
۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر (ڈیٹزن باخ) میں عید ملن تقریب میں بچوں نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا دیئے۔ نذر حسین۔،۔
٭جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر (ڈیٹزن باخ) میں بچوں نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، جس میں مسز نذر حسین اور مسز خالد لطیف مہمان خصوصی تھیں، بچوں اور ان کی اماوُں نے بھرپور شرکت کی۔ اس رنگا رنگ پروگرام میں بچوں اور بچیوں نے بھر پور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، تقریب میں تقاریر کا مقابلہ، سوال و جواب کی نشست اور ایک خوبصورت ٹیبلو بچوں نے پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ہال میں دلکش ماحول دیکھنے کو ملا،بچوں اور ان کی ماوں نے عید کے خوبصورت ملبوسات زیب تن کر رکھے تھے، جس سے پورا ماحول عید کی خوشیوں سے معطر نظر آ رہا تھا، تقریب نے نہ صرف بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ کمیونٹی کے درمیان باہمی محبت، اخوت اور عید کی خوشیوں کو بھی فروغ دیا٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ڈیٹزن باخ۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر (ڈیٹزن باخ) میں بچوں کے ساتھ عید ملن کا خوبصورت اہتمام ان کی استانی (ٹیچر) مرینہ حسین نے والدین کے تعاون سے عید ملن کا اہتمام کیا، جس میں مسز نذر حسین اور مسز خالد لطیف مہمان خصوصی تھیں، بچوں اور ان کی اماوُں نے بھرپور شرکت کی۔ اس رنگا رنگ پروگرام میں بچوں اور بچیوں نے بھر پور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، تقریب میں تقاریر کا مقابلہ، سوال و جواب کی نشست اور ایک خوبصورت ٹیبلو بچوں نے پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ہال میں دلکش ماحول دیکھنے کو ملا،بچوں اور ان کی ماوں نے عید کے خوبصورت ملبوسات زیب تن کر رکھے تھے، جس سے پورا ماحول عید کی خوشیوں سے معطر نظر آ رہا تھا، تقریب نے نہ صرف بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ کمیونٹی کے درمیان باہمی محبت، اخوت اور عید کی خوشیوں کو بھی فروغ دیا،۔٭تقریب کی نظامت کے فرائض بھی مرینہ حسین نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ بچوں نے تالیوں کی گونج میں مہمانانِ خصوصی مسز نذر حسین اور عینی لطیف کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔پروگرام کا آغاز ہورین امیر، مہین امیر اور اروہ شاہ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں ہورین امیر نے قاعدہ پڑھ کر سنایا جبکہ ارسل سلطان نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ محمد عمر شاہد اور سایہ سلطان نے عیدالاضحیٰ اور قربانی کے فلسفے پر تقاریر کیں، جبکہ محمد ارسل سلطان نے بھی قربانی کی اہمیت پر اظہارِ خیال کیا۔بچوں نے ’’اسلام علیکم–عید مبارک ‘‘ کے عنوان سے ایک خوبصورت ٹیبلو پیش کیا جس میں اسلام کے امن، محبت اور خوشیوں کے پیغام کو اجاگر کیا گیا۔ مرینہ حسین نے اس موقع پر کہا کہ بچوں کو مقابلوں اور سرگرمیوں میں شامل کرنے کا مقصد انہیں معلومات فراہم کرنا، ان کا اعتماد بڑھانا اور سیکھنے کا شوق پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو عیدین، اسلامی تعلیمات، پاکستان کی تاریخ اور اپنی ثقافت سے روشناس کرایا جاتا ہے، جبکہ والدین خصوصاً ماؤں کا کردار اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی میں پیدا ہونے والے بچوں کے دو وطن ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جڑوں اور شناخت سے بھی آگاہ رہیں مقابلوں کے نتائج کے مطابق سانیہ سلطان اور عمیر شاہد نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ارسل سلطان اور حسن نیر دوسرے نمبر پر رہے جبکہ مہین امیر اور فروہ شاہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔عبیرہ ضیاء نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پراعتماد بچہ ہی مستقبل کا کامیاب انسان بنتا ہے۔ مسز نذر حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ یورپ میں رہتے ہوئے بچوں کو اردو، اسلامیات اور اپنی ثقافت سے جوڑے رکھنا ایک مشکل اور محنت طلب کام ہے، جسے مرینہ حسین نہایت خلوص سے انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں ہوتی ہے اور بیرونِ ملک ماؤں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔عینی لطیف نے بچوں کی محنت اور مرینہ حسین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کامیابیوں میں ماؤں کا کردار بھی قابلِ تعریف ہے جو وقت نکال کر اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اور تربیتی پروگراموں میں لاتی ہیں۔تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرینہ حسین نے پاکستانی کمیونٹی اور والدین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بچوں کو اردو اور اسلامیات کی تعلیم دے رہی ہیں اور پروگرام کی کامیابی کا اصل سہرا بچوں کی ماؤں کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک والدین خصوصاً مائیں اپنے بچوں کو سیکھنے کے لیے لاتی رہیں گی، وہ اپنی خدمات جاری رکھیں گی۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ وہ پاکستان، اسلامی تہواروں اور اپنی ثقافتی شناخت کے بارے میں اچھی معلومات رکھتے ہیں۔مسز نذر حسین نے کہا کہ بچوں کی پراعتماد تقاریر اور سوال و جواب میں حصہ لیتے دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ ہمارا مستقبل روشن ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا کریڈٹ مرینہ حسین کی انتھک محنت کو دیا۔مسز خالد لطیف نے کہا کہ بیرونِ ملک رہنے والے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اپنی مادری زبان، مذہب اور ثقافت سے جڑے رہیں۔ انہوں نے مرینہ حسین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اردو ادب، اسلامی تہواروں اور پاکستان کی تاریخ سے بچوں کی آگاہی نہایت ضروری ہے اور اس سلسلے میں ان کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔آخر میں بچوں میں انعامات اور تحائف تقسیم کیے گئے جبکہ شرکاء کی تواضع لذیذ گھریلو کھانوں سے کی گئی جو بچوں کی مائیں اپنے ہاتھوں سے تیار کرکے لائی تھیں۔ اس طرح یہ عید ملن تقریب خوشگوار یادوں اور خوبصورت تاثرات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔











































