“21 اپریل: وہ دن جب ایک عہد خاموش ہو گیا”واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,- 0

“21 اپریل: وہ دن جب ایک عہد خاموش ہو گیا”واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,-

0Shares

“ اکیس اپریل: وہ دن جب ایک عہد خاموش ہو گیا”واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,-

اکیس اپریل 1938 وہ اندوہناک اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جانے والا دن ہے جب برصغیر کے عظیم مفکر، شاعرِ مشرق محمد اقبال اس ناپائیدار دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات کسی ایک فرد کا بچھڑ جانا نہ تھی بلکہ ایک ایسی فکر، ایک ایسا چراغ، اور ایک ایسا شعور خاموش ہو جانا تھا جو دلوں کو بیدار کرتا، ذہنوں کو جِلا بخشتا اور قوموں کو ان کی کھوئی ہوئی پہچان یاد دلاتا تھا۔ ان کے جانے سے گویا ایک ایسا اجالا ماند پڑ گیا جس کی روشنی میں پوری ایک نسل نے اپنے خواب دیکھے تھے، اور ایک ایسا خلا پیدا ہوا جو آج تک محسوس کیا جاتا ہے۔محمد اقبال محض ایک شاعر نہ تھے بلکہ ایک عہد کی آواز، ایک درد مند رہنما اور ایک بیدار مغز مفکر تھے۔ انہوں نے ہمیں خودی کا وہ عظیم درس دیا جو انسان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کر کے بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ ان کا پیغام محض الفاظ کا مجموعہ نہ تھا بلکہ ایک زندہ تحریک تھی جو انسان کو اپنی حقیقت پہچاننے، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے اور اپنے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ آج بھی ان کے اشعار دلوں میں حرارت پیدا کرتے ہیں، روح کو تڑپا دیتے ہیں اور ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں کہ ہم اپنی اصل شناخت سے کتنی دور جا چکے ہیں۔انہوں نے اپنی پوری زندگی امتِ مسلمہ کی فکری و روحانی بیداری کے لیے وقف کر دی۔ ان کے دل میں ایک ایسی قوم کا خواب دھڑکتا تھا جو علم کی روشنی، ایمان کی قوت اور اتحاد کی طاقت سے دنیا کی رہنمائی کرے۔ ان کی ہر تحریر، ہر شعر اور ہر فکر اسی خواب کی تعبیر کے لیے ایک پکار تھی—ایک ایسی صدا جو دلوں کو جگانے اور ضمیروں کو بیدار کرنے کے لیے تھی۔ مگر آج جب ہم اپنے اجتماعی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو دل کرب سے بھر جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے اپنی ہی رہنمائی کے چراغ بجھا دیے ہوں اور ان کے سنہرے اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر وقتی خواہشات اور غفلت کو اپنا مقدر بنا لیا ہو۔ان کی صدا آج بھی فضا میں گونج رہی ہے—“خودی کو کر بلند اتنا…”—مگر افسوس کہ ہم اس صدا کو سننے کے باوجود اپنے اندر وہ انقلاب پیدا نہیں کر پا رہے جس کی انہوں نے تمنا کی تھی۔ یہی لمحہ ہمیں جھنجھوڑنے اور بیدار کرنے کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنی سمت کا ازسرِنو تعین کریں اور اپنے ماضی کی عظمت کو یاد رکھتے ہوئے اپنے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کریں۔آج ان کی برسی کے موقع پر ہمیں محض اشک بہانے اور رسمی عقیدت تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ سچے دل سے خود احتسابی کرنی چاہیے۔ ہمیں یہ سوال اپنے اندر زندہ رکھنا ہوگا کہ ہم نے محمد اقبال کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں کس حد تک جگہ دی؟ کیا ہم نے وہ خودی پیدا کی جس کا درس انہوں نے دیا، یا ہم اب بھی غفلت اور بے سمتی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں