۔،۔10 مئی کو تاریخ رقم نہیں کی گئی 10مئی کو پوری دنیا کو بتا دیا گیا تھا کہ تاریخ کواس نام ٭معرکہ حق،بنیان المرصوص٭ سے بدل دیا گیا ہے۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔10 مئی کو تاریخ رقم نہیں کی گئی 10مئی کو پوری دنیا کو بتا دیا گیا تھا کہ تاریخ کواس نام ٭معرکہ حق،بنیان المرصوص٭ سے بدل دیا گیا ہے۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔10 مئی کو تاریخ رقم نہیں کی گئی 10مئی کو پوری دنیا کو بتا دیا گیا تھا کہ تاریخ کواس نام ٭معرکہ حق،بنیان المرصوص٭ سے بدل دیا گیا ہے۔ نذر حسین۔،۔

٭10مئی کو 1971 میں پیشانی پر لگا داغ مٹانے کا دن تھا،جس دن پاکستان کی بہادر افواج نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے،لیکن ہمارے پیارے وطن کی طرف اُٹھنے والی ہر میلی آنکھ نکال دی جائے گی،حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا،10مئی ا یمان، اتحاد،قربانی،استقامت اور قومی غیرت کا نام ہے افواج پاکستان اور پاکستانی عوام ایک تھے،ہیں اور رہیں گے۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں جشن معرکہ حق بنیان المرصوص انتہائی جوش و خروش اور حب الوطنی کے ساتھ منایا گیا، تقریب میں سماجی،مذہبی، سیاسی اور کاروباری شخصیات نے بھر پور شرکت کی٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔جشن معرکہ حق بنیان المرصوص ای یو پاک فرینڈز شپ فیڈریشن کے صدر ٭عنصر بٹ٭پی او اے ایف سے ٭گوہر باجوہ ٭چوہدری احسان الہی گجر اور چوہدری غلام غوث گجر کا پورا تعاون تھا۔ پروگرام زیر صدارت چوہدری اعجاز حسین پیار اصدر پاکستان اوورتیز الائنس یورپ پیش کیا گیا، چوہدری پرویز اقبال لوسر (ثپوت پاکستان) مہمان خصوصی کے طور پر بلجیئم سے تشریف لائے تھے، ان کی ایک آواز پر جرمنی بھر سے لوگ قافلوں کی صورت میں فرینکفرٹ (درائے آئیش) پہنچے ہال میں تل رکھنے کی جگہ تک نہیں تھی۔ یقیناََ 10 مئی کی رات خصوصی طور پر اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ایک دھچکا تھا، کیونکہ اوورسیز پاکستانی رہتے تو غیر ممالک میں ہیں لیکن ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے تھے،ہیں اور رہیں گے۔ پاکستان نے ان کی زندگیوں کو نکھار دیا، پاکستان نے اپنی آغوش میں لوریاں دیں، زندگی میں آنے والے راستے دکھائے،دس مئی کی اس رات سرحدوں پر صرف گولیاں نہیں چلی تھیں، بلکہ ہر ماں کا دل دھڑک اُٹھا تھا، ہر بچے کی آنکھوں میں ڈر تھا، ہر پاکستانی اور خصوصی طور پر اوورسیز پاکستانیوں کے لبوں پر صرف ایک دُعا تھی ٭یا اللہ ہمارے پاکستان کی حفاظت فرما٭پھر اچانک ہماری غیورا فوج کے نوجوانوں نے فضاء میں تہلکہ مچا دیا اور اپنے سے کئی گُنا بڑی بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا کے اپنا لوہا منوا لیا، نہ صرف یہ جبکہ پوری دنیا کو بتا دیاکہ افواج پاکستان کے غیور نوجوان اور عوام جب ایک ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے سامنے جم نہیں سکتی۔ جشن معرکہ حق کی نظامت کے فرائض شفیق مراد نے پیشہ وارنہ طریقہ سے بخوبی سرانجام دیئے، محفل کا آغاز تالاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کی سعادت حافظ اسد نے حاصل کی جب کہ حاجی محمد ارشد نے بارگاہ رسالت میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے اور حاضرین کے دلوں کو محبت رسولﷺ سے منور کیا۔ قومی ترانہ کی دھن پر پرچم لہرائے گئے اور پھر ہال پاکستان زندہ باد، پاک افواج زندہ باد، جنرل عاصم منیر زندہ باد، جشن معرکہ حق،زندہ باد بنیان المرصوص کے نعروں سے گونج اُٹھا۔وکی چوہدری نے گٹار پر ملی نغمے گائے۔بعد ازاں چوہدری احسان الہی گجر نے جشن معرکہ حق میں تشریف لانے والوں کا شکریہ ادا کیا ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جشن معرکہ حق ہر روز منانا چاہیئے کیونکہ جب سے پاکستان آزاد ہوا، ہم لگاتار حالت جنگ میں ہیں، اس دوران ہماری قوم نے لاکھوں نوجوانوں،بچوں،خواتین اور بزرگان کی قربانی دی۔گوہر باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ صرف تاریخ نہیں ہے بلکہ پاکستان کی عزمت، بہادری، اور ناقابل تسخیر دفاع کی روشن مثال ہے۔ سائمہ کنول کا کہنا تھا کہ آج کی یہ باوقار محفل صرف ایک تقریب نہیں بلکہاپنے وطن، قومی شناخت اقو اپنی افواج پاکستان سے محبت و عقیدت کے اظہار کا ایک خوبصورت لمحہ ہے، ہطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا بلکہ یہ ہماری پہچان،ہماری غیرت،ہماری تاریخ اور ہمارے وجود کی بنیاد ہوتا ہے۔ چوہدری مظہر اقبال دیونہ جو ایک درویش صفت انسان ہیں کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی کے نبی ﷺ نے ہمیں پاکستان کے متعلق کافی پیشن گوئیاں دی ہوئی ہیں،اور میرا اس پر کامل ایمان ہے کہ پاکستان کا اسلام کی مستقبل کی تاریخ میں ایک اعلی مقام ہے۔ اور آج ہم اس بات کی گواہی دے رہے ہیں یا گواہ ہیں کہ وقت اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ پاکستان واقعی اپنی منازل طے کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کوئی نارمل قوم نہیں ہیں اللہ تعالی نے ہمیں ہنر سیکھنے کا ایک اعلی درجہ عطاء فرمایا ہوا ہے۔چوہدری پرویز اقبال لوسر نے اسٹیج پر آ کر کہا کہ۔ عنصر بٹ، گوہر باجوہ، چوہدری غلام غوث اور چوہدری احسان الہی کا میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں،مظہر اقبال چوہدری،کا بھی شکر گزار ہوں، چوہدری افضا سروکی کا دلی شکریہ ادا کیا کہ وہ پاکستان سے معرکہ حق کا جشن منانے آج فرینکفرٹ میں موجود ہے، میں ان تمام دوستوں کو سلام کرتا ہوں، 2014 میں نذر حسین نے سینہ تان کر میرا ساتھ دیا تھا، چوہدری اعجاز پیارا میرا بڑا بھائی ہے اس کے ساتھ میرا چودہ سال تک اختلاف تھا آج ہم ایک اسٹیج پر کھڑے ہیں۔ یہ ملک پاکستان٭ ایک لاکھ تئیس ہزار نو سو ننانوے ٭ نبیوں کے سردار کے خواب کا ملک پاکستان ہے۔ جنرل آصم منیر کے ساتھ چند لوگوں کو ختلاف ہے ضرور رکھیں لیکن منافقت نہ رکھیں، 1971 کے بعد ہمارے ماتھے پر جو دھبہ تھا اس سید زادے نے وہ دھویا ہے۔آل نبی اولاد علی ہیں۔ اس پر مودی تیری شامت آئی۔آئی ایس آئی۔آئی ایس آئی۔ مودی دی کس نے کی دھلائی۔ آئی ایس آئی۔ آئی ایس آئی۔ کے نعروں سے ہال گونج اُٹھا۔ ان کا مزید کہنا تھا اختلاف رکھیں لیکن گالی نہ دیں، نہ یہ ہمارے کلچر کا حصّہ ہے، نہ میرے مذہب کا حصّہ ہے،نہ میری تربیت جب کوئی گالی دیتا ہے یہ سبز پرچم لگائیں۔چوہدری اعجاز حسین پیارا صدر پاکستان اوورسیز الائنس یورپ کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے ہمیں گذشتہ برس دس مئی کو بہت عزت دی،ایک دشمن جو ہم سے پانچ گُنا بڑا ہے،اس کیخلاف جنگ جیتنا آسان کام نہیں تھا دشوار تھا، دنیا کے جدید طیاروں سے لیس تھا، الحمد للہ افواج پاکستان کے غیور نوجوانوں نے اسے منہ توڑ جواب دیا، اس دن سے پہلے دنیا ہم کو کچھ نہیں سمجھتی تھی،لیکن جشن معرکہ حق بنیان المرصوص کے بعد پاکستان ایک طاقتور ملک بن کر اُبھرا ہے،پاکستان نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا لیا ہے، دیکھا جائے تو اسی بنا پر اللہ تعالی نے ہمیں اعزاز بخشا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران میں ثالثی کا کردار ادا کر کے دونوں مماک میں صلح کروا دی ہے، اور واضح رہے پاکستان نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کا امیج، ایک پرامن ملک کی حیثیت سے اُبھرا ہے۔اس موقع پر ہم اللہ کریم کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی پاکستانی لذیز کھانوں سے تواضح کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں