“وہ دن جب میرے سارے زخم مسکراہٹ بن جائیں گے” واجد قریشی (ڈنمارک) 0

“وہ دن جب میرے سارے زخم مسکراہٹ بن جائیں گے” واجد قریشی (ڈنمارک)

0Shares

وہ دن جب میرے سارے زخم مسکراہٹ بن جائیں گے” واجد قریشی (ڈنمارک)

رات بہت گہری تھی…آسمان پر چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، مگر میرے دل کے اندر جیسے اندھیرا اُتر آیا تھا۔ کمرے کی خاموشی میرے اندر کے شور سے کہیں زیادہ خوفناک لگ رہی تھی۔ پنکھا بند تھا کیونکہ بجلی پھر چلی گئی تھی۔ گرمی، خاموشی اور پریشانی… تینوں میرے اردگرد بیٹھے تھے جیسے برسوں کے ساتھی ہوں۔موبائل اسکرین پر بینک کا میسج ابھی تک جگمگا رہا تھا:“قسط باقی ہے…”میں نے ایک لمبی سانس لی۔ کاروبار مسلسل خسارے میں جا رہا تھا۔ کچھ لوگ جنہیں میں اپنا سمجھتا تھا، وقت کے ساتھ بدل گئے تھے۔ کئی رشتے صرف نام کے رہ گئے تھے۔ اور کچھ خواب… شاید میرے نصیب میں ہی نہیں تھے۔میں چھت کو گھورتے ہوئے آہستہ سے بولا:“یا اللہ… آخر کب تک؟میں کب تک خود کو سنبھالتا رہوں؟”یہ وہ لمحہ تھا جب انسان باہر سے زندہ مگر اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔جب ہونٹ خاموش ہوتے ہیں مگر دل چیخ رہا ہوتا ہے۔اسی خاموشی میں میری نظر کمرے کے ایک کونے میں رکھے قرآنِ پاک پر پڑی۔ نہ جانے کیوں دل بیاختیار اُس کی طرف کھنچتا چلا گیا۔ میں نے دھیمی روشنی میں قرآن کھولا… اور پہلی نظر جس آیت پر پڑی، وہ میرے دل میں اُتر گئی:وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ”“اور ہم اُن کے سینوں سے ہر غم، ہر بوجھ، ہر تکلیف نکال دیں گے” سورۃ الحجر: 47,میں دیر تک اُس آیت کو دیکھتا رہا…ایسا لگا جیسے اللہ میرے تھکے ہوئے دل سے بات کر رہا ہو۔میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے… خاموش… گرم… مگر عجیب سکون والے آنسو۔اُسی لمحے مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ شاید میں دنیا کو ہمیشہ کی زندگی سمجھ بیٹھا تھا… حالانکہ یہ تو صرف ایک عارضی سفر ہے۔ ایک مسافر خانہ… جہاں ہر خوشی بھی عارضی ہے اور ہر غم بھی۔یہاں کی محرومیاں ختم ہو جائیں گی…یہاں کی تھکن ختم ہو جائے گی…یہاں کے اندھیرے ختم ہو جائیں گے…پھر میں نے آنکھیں بند کیں…اور اچانک ایک عجیب منظر میرے دل میں اُترنے لگا…
میں جنت میں تھا۔سبز نرم گھاس میرے قدموں کے نیچے تھی۔ خوشبوؤں سے بھری ہوائیں میرے چہرے کو چھو رہی تھیں۔ وہاں نہ گرمی تھی، نہ خوف، نہ بیماری، نہ جدائی… بس سکون تھا۔ ایسا سکون جو دنیا میں کبھی محسوس نہیں ہوا۔میں ایک بہت بڑے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھا تھا۔ اُس درخت کی ٹھنڈک جیسے روح تک اُتر رہی تھی۔ نہ بجلی جانے کی فکر… نہ بلوں کا خوف… نہ مہنگائی… نہ لوگوں کے بدل جانے کا دکھ… نہ مستقبل کی بیچینی…اور سب سے خوبصورت بات؟میرے ساتھ میرے اپنے بیٹھے تھے… وہ لوگ جن کے لیے میں دنیا میں دعائیں مانگا کرتا تھا۔پھر اچانک… میں ہنس پڑا۔ایسی ہنسی جو دنیا میں کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی۔لوگوں نے محبت سے پوچھا:“تم کیوں ہنس رہے ہو؟”میں نے مسکراتے ہوئے کہا:“مجھے دنیا یاد آگئی…وہ راتیں یاد آگئیں جب بجلی چلی جاتی تھی اور میں پریشان ہو جاتا تھا…جب کسی کے بڑے گھر اور کامیابی کو دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا تھا…جب چند تلخ لفظ رات بھر رُلا دیتے تھے…جب رزق، نوکری اور لوگوں کے رویّے مجھے اندر سے توڑ دیتے تھے…یار… وہ بھی کوئی غم تھے؟”سب مسکرانے لگے…کیونکہ وہاں پہنچ کر حقیقت سمجھ آچکی تھی کہ دنیا کے بڑے سے بڑے غم بھی جنت کی ایک لمحے کی راحت کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ واقعی… کچھ بھی نہیں۔پھر اچانک جنت کی فضاؤں میں ایک آواز گونجی…“سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ”“مہربان رب کی طرف سے سلام کہا جائے گا” سورۃ یٰسٓ: 58وہ آواز…اللہ کی قسم… ایسی تھی کہ روح کانپ جائے، دل پگھل جائے، اور انسان محبت میں سجدے میں گر جائے۔میں رو پڑا…اور پھر میرے ہونٹوں سے صرف ایک جملہ نکلا:“یا اللہ… اب کچھ باقی نہیں رہا…اب سب مل گیا…”تب مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں جو آنسو بہائے تھے، وہ ضائع نہیں گئے۔ جو صبر کیا تھا، اللہ نے اُسے دیکھا تھا۔ جو راتیں تنہائی میں گزری تھیں، وہ سب میرے رب کے علم میں تھیں۔اس لیے اب جب بھی دنیا کے غم مجھے تھکاتے ہیں، میں خود کو یاد دلاتا ہوں:یہ دنیا مستقل گھر نہیں۔یہ آزمائش ہے… سفر ہے… چند دنوں کی تھکن ہے۔اصل زندگی تو وہاں ہے…جہاں نہ دل ٹوٹیں گے…نہ کوئی چھوڑ کر جائے گا…نہ موت ہوگی…نہ جدائی…بس سکون ہوگا…صرف سکون…اللہ مجھے، آپ کو، اور ہم سب کو اُن خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے جو جنت الفردوس کے درختوں تلے بیٹھ کر دنیا کے غموں کو یاد کر کے مسکرایا کریں گے۔آمین یا رب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں