
۔،۔ جرمنی کے شہر لیور کوسن میں خاندانی اجتماع میں پولیس افسران پر حملہ کے بعد پولیس کے چھاپے۔ نذر حسین۔،۔
٭25- 26 اور ستائیس سال کی عمر کے تین افراد پولیس کے نشانہ پر، جنہوں نے گذشتہ مہینہ جرمنی کے شہر لیور کوسن کی ایک شیشہ بار میں پولیس پر حملہ کرنے اور انہیں شدید زخمی کرنے کا الزام ہے٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/لیور کوسن۔ مقامی پولیس رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ لیور کوسن کی ایک شیشہ بار میں خاندانی اجتماع کے دوران پولیس پر حملہ کیا گیا تھا جس میں پولیس اہلکاروں پر حملے کے دوران ایک پولیس افسر کے دانت توڑ دیئے گئے تھے جبکہ دوسرے پولیس اہلکاروں میں سے کئی اہلکار مہینہ بھر ڈیوٹی کے لئے نااہل رہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسٹر اتوار کو یہ واقعہ پیش آیا تھا جبکہ پچاس سے زائد مہمان جن میں سے زیادہ تر خاندان کے بزرگ افراد جانے جاتے تھے، لیور کوسن کی ایک سابق شیشی بار کے احاطے میں تقریب یا جشن منا رہے تھے، شور کی شکایت کی وجہ سے پڑوسیوں نے پولیس کو طلبکیا، پولیس کے موقع پر پہنچنے کے بعد انتیس سالہ پولیس اہلکار پر پھینکی گئی بوتل سے پولیس افسر کے کئی دانت ٹوٹ گئے جبکہ ایک اور پولیس اہلکار کا بازو بھی ٹوٹ گیا۔ پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے ابتدائی طور پر بائیس افراد پر توجہ مرکوز کی۔ جرمن پریس ایجنسی (ڈی پی اے) کی معلومات کے مطابق اور گواہوں کے بیانات اور باڈی کیم فوٹیج کی بنیاد پر اب تین افراد کو مبینہ سرغنہ کے طور پر شناخت کیا گیا ہے، نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیر داخلہ ہربرٹ ریول نے جمعہ کے روز کہا جن افراد نے پولیس پر حملہ کیا تھا، حملہ میں جس جس نے حصّہ لیا اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی سلسلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے مشتبہ سرغنہ کے خلاف چھاپے مارے ہیں، آج صبح سویرے پولیس نے اپارٹمنٹ کی کئی عمارتوں کی تلاشی لی، کئی سیل فون قبضہ میں لئے گئے، افسران کو متعدد ممنوعہ ہتھیار بھی ملے جن میں پھینکنے والے چاقو اور تتلی چاقو بھی شامل تھے۔
