۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں واقع قونصلیٹ جنرل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں معرکہ حق کی پہلی سالگرہ۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں واقع قونصلیٹ جنرل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں معرکہ حق کی پہلی سالگرہ۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں واقع قونصلیٹ جنرل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں معرکہ حق کی پہلی سالگرہ۔ نذر حسین۔،۔

٭قونصلیٹ جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ میں بھارت کا غرور خاک میں ملانے اور دندان شکن جواب کا ایک سال مکمل ہونے پر جرمنی میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی نے قائم مقام قونصل جنرل اور عملہ کے ساتھ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے (معرکہ حق اور بنیان المرصوص) منائی، جس میں صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر خارجہ کا قوم کے نام پیغام اوورسیز پاکستانیوں کو پڑھ کر سنایا،

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں واقع قونصلیٹ جنرل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر جب پاکستان ایک بہت بڑے امتحان سے گزرا جبکہ اس موقع پر پوری قوم ثابت قدم رہی منانے کے لئے جرمنی بھر سے اورسیز پاکستانی کمیونٹی نے بھر پور شرکت کر کے،اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کی۔جبکہ ایک منٹ خاموشی بھی اختیار کی گئی،مس خلیقہ نے نقابت کے فرائض نہایت احسن طرقہ سے سرانجام دیئے، پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کا شرف محمد صدیق کو ملا، پھر قومی ترانہ پیش کیا گیا، قائم مقام قونصل جنرل نے اپنے پیغام میں اس موقع پر اپنی مسلہ افواج اور قوم کے بے مثال حوصلے اور قربانیوں اور عزم کو، شہداء اور ان کے اہل خانہ اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کی۔معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر صدر مملکت آصف علی زرداری کا پیغام اوورسیز تک پہنچایا کہ گذشتہ سال مئی کے مہینہ کے واقعات صرف ایک فوجی کاروائی نہیں تھے بلکہ پوری قوم کے لئے ایک اہم لمحہ تھے،پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر بلا اشتعال حملے کئے،فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ زیادہ تر شہری آبادی اور عبادگاہوں کو نشانہ بنایا گیا،اس موقع پر پاکستان نے نظم و ضبط،درست حکمت عملی، بہادرب اور قومی اتحاد کے ساتھ منہ توڑ جواب دیا،آپریشن بنیان المرصوص نے جو معرکہ حق کا اہم ترین ستون تھا،پھر دنیا نے دیکھا کہ جب پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو تو ہمار مسلح افواج کیا کچھ کر سکتی ہیں۔تجارت اور سرمایہ کاری قونسلر آمنہ نعیم بٹ نے وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کا یوم معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر دیا جانے والا پیغام سنایا کہ۔ معرکہ حق اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ پاکستانی قوم امن پسند ہونے کے ساتھ ساتھ ٭بہادر ٭باوقار٭ثابت قدم اور غیرت مند قوم ہے،جسے نہ تو مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جارحیت کے ذریعہ جھکایا جا سکتا ہے، معرکہ حق تاریخ میں ایک ایسے عظیم کارنامے کے طور پر ثبت ہو چکا ہے جس میں دشمن کی بلا اشتعال جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے فیصلہ کن برتری حاصل کی،دشمن کو ایسا سبق دیا گیا جس نے اس کے ناقابل شکست ہونے کے زعم کو خاک میں ملا دیا ۔خالد شاہ شیرازی نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا پیغام اوورسیز پاکستانیوں کے گوش گزار کیا کہ۔آج ہم معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں جو ہماری قوم کا ایک فیصلہ کن باب ہے،یہ محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ جرات،اتحاد اور غیر متزلزل عزم کی ایک پیاری داستان ہے جس میں ہر سپاہی ثابت قدم رہا جبکہ پوری قوم اس کے شانہ بشانہ کھڑی رہی الحمد للہ، اس موقع پر میں اپنی مسلح افواج کے بہادر افسران اور جوانوں، قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے نظم و ضبط، حوصلے اور عزم کے ساتھ وطن عزیز کا دفاع کیا، میں پاکستان کے عوام کو بھی دلی خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جن کا اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا، کیونکہ جب قوم یکجا ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی بنیادوں کو متزلزل نہیں کر سکتی۔،۔یوتھ روشن مستقبل کی علامت شیرازی کا کہنا تھا کہ دشمنان پاکستان یاد رکھو اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیئے کہ پاکستان کو کمزور کرنے یا اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری، موئثر اور ہمہ جہت جواب دیا جائے گا، جبکہ عبیرہ صیاء نے بھی اپنا میسج کچھ یوں ریکارڈ کروایا، آج میں یہاں ایک مقرر کی طور پر نہیں کھڑی جبکہ ایک ایسے پاکستانی کے طور پر کھڑی ہوں جس کے دل میں اپنے وطن کی محبت سمندر کی طرح موج زن ہے، ہم جرمنی میں رہتے ہیں سب کچھ بدل سکتا ہے مگر ایک چیز نہیں وہ ہے پاکستان، وہ پاکستان جس کے سبز ہلالی پرچم کو دیکھ کر آنکھیں چمک اٹھتی ہیں، وہ پاکستان جس پر آنچ آتے ہی سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں، اس کے بعد ملی نغمے پیش کئے گئے۔اس دوران پاکستان زندہ باد اور پاک افواج پائندہ باد کے نعروں سے قونصل خانہ کے در و دیوار گونجتے رہے۔ تقریب کے اختتام پرکمیونٹی کو پاکستانی کانا پیش کیا گیا اور دیر تک قونصل جنرل کمیونٹی کے ساتھ بات چیت میں مصروف رہے کچھ ان کی سنی کچھ اپنی سنائی، اس طرح کمیونٹی بہت دیر تک قونصل خانہ میں مصروف رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں