-,-مطیع اللہ جان – اردو صحافت کا ایک روشن چراغ جو بجھ کر بھی دلوں میں روشن رہے گا- 0

-,-مطیع اللہ جان – اردو صحافت کا ایک روشن چراغ جو بجھ کر بھی دلوں میں روشن رہے گا-

0Shares

-,-مطیع اللہ جان – اردو صحافت کا ایک روشن چراغ جو بجھ کر بھی دلوں میں روشن رہے گا-

*10 اکتوبر، صبح 8 بج کر 30 منٹ۔یہ محض گھڑی کی سوئیاں رکنے کا وقت نہیں تھا، یہ ایک ایسے دل کے دھڑکنا بند ہونے کا لمحہ تھا جس میں صحافت کا درد، انسانیت کی محبت، حوصلے کی روشنی اور زندگی سے لڑنے کا جنون بسا ہوا تھا۔ یہ وہ ساعت تھی جب کینسر جیسی موذی بیماری سے برسوں برسرِ پیکار رہنے والا ایک بہادر، باہمت اور نڈر انسان، مطیع اللہ جان، زندگی کی آخری جنگ ہار گیا۔*

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/برلن/کراچی۔کاش! وقت کی رفتار تھم جاتی۔ کاش! قدرت اس بہادر انسان کو چند سانسوں کی مزید مہلت دے دیتی۔ کاش! ہم اس خبر کو محض ایک بھیانک خواب سمجھ کر آنکھیں کھولتے اور مطیع اللہ جان حسبِ معمول اپنی مسکراہٹ، خندہ پیشانی اور محبت بھرے لہجے کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہوتے۔ مگر افسوس! زندگی کے بے رحم فیصلے کبھی کبھی انسان کو ایسے زخم دے جاتے ہیں جن پر وقت مرہم تو رکھتا ہے، مگر انہیں مکمل طور پر بھر نہیں پاتا۔مطیع اللہ جان محض ایک نام نہیں تھا، وہ ایک عزم، ایک حوصلہ، ایک روشن فکر اور صحافت سے محبت کرنے والے ایک ایسے انسان کی پہچان تھے جنہوں نے بیماری کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے آخری دم تک مزاحمت کی۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں تو زندگی نے ان کے سامنے ایک کٹھن امتحان رکھ دیا۔ آپریشن پر آپریشن ہوئے، جسم کمزور ہوتا گیا، طاقت جواب دینے لگی، مگر ان کے حوصلے کی شمع دیر تک روشن رہی۔جسم پر زخم بڑھتے رہے، درد کی شدت میں اضافہ ہوتا رہا، قوتِ مدافعت کمزور پڑتی گئی، لیکن اس مردِ مجاہد نے زندگی سے اپنا رشتہ آسانی سے ٹوٹنے نہ دیا۔ وہ بیماری سے لڑتے رہے، گویا ہر گزرتا دن موت کے سامنے ان کا ایک نیا اعلان تھا کہ ابھی میں ہارا نہیں، ابھی میرے حوصلے زندہ ہیں۔مگر پھر وہ منحوس صبح آ پہنچی جس نے ہم سب کو غم کی ایک ایسی وادی میں دھکیل دیا جہاں سے واپسی کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ 10 اکتوبر کو صبح 8 بج کر 30 منٹ پر مطیع اللہ جان کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا۔ وہ انسان جو دوسروں کے حوصلے بڑھاتا تھا، خود زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے خاموش ہوگیا۔ ان کی خاموشی نے ہمارے دلوں میں ایک ایسا شور برپا کیا جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔کچھ لوگ دنیا سے رخصت نہیں ہوتے، وہ اپنے پیچھے ایسی کمی چھوڑ جاتے ہیں جسے زمانے کی کوئی دولت، کوئی شہرت اور کوئی کامیابی پُر نہیں کرسکتی۔ مطیع اللہ جان بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔صحافت سے محبت، کردار سے عظمت-مطیع اللہ جان نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کراچی سے کیا، جہاں وہ مختلف ذرائع ابلاغ سے وابستہ رہے۔ کراچی پریس کلب میں ان کی سرگرمیاں بھی ان کی صحافتی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔ صحافت ان کے لیے محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسی وابستگی تھی جسے وہ اپنی شناخت اور اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔بعد ازاں جرمنی میں روزمرہ زندگی کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ انہوں نے صحافتی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھا۔ دیارِ غیر میں رہتے ہوئے اپنی زبان، اپنی صحافت اور اپنی کمیونٹی کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا کوئی معمولی بات نہیں۔ مطیع اللہ جان نے اس ذمہ داری کو پوری دل جمعی سے نبھایا۔پاکستان جرمن پریس کلب کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے ان کی خدمات قابلِ قدر تھیں۔ اپنے چند صحافی ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستان جرمن پریس کلب کی بنیاد رکھنے میں ان کا کردار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی راستے بنانے کا جذبہ رکھتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل، ان کی آواز اور ان کی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے صحافت ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسی سوچ نے انہیں اپنی مصروفیات کے باوجود صحافتی میدان میں فعال رکھا۔ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت عہدے یا شہرت میں نہیں، بلکہ اس خلوص میں ہے جس کے ساتھ انسان دوسروں کے لیے کام کرتا ہے۔ایک مسکراہٹ، جو اب یاد بن گئی,مطیع اللہ جان کی شخصیت کا سب سے خوب صورت پہلو ان کا ملنسار اور خوش اخلاق ہونا تھا۔ وہ جس محفل میں بیٹھتے، اپنے اندازِ گفتگو اور محبت بھرے رویے سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے۔ ان کی مسکراہٹ، ان کا خندہ پیشانی سے ملنا اور دوسروں کو عزت دینا ان کی پہچان تھا۔ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں جن کے ساتھ چند لمحے گزارنے کے بعد بھی ان کی موجودگی دل میں دیر تک محسوس ہوتی رہے۔ مطیع اللہ جان انہی لوگوں میں شامل تھے۔آج جب ان کی یاد آتی ہے تو دل سوال کرتا ہے کہ وہ محفلیں کہاں گئیں؟ وہ گفتگو کہاں گئی؟ وہ ہنستا مسکراتا چہرہ کہاں گیا؟ وہ شخص کہاں چلا گیا جسے ہم نے اپنے درمیان ہمیشہ موجود رہنے والا سمجھ لیا تھا؟اب نہ ان کی آواز سنائی دے گی، نہ ان کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملے گا، نہ کسی محفل میں اچانک ان سے ملاقات ہوگی۔ اب اگر کچھ باقی ہے تو ان کی یادیں ہیں، ان کی محبت ہے، ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات ہیں اور ایک ایسا خلا ہے جو شاید زندگی بھر ہمارے ساتھ رہے گا۔وہ دن، جب میرے اندر کا انسان بھی ٹوٹ گیا,میری ذاتی زندگی میں مطیع اللہ جان کی وفات کا صدمہ محض ایک ساتھی کے بچھڑنے کا غم نہیں، بلکہ ایک ایسے عزیز رفیق کی جدائی ہے جس کے ساتھ میرا صحافتی اور انسانی تعلق وابستہ تھا۔ وہ ہمارے پریس کلب کے جنرل سیکریٹری تھے اور ان کے ساتھ ہمارا تعلق محض عہدے اور ذمہ داری تک محدود نہیں تھا۔5 اکتوبر کو میں عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوا۔ دل میں حرمِ کعبہ کی حاضری کی خوشی تھی، لبوں پر دعائیں تھیں اور روح اللہ کے گھر کی زیارت کے تصور سے سرشار تھی۔ عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد 10 اکتوبر کو میں مدینہ منورہ کے سفر پر روانہ ہوا۔ وہاں نماز ادا کی، اپنے رب کے حضور سر جھکایا اور پھر ہوٹل واپس پہنچا۔لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ اس دن میرے انتظار میں ایک ایسی خبر بیٹھی ہے جو میری زندگی کی خوشیوں پر غم کا سایہ ڈال دے گی۔ہوٹل پہنچ کر جب میں نے یہ خبر دیکھی تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے وقت کے بے رحم ہاتھ نے میری زندگی کا ایک اہم حصہ مجھ سے چھین لیا ہو۔ مطیع اللہ جان اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔وہ خبر کیا تھی، جیسے کسی نے میرے سینے میں ایک خنجر اتار دیا ہو۔ جس دل نے ابھی مدینہ منورہ میں دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھائے تھے، وہی دل اچانک غم کے بوجھ تلے دب گیا۔ جس زبان پر ابھی تک دعا اور ذکر جاری تھا، وہ غم کی شدت سے گنگ ہوگئی۔میں وہاں موجود تھا جہاں لوگ اپنے پیاروں کی مغفرت کے لیے دعائیں مانگتے ہیں، مگر میرے اپنے دل کا ایک عزیز ساتھی مجھ سے اتنی دور چلا گیا تھا کہ میں نہ اس کے پاس پہنچ سکتا تھا، نہ اس کا ہاتھ تھام سکتا تھا، نہ اس کے چہرے کو آخری بار دیکھ سکتا تھا۔اس لمحے میرا چٹان جیسا مضبوط جسم بھی جواب دے گیا۔ دل کا صدمہ اتنا شدید تھا کہ میں بیمار پڑ گیا اور مجھے اسپتال پہنچانا پڑا۔ اللہ اللہ کرکے، بڑی مشکل سے ڈسچارج سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور واپسی کا سفر شروع کیا۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ پہنچنے پر بھی مجھے اسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج اور تکلیف کے ان مراحل سے گزرنے کے بعد 14 اکتوبر کو گھر پہنچ سکا۔مگر گھر تو پہنچ گیا، دل کہاں واپس آیا؟جسم گھر کی دہلیز پر تھا، مگر دل اب بھی اسی خبر کے ملبے تلے دبا ہوا تھا جس نے میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے بار بار مطیع اللہ جان کا چہرہ آتا، ان کی باتیں یاد آتیں اور دل میں ایک ہی حسرت اٹھتی کہ کاش! میں ان کے آخری لمحات میں ان کے پاس ہوتا۔نہ جنازہ پڑھ سکا، نہ آخری دیدار نصیب ہوا13 اکتوبر کو مطیع اللہ جان کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی اور ان کے جسدِ خاکی کو پاکستان روانہ کردیا گیا۔ مگر میں، جو ان کا ساتھی تھا، ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکا۔ میں ان کے آخری دیدار سے بھی محروم رہا۔یہ محرومی میرے لیے ایک ایسا درد ہے جسے شاید وہی سمجھ سکتا ہے جس نے کسی اپنے کو کھویا ہو اور پھر اس کے آخری سفر میں شریک ہونے کی حسرت بھی دل میں لیے بیٹھا ہو۔انسان زندگی بھر کتنے ہی لوگوں سے ملتا ہے، کتنے ہی رشتے بناتا ہے، کتنی ہی محفلوں میں بیٹھتا ہے، لیکن جب کوئی اپنا دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو دل یہی چاہتا ہے کہ کم از کم آخری بار اس کا چہرہ دیکھ لے، اس کے جنازے کے ساتھ چند قدم چل لے، اس کی قبر پر کھڑے ہوکر اس کے لیے دعا کرلے۔مگر میری قسمت میں یہ سعادت نہ تھی۔آج بھی دل میں ایک خلش ہے، ایک سوال ہے، ایک ادھوری خواہش ہے۔ کاش میں ان کے جنازے میں شریک ہوتا! کاش میں ان کے آخری دیدار سے محروم نہ رہتا! کاش میں ان کے لیے اپنے ہاتھ اٹھا کر وہ دعائیں مانگ سکتا جو ایک ساتھی اپنے بچھڑنے والے ساتھی کے لیے مانگتا ہے!لیکن شاید زندگی کا نام ہی انہی ادھوری خواہشوں، نامکمل ملاقاتوں اور دل میں رہ جانے والی حسرتوں کا مجموعہ ہے۔مطیع اللہ جان! آپ کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگیآج مطیع اللہ جان ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی خدمات، ان کی خوش اخلاقی، ان کی صحافتی وابستگی اور ان کی جدوجہد ہمارے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ موت انسان کے جسم کو ہم سے جدا کرسکتی ہے، مگر اس کے کردار اور اس کی اچھی یادوں کو ہم سے نہیں چھین سکتی۔آپ نے بیماری کے سامنے ہمت نہیں ہاری۔ آپ نے اپنی صحافتی وابستگی کو زندہ رکھا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ادارے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا۔ آپ نے اپنی خوش اخلاقی سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔اب آپ کی جگہ خالی ہے، لیکن آپ کا ذکر باقی رہے گا۔ آپ کی یادیں ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ آپ کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات ہمیں بار بار یہ احساس دلائیں گے کہ ہم نے ایک ایسے انسان کو کھویا ہے جس کی موجودگی ہمارے لیے باعثِ مسرت تھی۔کاش! جدائی کا کوئی علاج ہوتا۔ کاش! موت کے فیصلے کو پلٹنے کا کوئی اختیار ہوتا۔ کاش! ہم ایک بار پھر آپ کو اپنے درمیان بیٹھا دیکھ سکتے، آپ کی آواز سن سکتے اور آپ کی مسکراہٹ سے اپنی محفل کو روشن کرسکتے۔مگر اب یہ سب صرف یادوں میں ممکن ہے۔مطیع اللہ جان! آپ چلے گئے، مگر آپ کی یاد ہمارے ساتھ رہے گی۔ آپ کا چراغ بجھ ضرور گیا، لیکن اس کی روشنی ہمارے دلوں میں باقی رہے گی۔آخری دعا,اے میرے رب! اے کعبہ کے مالک، اے رحمتوں کے خالق، اے دلوں کے حال جاننے والے!مطیع اللہ جان تیرے حضور حاضر ہوچکے ہیں۔ یا اللہ! ان کی زندگی کی تمام نیکیوں کو قبول فرما، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما اور ان کے ساتھ اپنی رحمت و مغفرت کا معاملہ فرما۔یا اللہ! ان کی آنے والی تمام منازل آسان فرما۔ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے اور ان کے درجات بلند فرما۔اے اللہ! جس طرح انہوں نے زندگی میں بیماری کی سختیوں کا مقابلہ کیا، اسی طرح تو اپنی رحمت سے ان کی آخرت کے تمام مراحل آسان فرما۔ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔یا رب العالمین! ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرما۔ ان کے عزیزوں، دوستوں اور صحافتی ساتھیوں کے دلوں کو سکون عطا فرما۔ ان کے بچوں اور گھر والوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھ اور ان کی جدائی کے زخموں پر اپنی رحمت کا مرہم رکھ دے۔اے اللہ! میرا یہ غم، میری یہ محرومی اور میرے دل کی یہ بے قراری تیرے سامنے ہے۔ میں ان کا آخری دیدار نہ کرسکا، ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکا، مگر تو میرے دل کے حال سے واقف ہے۔ میری اس بے بسی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور میرے ساتھی کو اپنی بے پایاں رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرما۔آمین یا رب العالمین۔مطیع اللہ جان! الوداع!آپ کی جدائی کا دکھ الفاظ میں سمٹ نہیں سکتا۔ آپ کی یاد آنکھوں کو نم کرتی رہے گی اور آپ کی کمی دل کو ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔اللہ کریم آپ کی تمام اگلی منازل آسان فرمائے، آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آپ کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔بعض چراغ بجھ کر بھی روشنی دیتے رہتے ہیں، اور بعض لوگ بچھڑ کر بھی دلوں سے کبھی جدا نہیں ہوتے۔ مطیع اللہ جان، آپ بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔اللہ حافظ، میرے عزیز ساتھی۔ آپ ہمیشہ ہماری دعاؤں اور یادوں میں زندہ رہیں گے۔اِنَا لِلّہِ وَ اِنَا اّلَیہِ رَاجِعُونَ

 

اِنَا لِلّہِ وَ اِنَا اّلَیہِ رَاجِعُونَ

مطیع اللہ جان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں