-,-سویڈن کا یورپ سے مختلف انتخابی پیغام-عارف محمود کسان-,- 0

-,-سویڈن کا یورپ سے مختلف انتخابی پیغام-عارف محمود کسان-,-

0Shares

-,-سویڈن کا یورپ سے مختلف انتخابی پیغام-عارف محمود کسان-,-

یورپ میں دائیں بازو کی سیاست کے بڑھتے ہوئے شور کے درمیان سویڈن سے آنے والا انتخابی پیغام خاصا مختلف ہے۔ جب جرمنی میں AfD اپنا سیاسی وزن بڑھا رہی ہے، برطانیہ میں Reform UK روایتی جماعتوں کے لیے نیا چیلنج بن کر ابھری ہے اور یورپ کے کئی ملکوں میں تارکینِ وطن مخالف سیاست عوامی حمایت حاصل کر رہی ہے، عین اسی وقت سویڈن نے ایک مختلف سمت کا اشارہ دیا ہے۔ 13 ستمبر 2026 کے انتخابات میں سویڈش ڈیموکریٹس، جو گزشتہ کئی انتخابات سے مسلسل آگے بڑھ رہی تھی اور 2022 میں ملک کی دوسری بڑی جماعت بن گئی تھی، اس بار پیچھے ہٹ گئی۔ اس کا ووٹ 20.54 فیصد سے کم ہو کر 17.48 فیصد رہ گیا، پارلیمانی نشستیں 73 سے گھٹ کر 62 ہوگئیں اور جماعت دوسری سے تیسری بڑی سیاسی قوت بن گئی۔یہ محض گیارہ نشستوں کا نقصان نہیں؛ یہ اس سوال کا آغاز ہے کہ کیا یورپ میں دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت واقعی ایک ناگزیر سیاسی لہر ہے، یا مختلف معاشروں میں ووٹر اپنے مسائل کے لیے مختلف راستے بھی اختیار کرسکتا ہے؟ سویڈن کا حالیہ انتخاب کم از کم یہ ضرور بتاتا ہے کہ امیگریشن، جرائم، قومی شناخت اور ثقافتی بے چینی جیسے مسائل کی موجودگی لازماً کسی ایک دائیں بازو کی جماعت کی مستقل مقبولیت کی ضمانت نہیں بنتی۔سویڈن کی کہانی اس لیے بھی اہم ہے کہ تبدیلی صرف قومی پارلیمان تک محدود نہیں رہی۔ مقامی اور علاقائی سطح پر بھی سویڈش ڈیموکریٹس کو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں ایک ایسی جماعت، جس کا سیاسی گراف ایک طویل عرصے تک مسلسل اوپر جاتا رہا، پہلی مرتبہ واضح انتخابی پسپائی سے دوچار ہوئی ہے۔مگر اس نتیجے کو جلدی میں ’’انتہا پسندی کی شکست‘‘ قرار دینا بھی اتنا ہی سادہ ہوگا جتنا اسے محض ایک عارضی انتخابی اتار چڑھاؤ سمجھ کر نظرانداز کرنا۔ سویڈش ڈیموکریٹس اب بھی 62 نشستوں کے ساتھ پارلیمان کی ایک بڑی قوت ہے۔ اس کے تقریباً ساڑھے سترہ فیصد ووٹ یہ بتاتے ہیں کہ امیگریشن، انضمام، جرائم، قومی سلامتی اور شناخت کے سوالات سویڈش معاشرے سے غائب نہیں ہوئے۔ اصل کہانی شاید یہ ہے کہ سویڈش ووٹر نے ان سوالات کے جواب کے لیے اپنا سیاسی انتخاب تبدیل کیا ہے۔اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے 2022 کے انتخابات کی طرف واپس دیکھنا ہوگا۔ اس وقت سویڈش ڈیموکریٹس نے 20.54 فیصد ووٹ لے کر 73 نشستیں حاصل کیں اور ملک کی دوسری بڑی جماعت بن گئی۔ اس کامیابی کے بعد دائیں بازو کی حکومت قائم ہوئی اور اگرچہ سویڈش ڈیموکریٹس کابینہ میں براہِ راست شامل نہیں ہوئی، مگر حکومت کی پارلیمانی اکثریت کے لیے اس کی حمایت اہم تھی۔یہاں سے اس جماعت کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ جو جماعت برسوں تک حکومت پر تنقید کرتی اور امیگریشن، جرائم اور قومی شناخت جیسے مسائل کو مرکزی سیاسی موضوع بناتی رہی تھی، اسے اب اقتدار کے قریب رہ کر اپنے سیاسی اثرات کی ذمہ داری بھی قبول کرنا پڑی۔ احتجاجی سیاست اور عملی سیاست میں یہی بنیادی فرق ہے۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے ہر مسئلے کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی جاسکتی ہے، لیکن جب کسی جماعت کو اقتدار کی حمایت حاصل ہو تو ووٹر اس سے پوچھتا ہے کہ جن مسائل کا حل آپ برسوں سے پیش کرتے رہے ہیں، ان میں عملی تبدیلی کہاں ہے؟شاید سویڈش ڈیموکریٹس کے لیے 2026 کا انتخاب اسی سوال کا ایک جواب تھا۔لیکن اس انتخاب کو صرف امیگریشن کے مسئلے سے سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ سویڈن میں امیگریشن، انضمام، گینگ جرائم اور شہری سلامتی گزشتہ برسوں میں یقیناً بڑے سیاسی موضوعات رہے ہیں، لیکن سویڈش ووٹر کے مسائل کی فہرست اس سے کہیں طویل ہے۔ صحت، تعلیم، رہائش، روزگار، مہنگائی، پنشن، فلاحی ریاست اور روزمرہ زندگی کے اخراجات بھی اسی بیلٹ پیپر پر موجود تھے۔یہی وہ مقام ہے جہاں کسی بھی احتجاجی سیاست کی ایک حد سامنے آتی ہے۔ جب ایک جماعت مسلسل ایک ہی مسئلے کو اپنی شناخت کا مرکز بناتی ہے تو ایک وقت پر ووٹر یہ سوال کرسکتا ہے کہ ملک کے باقی مسائل کا حل کیا ہے؟ جس شہری کو ہسپتال کی سہولت، بچے کے اسکول، گھر کے کرائے، روزگار اور خاندان کی معاشی صورتحال کی فکر ہو، اس کا انتخاب صرف امیگریشن کے سوال سے طے نہیں ہوتا۔سویڈن کی سیاست میں ایک اور اہم تبدیلی بھی واقع ہوئی ہے۔ روایتی اور مرکزی جماعتوں نے بھی گزشتہ برسوں میں امیگریشن، سرحدی کنٹرول، جرائم اور انضمام کے بارے میں اپنے موقف کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت کیا ہے۔ اس کا ایک ممکنہ نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ جن موضوعات پر سویڈش ڈیموکریٹس نے اپنی سیاسی شناخت قائم کی تھی، وہ اب صرف اسی جماعت کی ملکیت نہیں رہے۔ جب مرکزی جماعتیں بھی انہی مسائل پر پالیسی پیش کرنے لگیں تو ووٹر کے سامنے انتخاب کے زیادہ راستے پیدا ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سویڈن کا تجربہ جرمنی اور برطانیہ سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ جرمنی کے 2025 کے وفاقی انتخابات میں AfD نے 20.8 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ 2021 میں اس کا ووٹ 10.4 فیصد تھا۔ اس کی پارلیمانی نشستیں بھی 83 سے بڑھ کر 152 ہوگئیں۔ برطانیہ میں 2024 کے عام انتخابات میں Reform UK نے 14.3 فیصد ووٹ حاصل کیے اور پانچ نشستیں جیتیں۔ اس کے برعکس سویڈن میں سویڈش ڈیموکریٹس کا ووٹ 20.54 فیصد سے کم ہو کر 17.48 فیصد رہ گیا۔یہ تقابل ایک بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے: یورپ میں دائیں بازو کا عروج کوئی یکساں اور خودکار عمل نہیں۔ ایک ہی براعظم میں ایک جیسے موضوعات مختلف ملکوں میں مختلف سیاسی نتائج پیدا کرسکتے ہیں۔ تاریخ، انتخابی نظام، معاشی حالات، فلاحی ریاست، امیگریشن کا تجربہ، سیاسی جماعتوں کی ساخت اور روایتی جماعتوں کا ردعمل ہر ملک میں الگ ہے۔ اس لیے جرمنی میں AfD کے عروج اور سویڈن میں سویڈش ڈیموکریٹس کی پسپائی کو ایک ہی فارمولے سے سمجھنا ممکن نہیں۔سویڈن کے انتخابی نتیجے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسے محض ’’انتہا پسندی کے خلاف فیصلہ‘‘ قرار دینا بھی شاید انتخابی حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دے۔ سویڈش ڈیموکریٹس اب بھی تقریباً پانچ میں سے ایک قومی ووٹر کی حمایت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امیگریشن، جرائم، قومی شناخت اور انضمام کے بارے میں معاشرے میں موجود خدشات ختم نہیں ہوئے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان خدشات کا سیاسی جواب ایک جماعت تک محدود نہیں رہا۔یہاں سویڈن کے تجربے کا ایک مثبت پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ 2026 کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 84.9 فیصد رہا، جو 2022 کے 84.21 فیصد سے قدرے زیادہ تھا۔ یعنی سیاسی اختلافات اور شدید انتخابی مقابلے کے باوجود شہری سیاست سے دور نہیں ہوئے؛ انہوں نے اپنے فیصلے کا اظہار ووٹ کے ذریعے کیا۔جمہوریت کی اصل طاقت شاید یہی ہے۔ اختلاف ختم ہوجانا جمہوریت کی کامیابی نہیں؛ اختلاف کے باوجود سیاسی فیصلے آئینی اور پُرامن طریقے سے ہونا جمہوریت کی کامیابی ہے۔ کوئی جماعت ہمیشہ اوپر نہیں رہتی، کوئی سیاسی بیانیہ ہمیشہ مقبول نہیں رہتا اور کوئی انتخابی کامیابی مستقل ملکیت نہیں ہوتی۔ عوام اپنے تجربے، ترجیحات اور حالات کے مطابق اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتے ہیں۔سویڈن کے 2026 کے انتخابات کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ نہ تو دائیں بازو کے خاتمے کی خبر ہے اور نہ اس بات کا ثبوت کہ امیگریشن یا جرائم جیسے مسائل غیر اہم ہوگئے ہیں۔ یہ اس سے زیادہ پیچیدہ اور شاید زیادہ دلچسپ سیاسی پیغام ہے کہ مسائل اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، لیکن عوام ان مسائل کے حل کے لیے اپنی سیاسی پسند تبدیل کرسکتے ہیں۔یورپ کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جرمنی میں AfD کی طاقت بڑھی ہے، برطانیہ میں Reform UK نے روایتی جماعتوں کے لیے نیا سیاسی دباؤ پیدا کیا ہے اور کئی دوسرے یورپی ممالک میں دائیں بازو کی جماعتیں حکومتوں کا حصہ بن رہی ہیں۔ لیکن سویڈن کا انتخاب بتاتا ہے کہ یہ براعظم کسی ایک سیاسی سمت میں یکساں طور پر آگے نہیں بڑھ رہا۔شاید سویڈن کا اصل سبق یہی ہے کہ عوامی خدشات کو نظرانداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے، لیکن ان خدشات کا جواب صرف خوف، غصے اور تقسیم کی سیاست نہیں۔ جرائم کا مسئلہ ہو تو مؤثر قانون نافذ کرنا ہوگا، امیگریشن کا مسئلہ ہو تو قابلِ عمل اور واضح پالیسی درکار ہوگی، انضمام کا سوال ہو تو معاشرے کے مختلف طبقات کو قریب لانے کی کوشش کرنا ہوگی، اور اگر شہری مہنگائی، صحت، رہائش اور تعلیم سے پریشان ہیں تو ان مسائل پر بھی عملی کارکردگی دکھانا ہوگی۔آخرکار ووٹر صرف نعرے نہیں سنتا؛ وہ اپنی زندگی میں تبدیلی بھی دیکھنا چاہتا ہے۔سویڈن کا 13 ستمبر 2026 کا انتخاب اسی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کا سیاسی گراف کئی انتخابات تک مسلسل اوپر جاتا رہا، اس بار نیچے آیا، مگر اس کے ساتھ وہ مسائل بھی ختم نہیں ہوئے جنہوں نے اسے مقبول بنایا تھا۔ اس لیے اس انتخاب کو کسی ایک نظریے کی فتح یا شکست کے بجائے جمہوری سیاست کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔یورپ کا سیاسی موسم بلاشبہ بدل رہا ہے، مگر سویڈن کا فیصلہ بتاتا ہے کہ اس بدلتے موسم میں ہر ملک کا راستہ ایک جیسا ہونا ضروری نہیں۔ ایک ہی خوف مختلف معاشروں میں مختلف سیاسی فیصلے پیدا کرسکتا ہے، اور ایک ہی مسئلہ مختلف جماعتوں کے ہاتھ میں مختلف حل تلاش کرسکتا ہے۔شاید سویڈن کے انتخاب کا سب سے گہرا پیغام یہی ہے کہ عوام مسائل سے تنگ آکر لازماً تقسیم کی طرف نہیں جاتے؛ وہ کارکردگی، ذمہ داری اور قابلِ عمل حل کا مطالبہ بھی کرسکتے ہیں۔ سیاست میں کوئی جماعت ہمیشہ کے لیے مقبول نہیں ہوتی، کوئی بیانیہ ہمیشہ غالب نہیں رہتا اور کوئی انتخابی کامیابی کسی جماعت کی مستقل ملکیت نہیں ہوتی۔ اصل اختیار ووٹر کے پاس رہتا ہے۔اور جب ووٹر اپنا فیصلہ بدلتا ہے تو صرف حکومتیں نہیں، سیاست کے راستے بھی بدلتے ہیں۔ سویڈن نے شاید اسی حقیقت کی یاد دہانی کرائی ہے کہ جمہوریت میں آخری لفظ کسی جماعت، کسی نعرے یا کسی سیاسی لہر کا نہیں ہوتا—آخری لفظ عوام کا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں