
۔،۔ ویانا میں یورو ویثرن میں اسرائیل کی شرکت کی بنا پر پانچ ممالک کا بائیکاٹ۔ نذر حسین۔،۔
٭اسپین٭ہالینڈ٭آئرلینڈ٭سلووینیا اور آئس لینڈ نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ویانا میں ہونے والے یورو ویثرن میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا نہ صرف یہ جبکہ بے شمار مظاہرے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں ٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/آسٹریا ویانا۔ یورو ویثرن گانوں کا مقابلہ (یوروویثرن سانگ کانٹسٹ۔Eurovision Song Contest )دنیا کے سب سے بڑے میوزک تماشوں میں سے ایک بن گیا ہے، بین الاقوامی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک غیم معمولی بین الاقوامی گانوں کے مقابلے سے، اس ایک ہفتہ کی طویل میگا پارٹی بن گئی ہے جس میں واضح طور پر سیاسی رنگ دیکھا جا سکتا ہے، ایونٹ میں اکثر یھڑکیلے کپڑے زیب تن کئے جاتے ہیں اور خوشیاں منائی جاتی ہیں ریکارڈ کے مطابق تقریباََ 170 ایک سو ستر ملین ٹیوی ناظرین دیکھتے ہیں، اس مقابلے میں اسرائیل کی شرکت کی بنا پر ٭اسپین٭ہالینڈ٭آئرلینڈ٭سلووینیا اور آئس لینڈ نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ویانا میں ہونے والے یورو ویثرن میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا جبکہ کئی ناظرین نے بھی غزہ میں ہونے والی بربریت اور دہشت گردی کی بنا پر دیکھنے یا شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس دوران حفاظتی اقدام کو مد نظر رکھتے ہوئے یونیفارک اور سادہ لباس میں سینکڑوں پولیس اہلکار روزانہ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں،جن میں کوبرا اسپیشل فورسز یونٹ کے ارکان بھی شامل ہیں، ممکنہ خطرات کا پتہ لگانے کے لئے متعدد نگرانی والے کیمرے موجود ہیں جن کی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن مدد فراہم کر رہا ہے، اس علاقہ میں کسی بیگ بیگ کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی، پورے علاقہ میں سیکیورٹی چیک کے بعد ہی قابل رسائی ہے، رپورٹ کے مطابق پولیس نے سولہ ہزار افراد کی جانچ پڑتال کی ہے۔ متعدد مظاہرے جن میں زیادہ تر فلسطینی حامی برادری سے ہیں حکام کے پاس رجسٹرڈ کرائے گئے ہیں توقع کی جاتی ہے کہ خصوصی طور پر آخری دن (سولہ مئی) کو اچانک ناکہ بندیوں اور رکاوٹیں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔




