
۔،۔سحری پر باپ سے تلخ کلامی،ترک دوشیزہ نے اپنے باپ کو قتل کر ڈالا۔ نذر حسین۔،۔
٭سحری میں اہل خانہ کے سامنے ترک دوشیزہ نے تلخ کلامی پر اپنے باپ کو قتل کر ڈالا،ترک میڈیا کے مطابق اٹھارہ سالہ بیٹی نے گھر میں موجود ذاتی پستول سے اپنے پینتالیس سالہ باپ کو مار ڈالا٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ترکی/باتمان۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب خاندان سحری کے پہلے لمحات میں سحری کی تیاری کر رہا تھا تو وہ ہوا،جس کا کسی نے سوچا بھی نہ تھا، خاندان کے سربراہ جس کی عمر پینتالیس بتائی جاتی ہے اور اس کی اٹھارہ سالہ بیٹی کے درمیان کسی وجہ سے تلخ کلامی کا آغاز ہوا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اجانک یہ تلخ کلامی ایک ایسے جرم میں بدل گئی جس کی بھینٹ پینتالیس سالہ والد چڑھ گیا۔ ترک میڈیا کے مطابق بیٹی نے گھر میں موجود ذاتی پستول سے باپ پر گولی چلا دی، فائرنگ کی آواز سن کر پڑوسیوں نے سیکورٹی حکام کو اطلاع دے دی، پولیس اور ایمبولنس کی کئی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، عملے نے مقتول کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اسپتال منتقل کئے جانے کے باوجود جانبر نہ ہو سکا جبکہ پولیس نے فوری طور پر واقعہ کی تحقیقات شروع کر دیں۔ اگرچہ میڈیا نے اس جرم پر بھرپور روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن تاحال باپ کو قتل کرنے کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی صرف اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ نامعلوم وجوعات کی بنا پر یہ واقع پیش آیا ہے۔ واضح رہے ترک فیملیز میں اکثر لوگوں کے گھر اسلحہ پایا جاتا ہے خواہ وہ قانونی یا غیر قانونی ہو۔



