
۔،۔ پاکستانی پنکھوں کی یورپی منڈی میں رسائی کے امکانات۔ نذر حسین۔،۔
٭جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں دو طرفہ ملاقات میں، پاکستانی پنکھا سازی کی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، توانائی کی بچت اور یورپی مارکیٹ کے تقاضوں پر تفصیلی تبادلہ خیال٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/پاکستان/سیالکوٹ/گجرات۔ پاکستانی پنکھا سازی کی صنعت میں جدید ٹیکنالوجی اور توانائی کی بچت کے رحجان کے باعث یورپین مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کے لئے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ کو آرڈینیٹر چیئرمین، پرائم منسٹر یوتھ پروگرام برائے یورپی یونین حافظ عبد الرحمان نے جرمنی کی ایک معروف الیکٹرانک کمپنی کے سربراہ مسٹر ولیم سے دو طرفہ ملاقات کی، جس میں پاکستان میں تیار ہونے والے مختلف اقسام کے پنکھوں اور پاکستانی پنکھا ساز کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی، مسٹر ولیم نے پاکستانی مصنوعات اور پنکھا سازی کے شعبے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران حافظ عبد الرحمان نے پاکستان کی معروف پنکھا ساز کمپنیوں اور ان کی مصنوعات کے بارے میں بتایا، جن میں روائیتی چھت کے پنکھوں، فرشی پنکھوں اور جدید (اے سی۔ ڈی سی) انورٹر ماڈلز کے علاوہ توانائی کی بچت اور بہتر ایئر فلو فراہم کرنے والے مختلف ماڈلز شامل ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی پنکھا سازی کی صنعت ایک طویل عرصے سے مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے لئے مصنہعات تیار کر رہی ہے، پاکستانی کمپنیوں نے پنکھوں کی تیاری میں موٹر کی کارکردگی، بلیڈ کے ڈیزائن، ایئر فلو، بجلی کے استعمال، پائیداری اور مختلف کمروں کے سائز کے مطابق تیار کرنے کے تجربے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ملاقات کے دوران یورپی ممالک میں پنکھوں کی ممکنہ طلب اور مستقبل کی مارکیٹ پر بھی گفتگو ہوئی، مسٹر ولیم کے مطابق یورپ میں توانائی کی کھپت کو کم کرنے اور بجلی کے موئثر استعمال کی ضرورت کے باعث چھت اور فرشی پنکھوں کی مارکیٹ میں مستقبل میں مزید گنجائش پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ گفتگو کے دوران 2027 میں یورپی مارکیٹ میں پنکھوں کی طلب میں ممکنہ اضافے کا بھی ذکر کیا گیا، ملاقات میں یہ موقف سامنے آیا کہ بجلی کی کھپت، توانائی کی بچت، بیک اَپ کے ساتھ مطابقت، جدید ڈیزائن، پائیداری اور طویل مدتی کارکردگی جیسے عوامل یورپی صارفین کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ ملاقات میں پانچ لاکھ سے زائد پنکھوں کی ممکنہ طلب کا تخمینہ بھی زیر بحث آیا، تاہم اس حجم کو حتمی تجارتی آرڈر کی بجائے مارکیٹ کی ممکنہ طلب کے تناظر میں دیکھا جائے گا، کسی بھی بڑے درآمدی معاہدے کے لئے مارکیٹ، سروے، مصنوعات کی منظوری، سرٹیفکیشن، قیمت، سپلائی چین اور متعلقہ یورپی ضوابط کی تکمیل ضروری ہو گی۔ حافظ عبد الرحمان نے مسٹر ملیم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی پنکھا ساز کمپنیوں کو یورپی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لئے یورپی یونین کے مقرر کردہ تکنیکی، حفاظتی اور معیار کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مصنوعات تیار کرنا ہو گی۔ انہوں نے مسٹر ولیم کو بتایا کہ پاکستانی پنکھا سازی کی صنعت میں متعدد معروف برانڈز موجود ہیں جو ایئر فلو، توانائی کے استعمال، قیمت، وارنٹی اور مصنوعات کی پائیداری کے حوالے سے صارفین میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں، اگر یہی صنعت عالمی معیار کے مطابق اپنی مصنوعات کو مزید بہتر بنائے تو پاکستانی پنکھوں کے لئے بین الاقوامی مارکیٹ میں مزید وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ حافظ عبد الرحمان نے جنذبہ نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پنکھوں کی تیاری کے دوران کمرے کے سائز اور ساخت کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، کسی بھی موثر کاکردگی کا تعلق کمرے کے رقبے،چھت کی بلندی، مطلوبہ ایئر فلو، اور موٹر کی طاقت اور بلیڈ کے ڈیزائن سے ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طاقتور اور موئثر ایئر فلو کے لئے کس قسم کا بلیڈ، کس سائز کی موٹر اور کس ڈیزائن کا پنکھا زیادہ موزوں ہو گا، یہ تمام عوامل پاکستانی پنکھا ساز کمپنیوں کی پیداواری منصوبہ بندی میں شامل کئے جاتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ عبد الرحمان نے کہا کہ اگر پاکستانی پنکھا ساز کمپنیاں معیار، وارنٹی، خام مال، موٹر کی کارکردگی، فنشنگ اور جدید ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی معیار کی مصنوعات تیار کریں تو پاکستان کے لیے پنکھوں کی برآمدات میں مزید اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعت کو صرف قیمت کے مقابلے کے بجائے معیار اور کارکردگی کی بنیاد پر یورپی مارکیٹ میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پاکستانی پنکھوں کی تیاری میں جمالیات کے ساتھ ساتھ فنکشن، توانائی کی بچت، مضبوط ایئر فلو، کم شور، پائیداری اور طویل مدتی کارکردگی کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔حافظ عبد الرحمان نے مزید کہا کہ بہترین وارنٹی اور بعد از فروخت سروس بھی کسی بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں مصنوعات کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی کمپنیوں کو یورپی صارفین کے اعتماد کے لیے واضح وارنٹی پالیسی، معیار کی مستقل نگرانی اور بعد از فروخت خدمات کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔جرمنی میں ہونے والی اس ملاقات کو پاکستانی پنکھا سازی کی صنعت کو یورپی مارکیٹ سے متعارف کرانے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر پاکستانی کمپنیاں یورپی مارکیٹ کے تکنیکی اور حفاظتی تقاضوں پر پورا اترنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو اس شعبے میں برآمدات، سرمایہ کاری، روزگار اور صنعتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔یورپی مارکیٹ میں کامیابی کے لیے پاکستانی صنعت کو جدید ٹیکنالوجی، توانائی کی بچت، مصنوعات کے معیار، سرٹیفکیشن، قیمت، ڈیزائن، پائیداری اور صارفین کی ضروریات پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔پاکستان کے پاس پنکھا سازی کے شعبے میں طویل تجربہ، پیداواری صلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت موجود ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صنعتی تجربے کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ پاکستانی مصنوعات دنیا کی بڑی مارکیٹوں میں مزید مضبوط مقام حاصل کرسکیں۔اگر پاکستانی پنکھا ساز کمپنیاں یورپی معیار اور صارفین کی ضروریات کے مطابق اپنی مصنوعات کو کامیابی سے ڈھالنے میں کامیاب رہیں تو آنے والے برسوں میں پاکستانی پنکھوں کے یورپی ممالک میں نظر آنے کے امکانات مزید روشن ہوسکتے ہیں۔



