خوبصورت الفاظ سے کیا کہ۔کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں، زندگی گزارتے ہیں اور رخصت ہو جاتے ہیں،لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی محبت خلوص،خوش اخلاقی اور خوبصورت یادوں سے ہمشہ کے لئے دلوں میں گَر کر جاتے ہیں،مطیع اللہ خان بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ایک بے باق صحافی،مخلص دوست،ایک خوش مزاج انسان اور ایسا مسکراتا چہرہ جس کی کمی آج بھی ان کے چاہنے والوں کو شدت سے محسوس ہو رہی ہے،پاکستان کی خوبصورت وادی سوات سے آبائی تعلق رکھنے والے مطیع اللہ خان کی پیدائش کراچی میں ہوئی، کراچی میں ہی ان کا بچپن گزرا، انہوں نے اسلامیہ کالج سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں جامع کراچی سے اعلی تعلیم مکمل کی، بچپن ہی سے حالات حاضرہ اور صحافت میں دلچسپی رکھنے والے مطیع اللہ خان نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کراچی کے مقامی اخبارات سے کیا روزنامہ اُمت میں ان کی تحریروں کا سلسلہ ان کی صحافتی زندگی کا ایک نمایاں باب تھا وہ جیلوں میں قیدیوں اور خصوصاََ نوجوانوں سے ملاقات کرتے ان کے حالات سنتے اور ان کی زندگی کی تلخ حقیقتوں کو اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے، ان کے قلم میں صرف خبر نہبں بلکہ انسانی دکھ درد کا احساس بھی تھا۔ وقت گزرتا گیا اچانک زندگی نے ایک نیا موڑ لیا اور تقریباََ بارہ سال قبل مطیع اللہ خان جرمنی منتقل ہو گئے جرمنی کا دارالحکومت برلن ان کا نیا مسکن بنا۔مطیع اللہ خان مرحوم کی جدائی یقیناََ ہم سب کے لئے ایک گہرا صدمہاور ناقابل تلافی نقصان ہے، ان کی صحافتی خدمات، سماجی کردار اور محبت بھری یادیں اور چہرے پر بکھری مسکراہٹ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گیں۔راجہ اظہر کیانی نے معزز مہمانوں کو اسٹیج کی زینت بنایا جن میں۔آطف عمران ڈار،سید اقبال حیدر، نظر حسین، باقر زیدی اور کو اسٹیج کی زینت بنایا۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت پاک محمدی مسجد کے امام، علامہ محمد صدیق مصطفائی صاحب نے حاصل کیا،اس موقع پر خالد محمود نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کر کے خوب داد حاصل کی٭ اُس کرم کا کروں شکر کیسے ادا۔جو کرم مجھ پے میرے نبیﷺ نے کیا۔میں سجاتا تھا سرکار کی محفلیں۔مجھ کو ہر غم سے رب نے بری کر دیا٭۔، رانا محمد آصف قادری کچھ یوں گویا ہوئے۔ تمہارا مرنا ہی بہتر ہے ایسے جینے سے۔ نبی کی یاد سے الفت نہیں تو مر جاو۔ تمہارا مرنا ہی بہتر ہے ایسے جینے سے۔اے اہل بیت محمد ؐمثال کشتی نوع۔غرق وہ ہو گا جو ہے دور اس سفینے سے٭ اور محمد صدیق مصطفائی نے کچھ ایسے گلدستہ پیش کیا۔مدینے مینوں دفناوُ قبر جانڑے نبی جانڑے۔سنا خواں ہاں محمدؐ دا حشر جانڑے نبیؐ جانڑے۔مینوں غُسل کفن دے کے دفن جس دم کرو یارو۔جنازے تے دُعا منگنڑاں اثر جانڑے نبیؐ جانڑے۔میں منداں ہاں کہ برزخ دا سفر یارو بڑا اوکھا۔کفن تے کلمہ لکھ چھوڑو سفر جانڑے نبیؐ جانڑے۔راجہ اظہر کیانی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تقریباََ بارہ سال قبل مطیع اللہ خان جرمنی منتقل ہو گئے جرمنی کا دارالحکومت برلن ان کا نیا مسکن بنا۔ایک موزی مرض سے طویل جدوجہد کے باوجود انہوں نے صحافت سے اپنا تعلق قائم رکھا،تقریب کے دوران ان پر بنائی گئی دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں بچپن سے زندگی کے آخری سفر تک بنائی گئی (مطیع اللہ خان ایک مسکراتا چہرہ اور ان مٹ اجالے)۔ زاہد چوہدری نے ان کے بارے میں کہا کہ وہ آج ہم میں نہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی بخشش فرمائے،مطیع اللہ بھائی کا دکھ نہ صرف صحافی کمیونٹی کے لئے بلکہ ہر جاننے والا اس کے لئے غم گین ہے۔آزاد حسین کا کہنا تھا کہ میں نے صحافت کا آغاز جرمنی سے ہی کیا جب میں کچھ لکھتا تھا تو مطیع بھائی مجھے لکھتے تھے کہ یہ خبر ایسے نہیں بلکہ ایسے لکھی جائے گی میں ان کو استاد بھی مانتا ہوں۔شمس الحق نے جیلانی برادرز اور اظہر کیانی کا پروگرام کے بارے میں شکریہ ادا کیا، میں نے مطیع کے ساتھ مل کر ایک جرمنی ٹی وی کے لئے ڈاکومنٹری بنائی،ان کا کہنا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ ہم مطیع اللہ خان جیسے کتنے دوست کھوئیں گے کہ ہم صحافی جرمنی میں رہ کر اکٹھے ہوں گے،سال میں ایک یا دو دفعہ اکٹھے ہو کر ایسی محفلیں سجائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جرمنی میں لفظ (Journalist“) صحافی عام طور پر قانون کے تحت محفوظ پیشہ ورانہ لقب نہبں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے۔ صحافی بننے کے لئے جرنلزم کی ڈگری یا کوئی خاص تربیت لازمی نہیں ہے۔ اصولی طور پر کوئی بھی شخص صحافتی کام کر سکتا ہے چاہے اس نے صحافت کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کی ہو۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ۔ ڈاکٹر (Arzt) یا وکیل Rechtsanwalt)) کے برعکس، جرمنی میں لفظ جرنلسٹ Journalist“ استعمال کرنے کے لئے کسی مخصوص ڈگری یا سرکاری لائسنس کی شرط نہیں۔ لیکن ایک اہم بات بھی بتاتے چلیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحافت کے شعبے میں ہر کام بغیر کسی قانونی پابندی کے کیا جا سکتا ہے، صحافیوں کو بھی پریس اور میڈیا سے متعلق قوانین کی پابندی کرنا ہو گی۔بتاتا چلوں کہ شمس الحق ایک سینئر صحافی ہیں جو جرمن چینلز کے لئے کام کرتے ہیں پہلے اے آر وائی سے بھی منسلک رہے ہیں۔ اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ ہماری کمیونٹی کے لئے جو لوگ کسی بھی فیلڈ میں کام کررہے ہوں تو کوشش کی جیئے گا کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے نام ایک شام منایا کریں تا کہ ان کے اندر مزید جذبہ پیدا ہو۔، ہمں ایک اسکرپٹ ٹی وی چینل کے بنانے کے لئے کم از کم چھ گھنٹے لگتے ہیں جب آپ بیٹھ کر انجائے کر رہے ہوتے ہیں تو ہم کھڑے ہو کر آپ کو اور پروگرام کو کوریج دے رہے ہوتے ہیں۔سید عباس شاہ صدر پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ میں میڈیا کے دوستوں کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ایک ایسے دوست کی یاد میں شام کا اہتمام کیا ہے،میں چاہتا ہوں کہ آپ اس مشن کو جاری رکھیں،ایسی روح پیدا کریں، مطیع اللہ کی صحافی زندگی بھلائی نہیں جا سکتی۔ سید باقر زیدی کچھ اس طرح گویا ہوئے۔ ساتھ چھوڑنے والو،ساتھ چھوڑنے کا غم ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ساتھ چھوڑنے والو ساتھ چھوڑنے کا غم عمر بھر تو رہتا ہے۔زندگی کا یہ حصّہ آنکھ کے دریچوں سے نید چھین لیتا ہے۔مطیع اللہ بھائی کے حوالے سے کچھ اتنا کہنا چاہوں گا کہ دوستوں کے دوست تھے ۔شیراز گیلانی کا کہنا تھا کہ آپ سب کا مشکور ہوں کہ آپ مطیع اللہ کی دعائیہ تقریب میں تشریف لائے،ان کے ساتھ ہمارا دوستانہ اور صحافتی بہت گہرا تعلق تھا،زندگی مختصر ہے ایک نہ ایک دن لوٹ کر رب کعبہ کے پاس جانا ہے۔یہ ہماری چھوٹی سے کاوش تھی آپ نے عزت بخشی جس کے لئے مشکور ہیں۔ سید اقبال حیدر ان کا کہنا تھا کہ ایسی تقریبات بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں،ستر کی دہائی میں جنگ اخبار کے لئے صبح صبح لائن لگی ہوتی تھی، پھر شیخ مظفر (مرحوم) نے جو صحافی تھے جنگ اخبار سنبھالی پھر چند دوستوں نے مل کر پاکستان جرمن پریس کلب کی بنیاد رکھی۔مطیع اللہ کا بڑا نام تھا اور منجھا ہوا جرنلسٹ تھا ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو تیار کریں جو لکھ رہے ہیں ان کے لئے سیمینار کروائے جائیں اور یہی خواہشیں وہ اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔محمد مبین خان کا کہنا تھا کہ مطیع اللہ بھائی کے بارے میں کہنا چاہوں گا کہ ان کی کمی موجود رہے گی میرا ان سے تقریباََ دس سال تک رابطہ رہا ان کو ہم اپنا استاد سمجھتے تھے۔نذر حسین سینئر وائس پریذیڈنٹ پاکستان جرمن پریس کلب کا کہنا تھا کہ اپنے تمام جذباتِ تشکر کے ساتھ جیلانی برادز،سیدشیراز جیلانی، سیدآصف جیلانی، محترم راجہ اظہر کیانی کہ انہوں نے ہمارے پیارے مطیع اللہ خان کی یاد میں تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا۔یہ ان کی محبت،خلوض، باہمی احترام اور مرحوم کے ساتھ وابسطہ گہری قلبی وابستگی کا خوبصورت اظہار ہے جسے میں ہمیشہ قدر واحترام کی نگاہ سے دیکھوں گا۔ربِ کعبہ کا خاص فضل کہ اس نے مجھے اور بچوں کو اپنے مقدس گھر کی حاضری اور مناسکِ عمرہ ادا کرنے کی توفیق دی یہی وجہ تھی میں بذات خود اس وقت مدینہ مورہ میں اپنے آقا و مولا، خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ کے روضہ اقدس پر حاضری کا شرف حاصل کرنے گیا ہوا تھا جو میری زندگی کے نہایت روح پرور اور بابرکت لمحات میں سے ایک ہے۔وہیں پر مطیع اللہ خان کی فوتگی کا سنا اور مغفرت کے لئے دعا بھی کی۔ محترمہ سیدہ میمونہ کا کہنا تھا کہ مطیع اللہ خان نے مجھے خود فون کیا میرے کام کی تعریف کی، ہمارے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ پروگرام کے اختتام پر سید آصف گیلانی نے تمام دوست و احباب کا شکریہ ادا کیا،اس طرح کی محفلیں قسمت والے لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں۔تقریب کے اختتام پر دعائے مغفرت کی گئی۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں