
۔،۔ گذشتہ سال میڈیا پروفیشنلز (صحافیوں) پر 55 حملے کئے گئے۔ نذر حسین۔،۔
٭صحافیوں کی تنظیم۔ آر ایس ایف۔ کی رپورٹ کے مطابق صحافی بہت تیزی سے سخت سماجی ماحول اور بین الاقوامی تنازعات کے نتائج کے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں ٭
شان پاکستان جرمی فرینکفرٹ۔جرمنی میں صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور تشدد پرصحافیوں کی تنظیم۔ آر ایس ایف۔ (رپورٹرز ود آوُٹ بارڈرز) کا کہنا ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے بہت سے رپورٹرز صحافتی کام کو ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں، خصوصی طور پر بڑھتی ہوئی پولرائزیشن اور سخت سماجی آب و ہوا سیکورٹی کے خطرات کا باعث بن رہی ہے، خاص طور پر مظاہروں میں، صحافیوں کی تنظیم۔ آر ایس ایف۔ نے میڈیا کے پیشہ ور افراد اور نیوز رومز پر تقریباََ (پچپن) حملوں کی دستاویزات کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ گذشتہ سال نوے کے قریب حملے پیش آئے، ان کا زید کہنا تھا کہ تشدد بنیادی طور پر سیاسی تقریبات میں ہوتا ہے۔ جسمانی حملوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے زیادہ تر واقعات جرمنی کے دارالخلافہ برلن میں پیش آئے۔ اس کے بعد سیکسن، سیکسونی انہالٹ، نارتھ رائین ویسٹ فیلیا، ہیسن، لوئر سیکسنی، ہیمبرگ، تھورنگن، باویریا جبکہ سائبر حملے بھی ہوئے ہیں۔ جرمن صحافیوں کی ایسوسی ایشن (ڈی جے وی DJV) تنہا صحافیوں کو خاص طور پر خطرے میں دیکھتی ہے۔ ایسوسی ایشن میڈیا کے پیشہ ور افراد کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ صرف ٹیم کی صورت میں انتہا پسند گروپوں میں منعقد ہونے والے مظاہروں اور تقریبات میں حصّہ لیا کریں۔ جرمن جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ فلسطین کے حامی مظاہروں میں آزادی صحافت کے حوالے سے صورتحال اور پولیس کے کردار پر بھی گرما گرم بحث ہوئی۔





