
۔،۔ مسجد غوثیہ ریڈر والڈ میں ایک پُرنور محفل ذکر سید امام حسینؓ کا اہتمام کیا گیا۔ نذر حسین۔،۔
٭ مسجد غوثیہ پاک دارالسلام ریڈر والڈ میں ایک پُرنور محفل ذکر سید امام حسینؓ کا اہتمام کیا گیاجس میں جرمنی کے طول و ارض سے عاشقان ر سولﷺ کی کثیر تعداد نے شرکت کی، پیارے نبی اکرمﷺ اور اس کے نواسے امام حسین سے اپنی محبت کا اظہار کیا٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ریڈروالڈ۔زیر صدارت حاجی محمد عارف، زیر نگرانی خطیب مسجد ھذا حضرت مولانا حافظ ملک محمد صدیق پتھروی مسجد غوثیہ پاک دارالسلام ریڈر والڈ میں ایک پُرنور محفل ذکر سید امام حسینؓ کا اہتمام کیا گیاجس میں جرمنی کے طول و ارض سے عاشقان ر سولﷺ کی کثیر تعداد نے شرکت کی، پیارے نبی اکرمﷺ اور اس کے نواسے امام حسین سے اپنی محبت کا اظہار کیا، محفل میں نظامت فرائض محمدشعیب احمد بٹ نے بخوبی سرانجام دیئے۔ محفل کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت ننھے مہر علی نے حاصل کی۔طاہر علی نے نعت رسولﷺ عشق تیرا نہ اگر میرا مدینہ ہوتا،میں بھی گمراہی کے ویرانوں میں کھویا ہوتا۔محمد زین دل علی دلدار علی ہے،عشق علی ہے پیار علی ہے۔زبیر ترمزی شیر خدا نہیں ہے علی مرتضی کے بعد، کوئی نبی نہیں ہے میرے مصطفی کے بعد۔ محمد علی شان جب سے در نبی کا میں مہمان ہو گیا، بخشش کا میری دوستو سامان ہو گیا۔ چوہدری فخر الزمان۔ میں لج پالاں دے لڑ لگیاں میرے تو غم پرے رہندے، میری آساں امیداں دے صدا بوٹے ہرے رہندے۔ سید نے کربلا میں وعدے نبھا دیئے ہیں، دین محمدی کے گلشن کھلا دیئے ہیں یہ محمد افضل قادری نے پیش کی، طارق محمد ابرار نے اعظم جتھے دل لگ جاوے اتھے عیب نظر نہیں آوندا پیش کی، سب سے بالا بالا ہمارا نبی ننھے ابراہیم نے پیش کی۔ محمد عثمان نے خوبصورت تلاوت پیش کی۔ سید محمد افضال شاہ، لکھاں تے کروڑاں احترام آکھناں واں، حسین تیری ذات نوں میں سلام آکھناں واں نے پیش کی، عبد اللطیف چشتی الازہری نے اپنا خطاب کچھ یوں شروع کیا۔ اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول،تڑپی ہے تجھ پے لاش جگر گوشہ بتول۔ اسلام کے لہو سے تیری پیاس بجھ گئی۔سیراب کر گیا تجھے خُونِ رَگے رسول۔ قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔انہوں نے ذات مصطفی اور نواسہ رسول پر پر مغز بیان عطاء فرمایا، محمد نواز قادری نے نعت پیش کی۔محمد صدیق مصطفائی نے جب اپنی خوبصورت آواز میں نعت پیش کی تو روحانی ماحول پیدا کر دیا۔رسول نانا با با علی اے۔اجے وی پوچھنیں حسین کی اے۔ حسین دی ماں نبی دی تھی اے۔ اجے وی پوچھنیں حسین کی اے۔ حسین نوں چمدے رہے محمد۔سونگھدے رہے محمد، حسین زہرہ دی تازگی اے۔ اجے وی پوچھنیں حسین کی اے۔اے پنج تن دا پنجواں جی اے۔ اجے وی پوچھنیں حسین کی اے۔ سید جعفر حسین شاہ۔ وکھراں زمانے سارے توں رتبہ حسین دا۔ پیش کی۔ ڈاکٹر حافظ محمد طاہر مصطفائی جو یونیورسٹی آف فرائی برگ سے تشریف لائے تھے نے بہت پر مغز خطاب فرمایا۔انہوں نے حضرت امام حسین ؓ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کیا عالم ہو گا جن کی رگوں کے اندر سارا خون ہی مصطفی کا دوڑ رہا ہو گا۔انہوں نے ولادت عیسی ابن مربم کا واقعہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت مریم کو اگر اللہ پانی دے سکتا ہے تو دوسری طرف ادھر نبی کی بیٹی زینب تھی،تو نے اس کو پانی کیوں نہ دیا، یرا عظیم بندہ ایوب جس کے صبر کی دعائیاں تو نے قرآن میں دی ہیں انہوں نے لمبی بیماری کے بعد انہیں بھی تو پانی دیا پھر حکم دیا اپنے اوپر پانی انڈیل تجھے شفا ملے گی۔ یا اللہ تاریخ انسانی کے اندر تو نے سب کو پانی دیا۔سوال تیری عظیم بارگاہ میں ہے،تیرے عاجز بندے تجھ سے پوچھنے کی اہلیت نہیں رکھتے،لیکن ادب کے ساتھ عرض کرتے ہیں ان سب کو پانی ملا حسین کو پانی کیوں نہ ملا۔ اہل بیت نبوت کو پانی کیوں نہ ملا، اللہ کہتا ہے قرآ پڑھو،میں نے اسمائیل کو پانی اس لئے دیا کے ان کی ماں کے منہ سے آہ نکل گیا تھا،مریم کو پانی اس لئے دیا اس نے کہہ دیا تھا یا اللہ اس تکلیف میں جس میں مبتلا ہوں اس سے بہتر تھا میں ہوتی ہی ناں، میں نے ایوب کو پانی اس لئے دیا اس نے کہہ دیا تھا یا اللہ مجھے تکلیف پہنچی ہے اس نے اظہار کر دیا تھا، یا اللہ حسین کو پانی کیوں نہیں ملا اللہ کی طرف سے جواب آتا ہے،اے لوگو حسین کو پانی اس لئے نہ ملا۔مدینہ سے مکہ تک۔اور مکہ سے لے کر کربلا تک حسین کا سالا قافلہ یہی کہتا رہا لوگو ہم پانی مانگنے نہیں آئے،ہم جانیں لٹانے آئے ہیں اور نبی کا دین بچانے کے لئے آئے ہیں۔ بعد ازاں سلام و درود اور دعا کے بعد لنگر محمدی پیش کیا گیا۔


















