۔،۔جرمنی کے تاریخی شہر میونخ میں عید میلاد النبیﷺ کانفرنس کا شاندار انعقاد۔ نذر حسسین ۔،۔
٭5 ستمبر 2026 کو میونخ کی جامع مسجد صوفیا میں با برکت محفل عید میلاد النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیاگیا، جو یقیناََ ہمارے لئے خوشی، محبت اور عقیدت کا عظیم موقع مہیا کرتی ہے، نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لئے اللہ تعالی کی عظیم نعمت اور رحمت ہے٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/میونخ۔ 5 ستمبر 2026 کو میونخ کی جامع مسجد صوفیا میں عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلہ میں ایک ایسی عظیم اور بابرکت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں جرمنی بھر سے کثیر تعداد میں عاشقان رسول ﷺ علماء کرام، سیاسی، مذہبی، کاروباری اور سماجی شخصیات سمیت کمیونٹی کے افراد نے بھر پور شرکت کی۔ یہ بابرکت محفل اہل ایمان کے لئے محبت، عقیدت، خوشی اور روحانی مسرت کا ایک حسین موقع تھی، نبی کریم، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت ِ باسعادت پوری انسانیت کے لئے اللہ تعالی کی عظیم نعمت اور رحمت ہے،آپ ﷺ کی تشریف آوری سے جہالت کے اندھیروں میں علم و ہدایت کا چراخ روشن ہوا اور انسانیت کو ایک ایسا ضابطہ حیات عطاء ہوا جو قیامت تک کے لئے مشعل راہ ہے۔، کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس سے محفل کا روحانی ماحول مزید منور ہو گیا، نظامت کے فرائض چوہدری محمد احسن تارڑ نے بڑی خوش اسلوبی ، محبت اور خوبصورت انداز میں سر انجام دیئے۔ انہوں نے جرمنی بھر سے تشریف لانے والے تمام معزز مہمانوں اور محفل کو اس شرکت سے با برکت بنانے والے عاشقان رسول ﷺ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ محفل کے دوران نعت خواں حضرات نے اپنی دلنشیں اور پرسوز آوازوں میں بارگاہ رسالت مآب میں نعت رپول مقبولﷺ اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں حمد و ثنا کے نذرانے پیش کئے، نعتیہ کلام کے دوران حاضرین پر ایک روحانی کیفیت طاری رہی جبکہ مسجد صوفیا کا ماحول درود و سلام اور محبت رسولﷺ سے گونجتا رہا۔ کانفرنس کے مہمانِ خصوصی حضرت علامہ حافظ پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے ختمِ نبوت ﷺ اور ولادتِ باسعادتِ نبی کریم ﷺ کے موضوع پر نہایت جامع، مدلل، پُرمغز اور ایمان افروز خطاب فرمایا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رحمتُ للعالمین قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو صرف عبادات کا طریقہ ہی نہیں بتایا بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل اور بہترین راستہ بھی عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے ہمیں سچ بولنے، وعدہ پورا کرنے، والدین کا احترام کرنے، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے، باہمی محبت، اخوت اور انسانیت کا درس دیا۔








