
۔،۔ آزادی کا ایوارڈ اور بڑا احتجاج،شاہ کے بیٹے کی فرینکفرٹ میں مخالفت کیوں ہو رہی ہے۔ نذر حسین۔،۔
٭ایک متناز ع سابق قیصر محمد رضاء شاہ پہلوی کا بیٹا، آزادی کا ایوارڈ اور (30تیس ہزار )مظاہرین متوقع ہیں، ہفتے کے روز جرمنی کے شہر فرینکفرٹ ایران کے معاملے پر احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بننے جا رہا ہے٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/واشنگٹن/تہران۔ غیر ملکی اور مقامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق سابق قیصر محمد رضاء شاہ پہلوی کا بیٹا رضا پہلوی آزادی کا ایوارڈ حاصل کرنے کی غرض سے واشنگٹن سے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے(ہیسش ہوف ہوٹل)میں پہنچ چکے ہیں جبکہ ہوٹل کے چاروں طرف سپیشل سیکورٹی گارڈ تعینات کئے جا چکے ہیں کیونکہ فریڈرک ناومان فاونڈیشن کی جانب سے فرینکفرٹ کے تاریخی مقامی ہال (پاولز کرشے) میں رضا پہلوی کو آزادی کا ایوارڈ دیا جائے گا، حقیقی طور پر یہ ایوارڈ ایرانی عوام کو دیا جانا چاہیئے، تاہم اسے چلاوطن ایرانی سیاست دان اور سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی وصول کریں گے۔اس فیصلے پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور اس کے خلاف احتجاج بھی ہو رہے ہیں، واضح رہے رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ان کی پیدائش تہران میں ہوئی اور انہیں مستقبل کا بادشاہ بننے کے لئے ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔ 1979 میں اسلامی انقلاب کے دوران ان کے والد کی حکومت ختم ہو گئی جبکہ اس وقت رضا پہلوی امریکا میں پائلٹ کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ اس کے بعد وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اس وقت واشنگٹن کے فریب رہائش پذیر ہیں۔ رضا پہلوی اسلامی جمہوریہ ایران کی مخالفت کرنے والی اپوزیشن کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، رضا پہلوی ایک جمہوری اور سیکولر ریاست کے حامی ہیں،جہاں مذہب اور سیاست الگ الگ ہوں، تاہم وہ یہ طے نہیں کرنا چاہتے کہ مستقبل کا ایران جمہوریہ ہو گا یا دوبارہ بادشاہت قائم ہو گی جو اس دور میں ایک ناممکن سی بات لگتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایران کے عوام کو خود ریفرینڈم یا جمہری طریقے سے اپنے ملک کے مستقبل کے نظام کا فیصلہ کرنا چاہیئے۔ رضا پہلوی نے خود کو ممکنہ عبوری حکومت کی قیادت کے لئے بھی پیش کیا ہے، خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ آزادانہ انتخابات اور نئے آئین کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ چلتے ہیں کہ رضا پہلوی کو آزادی کا ایوارڈ کیوں دیا جا رہا ہے؟در حپیپت یہ ایوارڈ ذاتی طور پر رضا پہلوی کو نہیں بلکہ ایرانی عوام کو دیا جا رہا ہے۔آزاد خیال سیاسی جماعت (ایف۔ڈی۔پی) سے قریبی تعلق رکھنے والی فریڈرک ناومان فاونڈیشنکا مقصد ان ایرانی شہریوں کی ہمت اور جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جو ظلم،جبر اور سیاسی انتقامی کاروائیوں کے باوجود آزادی، شہری حقوق اور جمہوریت کے لئے آواز اُٹھا رہے ہیں۔فاونڈیشن کے سربراہ اسٹیفن زائبش کے بیان کے مطابق ٭ہمیں لاکھوں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں آزادی کے خواہش مند لوگوں کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مفاہمت کے لئے ان کی کوششوں کو بھی سراہا گیا ہے۔اس قیصلے پر بنیادی اعتراض یہ ہے کہ۔شاہ کے دور میں سیاسی مخالفین کو گرفتار کیا جاتا تھا،انہیں جیلوں میں رکھا جاتا تھا اور خفیہ ادارے ساواک پر سیاسی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات بھی تھے۔ رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی شاہ کے دور حکومت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل میں بیان کیا تھا جبکہ جرمنی کی تنظیم سوسائٹی فارتھر یٹینڈ پیپلز کا الزام ہے کہ رضا پہلوی نے اپنے والد کے دور میں ہونے والے جرائم سے واضح طور پر لاتعلق ظاہر نہیں کی، فریڈرک ناومان فاونڈیشن کو لکھے گئیایک کھلے خط میں کئی معروف جرمن شخصیات نے بھی اس قیصلے پر تنقید کی ہے۔مثال کے طور پر۔جرمنی کے سابق اقوام متحدہ کے سفیر یو آخیر روکر۔ سابق وزیر انصاف۔بریگیٹے ذیریس۔ جرمن پارلیمنٹ بنڈس ٹاگ کے سابق صدر وولف گانگ تھیئرز، اس کے علاوہ متعدد ایرانی تنظیموں اور سابق سیاسی قیدیوں نے بنی فیصلے پر احتجاج کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریلی میں تقریباََ (چوبیس ہزار افراد کی شرکت ممکن ہے) متوقع شرکاء تقریباََ تیس ہزار۔ ریلی کا وقت صبح (آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک ہو گا) جلسے کا وقت (دس بجے سے رات کو نُو بجے تک ہو گا) سیکورٹ وجوعات کی بنا پر انتظامیہ نے مائن دریا کے کنارے سے اوسٹ پارک منتقل کر دیا ہے۔ برلن اسٹریٹ۔بروک ہاوس برونن اور روس ماکٹ پر بھی ایران کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔




